کامن ویلتھ کرکٹ ٹیم ستمبر میں پاکستان کا دورہ کریگی: شہریار

03 جنوری 2016

لاہور (حافظ محمد عمران/ نمائندہ سپورٹس) ستمبر میں موجودہ کرکٹرز پر مشتمل کامن ویلتھ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ لاہور اور کراچی میں میچز کھیلے جائیں گے۔ بھارت کے خلاف ایم او یو کی پابندی نہ کرنے پر مالی نقصان کا مقدمہ دائر کرسکتے ہیں۔ نجم سیٹھی سے تیس سال پرانے تعلقات ہیں، کوئی اختلاف نہیں۔ ان خیالات کا اظہارپاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے وقت نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سپرلیگ کے لئے آئندہ برس کھلاڑیوں سے پاکستان میں کھیلنے کے معاہدے پر بھی دستخط کروائیں گے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں بے جان وکٹوں پر میچز ہوتے ہیں۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پہلے دور میں کرکٹ کا ڈکٹیٹر تھا جو چاہتا تھا کرلیتا تھا۔ اب منتخب ہوا ہوں تو گورننگ بورڈ کی مشاورت سے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ ملک بھر میں این سی اے کے زیرانتظام کرکٹ اکیڈمیز کا جال بچھائیں گے۔ پاکستان سپر لیگ سے مستقبل میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ آئندہ برسوں میں کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے کرتے وقت پاکستان میں کھیلنے کی شرط بھی شامل کریں گے۔ پی ایس ایل کے میچز پاکستان میں ہوتے ہیں تو اس سے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔ بھارت کے ساتھ جھکائو والا رویہ نہیں تھا۔ بی سی سی آئی خود پاکستان کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے۔ شتانک منوہر نے ہمارے ساتھ خود اس حوالے سے بات کی تھی۔ ہم نے انہیں صرف معاہدے کی پاسداری پر زور دیا تھا۔ ہم بھارت کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی پر مالی نقصان کا مقدمہ کرسکتے ہیں۔ بھارت میں کھیلی جانے والی ورلڈ20,20 چمپئن شپ میں پاکستان ٹیم کی شرکت کا فیصلہ حکومتی اجازت کے بعد کریں گے۔ سابق چیئرمین تنقید کرتے ہیں لیکن وہ حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں۔مثبت اور تعمیری تنقید کو ویلکم کرتا ہوں۔ مرحلہ وار سٹاف میں کمی کی جائے گی۔ انڈر 16 ٹیم نے آسٹریلیا کوشکست دے کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ہیڈ کوچ وقار یونس اور ان کے کوچنگ سٹاف کی کارکردگی اچھی ہے۔ وہ بہت محنت کرتے ہیں۔ ان کے معاہدے میں تسلسل کے پیش نظر توسیع کا حامی ہوں۔ موجودہ سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی سے بھی خوش ہوں۔ سلیکشن کے معاملات میںمداخلت نہیں کرتا لیکن جنرل گائیڈ لائن ضرور دیتا ہوں۔ بہتر مشوروں کیلئے مصباح الحق اور یونس خان کو گورننگ بورڈ کا ایڈوائزر مقرر کیا ہے۔ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں معیار کو بہتر بنانے کے لئے محکموں اور علاقائی ٹیموں کے الگ الگ مقابلوں پر بھی غور کررہے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں پچز غیر معیاری ہیں۔ ستمبر 2016ء میں دنیا کے ٹاپ پلیئرز پر مشتمل کامن ویلتھ کرکٹرز کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس سلسلے میں جائلز کلارک بہت کام کررہے ہیں۔ کئی نامور کھلاڑیوں سے معاہدہ بھی کرچکے ہیں۔ پاکستان میں مرحلہ وار بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی پر کام کررہے ہیں۔ محمد عامر کو کھیلانے میں کوئی جلد بازی نہیں کی۔ آئی سی سی سمیت پوری دنیا اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے۔وہ ساتھی کرکٹرز سے متعدد بار معافی بھی مانگ چکا ہے، اس نے غلطی کی سزا بھگت لی ہے، کھلاڑیوں نے بھی ا ب اسے گلے لگا لیا ہے۔ اظہرعلی اور محمد حفیظ کو بھی سمجھایا ہے کہ بورڈ کی پالیسی کیا ہے۔ دورہ نیوزی لینڈ کے لئے محمد عامر ویزہ پر وہاں ایک الگ کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ ویزے کا مسئلہ بھی حل ہوچکا ہے۔ ملک بھر میں نیشنل اکیڈمی کے ماتحت کرکٹ اکیڈمیز کا جال بچھانا چاہتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو مقامی سطح پر ہی اچھی کوچنگ ملے، قومی ٹیم میں آنے سے پہلے انہیں بنیادی چیزیں سیکھنے کا موقع مل سکے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندوں کا معیار بھی بہتر بنائیں گے۔وقار یونس اور ساتھی کوچز اچھا کمبی نیشن بنانے کیلئے محنت کررہے ہیں۔ کوچنگ سٹاف اور سلیکشن کمیٹی کو اس شعبے میں بہتری کا ٹاسک دیا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اچھی درجہ بندی کو مستحکم رکھنے کی ضرورت ہے۔ دوبارہ چیئرمین نہیں بننا چاہتا تھا، حالات اور ملک کی ضرورت کے مطابق میدان میں آیا۔ اب منتخب چیئرمین ہوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں، پہلے دور میں کرکٹ کا ڈکٹیٹر تھا جو چاہتا تھا، کر لیتاتھا، اب فیصلے گورننگ بورڈ کی مشاورت اور اجازت سے کئے جاتے ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل بورڈ آف گورنرز کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ بھارت کیساتھ کرکٹ تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ شسما سوراج کے دورئہ پاکستان کے بعد حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔ سیاست اور کھیل کو الگ الگ رکھنے کی ضرورت ہے۔