بھارت جانے کی شرمندگی؟

03 جنوری 2016

میں حیران ہوں اور پریشان بھی۔ ’’حریان پریان‘‘ کہ ہمارے دوستوں فنکاروں شاعروں اداکاروں اداکارائوں اور سیاستدانوں کو کیا شوق ہے کہ وہ بے عزتی کے باوجود بھارت جانے کیلئے بے تاب رہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے تو حد کر دی ہے۔ اس نے بھارت کیساتھ کرکٹ کھیلنے کے شوق میں کوڑا کرکٹ سے اپنے ہاتھ منہ بھی بھر لئے مگر ڈھٹائی کی حد کر دی۔ اب یہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوا ہے مگر خان صاحب ابھی تک امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اپنے محبوب یا محبوبہ کی بدسلوکی کے بعد بھی آدمی کچھ خیال کر لیتا ہے۔ یہ بات بھی نہیں کہ مرزا غالب کی طرح یہ بات کہہ دی جائے…؎

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
نجم سیٹھی نے بھی رسوائی کے ریکارڈ توڑ دئیے مگر شہریار خان ان سے زیادہ نواز شریف کے پسندیدہ چیئرمین کرکٹ بورڈ بن گئے ہیں۔ انہیں تاحیات چیئرمین بنانے کی افواہیں بھی پھیل رہی ہیں۔ بھارت میں جا کے جو کچھ ہوا اور شہر یار خان کی اہلیہ محترمہ نے بھی کردار ادا کیا تو اس کے بعد بھارت سے کرکٹ کھیلنے کا ارادہ بھولا ہوا وعدہ بن جانا چاہیے تھا۔
نجانے شہر یار خان سے وعدہ کس نے کیا ہے؟ یہ کس طرح کا وعدہ ہے جو بار بار کیا جاتا ہے اور توڑ دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے غیور اور دلیر وزیر داخلہ چودھری نثار نے بہت واضح بات کی ہے۔ بھارت جا کے نہ کھیلنے کے مشورے پر عمل ہونا چاہیے تھا ہمیں بھارت نے نہیں آنے دیا۔ مگر جانے کی حسرت ابھی زندہ ہے۔ ہم زندہ ہیں یا شرمندہ ہیں۔ ہمیں پتہ ہی نہیں شاید شہر یار خان کو پتہ ہو، وہ بتائیں گے نہیں۔ ان کے نزدیک زندہ ہونے اور شرمندہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آخر کار بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کسی دوسرے ملک میں بھی نہیں ہو سکا۔ شہریار خان کیلئے بڑا افسوس اور شرمندگی ہے؟
راحت فتح علی خان کتنی بار بھارت کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو چکا ہے اور ہمارے لئے بھی بہت ذلت اور اذیت کا باعث بن چکا ہے۔ یہ لوگ صرف دولت کیلئے بھارت جاتے ہیں۔ دولت کمانا ٹھیک ہے مگر اس کیلئے اپنی عزت اور عزت نفس دائو پر لگانا کسی قیمت پر مناسب نہیں ہے۔ راحت فتح علی خان کو جو کچھ ملا ہے وہ نصرت فتح علی خان کی بدولت ملا ہے یہ ’’بدولت‘‘ دولت سے زیادہ بیش بہا ہے۔ میں نے نصرت فتح علی خان سے ملاقات کی تھی۔ وہ قلندر آدمی تھے۔ انہیں موسیقی اور گلوکاری سے عشق تھا۔ اللہ نے انہیں عزت اور شہرت عطا کی تھی۔ مگر وہ اس سے بے نیاز تھے۔ وہ اچانک فوت ہو گئے تو راحت فتح علی خان کی لاٹری نکل آئی۔ نصرت فتح علی خان نے قوالی کو اللہ والوں اور دل والوں کی بارگاہ میں سوالی بنا دیا تھا۔ انہوں نے قوالی اور پاپ گلوکاری کو یکجا کر لیا تھا اور یکتا ہو گئے تھے۔ قدیم و جدید کے امتزاج سے اپنی گلوکاری کا ایسا مزاج بنایا کہ وہ سننے والوں کے دلوں میں اتر گئی۔ موسیقی کے دلدادہ لوگوں نے راحت فتح علی خان کے روپ میں نصرت فتح علی خان کو تلاش کرنیکی کوشش کی۔
حیدرآباد بھارت میں راحت فتح علی خان کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ وہ حیدرآباد میں کسی بڑی تقریب میں شرکت کیلئے گئے تھے۔ راحت فتح علی کو واپس بھیج دیا گیا۔
اسے اپنا سامان بھی خود اٹھا کے جہاز تک لانا پڑا۔ وہ بھارت میں کئی نغمے گا چکے ہیں۔ بلکہ گنوا چکے ہیں۔
پاکستان میں مودی اور اس کے سینکڑوں ساتھی بغیر ویزے کے لاہور آ جاتے ہیں۔ ان کی خاطر مدارات کیلئے لاکھوں روپے کا بل پی آئی اے لاہور کو ادا کرنا پڑا۔ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والوں کی مذمت بھی ہمیں کرنا پڑی دوسری طرف ایک بہت مشہور پاکستانی گلوکار کو صرف اس لئے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے کہ کسی پاکستانی کو ہوائی جہاز کے ذریعے صرف چند شہروں کے راستے بھارت میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ راحت فتح علی ایک خاص حیثیت میں حیدر آباد آ رہا تھا اور وہ کوئی عام آدمی بھی نہ تھا۔ بھارت کیلئے معروف تھا۔ یہ انتہائی توہین اور تذلیل ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی توہین ہے جو بھارتیوں کے دل میں رہتی ہے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
پہلے بھی کچھ روپیہ زیادہ ہونے کی وجہ سے راحت فتح علی کو بھارت میں اپنی تحویل میں رکھا گیا۔ جبکہ راحت نے کہا بھی کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ اسے خواہ مخواہ پریشان اور بے عزت کیا گیا۔
راحت جیسے لوگ نجانے کس طرح کی مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ وہ حیدر آباد بھارت سے ابوظہبی گئے اور پھر اعلان کیا کہ میں دہلی جا کے ائیرپورٹ اتروں گا اور حیدرآباد جائوں گا۔
ایک آدمی ہے عدنان سمیع، اس نے بھارت کی شہریت پا کے جیسی احمقانہ خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اسے دیکھ کے ہمیں شرم آگئی ہے بڑی مدت سے منتیں ترلے کر کے اس نے بھارتی شہریت حاصل کی ہے اور پھر بھی اس پر اتراتا پھر رہا ہے۔ اسے پاکستان میں بھی شہرت اپنی بیوی زیبا بختیار کی وجہ سے ملی تھی۔ اچھا ہوا کہ زیبا نے بہت جلد اس سے جان چھڑا لی۔ ایسے لوگوں کو رن تھرو کہتے ہیں جو اپنی بیوی کی وجہ سے کوئی جگہ بناتے ہیں اور اس پر اتراتے بھی ہیں۔ کسی نے خوب جملہ اس کیلئے کہا کہ شہرت پاکستان سے حاصل کی اور شہریت بھارت سے حاصل کرلی۔ جو اسے تھوڑی بہت پہچان ملی وہ پاکستان کی وجہ سے ملی۔ بھارت والے اپنے بھارتی شہری مسلمانوں سے جو سلوک کرتے ہیں وہ شرمناک اور افسوسناک ہے وہ پاکستانی مسلمان کی حیثیت سے بظاہر ہماری عزت کرتے ہیں۔ عدنان سمیع کو بھارتی شہری ہو کے لگ پتہ جائے گا۔ آجکل وزیر اعظم بھی وہ قاتل اور ظالم ہے جس نے گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی۔
ہمارے گلوکاروں اور گلوکارائوں اداکاروں اور اداکارائوں کو بھارت نہ جانے کا اعلان کر دینا چاہیے۔