2015ئ: پی پی جمود کا شکار، رابطہ عوام چلائی نہ تحریک

03 جنوری 2016

اسلام آباد (سجاد ترین/ خبر نگار خصوصی) پیپلز پارٹی کی قیادت 2015ء میں گڑھی خدا بخش کے شہیدوں کی قبروں کی مجاور بن کر رہ گئی۔ کوئی عوام رابطہ مہم نہ چلائی نہ ہی کوئی تحریک شروع کی اور کرپشن کے الزامات کا سامناکرتی رہی۔ سابق صدر زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد پوری قیادت نے خاموشی اختیار کرلی اور خود آصف علی زرداری دوبئی چلے گئے اور پارٹی کو لاوارث انداز میں چھوڑ دیا۔ بلاول بھٹو کو سندھ تک محدود کردیا گیا۔ عام انتخابات میں ناکامی کے بعد 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں بھی سندھ کے سوا دیگر صوبوں میں پارٹی آخری سانسوں پر نظر آئی، اسی سال میں زرداری مقدمات سے بری ہوئے اور مخدوم امین فہیم کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر بھی بن گئے۔