ٹیکس ریلیف پیکیج سے کئی سو ارب روپے کا نقصان ہو گا: اقتصادی ماہرین

03 جنوری 2016

لاہور (کامرس رپورٹر) انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی اور مصروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا ہے وزیر اعظم کے ٹیکس ریلیف پیکیج سے قومی خزانے کو کئی سو ارب روپے کا نقصان ہوگا، جو لوگ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتے ہیں انکی حوصلہ شکنی ہوگی اور 2018ء تک معیشت کو دستاویزی نہیں بنایا جا سکے گا۔ وزیراعظم ٹیکس ریلیف پیکیج کے مطابق کوئی شخص 5 کروڑ روپے ظاہر کرتا ہے تو اندازہ ہے 2018ء تک ٹیکس سمیت دیگر مدوں میں اسے 15 لاکھ روپے ادا کرنا پڑیں گے جبکہ انکم ٹیکس کے مروجہ قوانین کے مطابق ایک سال میں ایک کروڑ 95 لاکھ روپے ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اس طرح ایک تاجر کو 5 کروڑ روپے کی حد دی گئی ہے، تاجر اپنے اہل خانہ کے نام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسطرح ارکان پارلیمنٹ اپنے اہل خانہ کے نام پر اس سکیم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ جو لوگ اس سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا جائیگا لیکن تاجروں کو قانونی پوزیشن سمجھنا ہو گی کہ صرف محکمہ انکم ٹیکس ان سے دولت کے بارے میں سوال نہیں کرسکتا لیکن نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے تحقیقات کرنے کے مجاز ہیں اور رہیں گے۔ اسکے علاوہ سینٹ میں حزب مخالف کی اکثریت ہے جو متوقع طور پر اسی سکیم کو مسترد کردیگی۔