داعش کا پاکستان میں وجود نہیں، ٹھوس ثبوت کے بغیر افواہ اڑائی جاتی ہے: سکیورٹی ذرائع

03 جنوری 2016

لاہور (جواد آر اعوان/ نیشن رپورٹ) پاکستان میں داعش کے قدم جمانے کے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں تاہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قائم کچھ سول اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر داعش کی موجودگی کی افواہیں اڑائی جا رہی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے ذرائع نے ’’دی نیشن‘‘ سے کی گئی بات چیت میں سول سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے داعش کے پاکستان میں موجود ہونے کے دعووں سے اختلاف کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا نئے قائم ہونیوالے انسداد دہشت گردی کے سول اداروں کے پاس درست معلومات کے حصول کی مہارت کی کمی ہے۔ اس طرح کے مشکل اور پیچیدہ معاملات کے حوالے سے بالکل درست اور ٹھوس معلومات حاصل کرنے کیلئے کافی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جو تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔ نیم ثبوتوں کی بنا پر تیار کی گئی ایسی رپورٹیں میڈیا کو لیک کردی جاتی ہیں جس سے داعش کے حوالے سے افواہیں پھیل جاتی ہیں۔ ذرائع نے کہا گزشتہ سال وزارت داخلہ نے داعش کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ داعش پاکستان میں موجود ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حزب التحریر اس وقت نفسیاتی جنگ کے طور پر اپنے پراپیگنڈہ کیلئے لوگوں کی برین واش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سول سکیورٹی ادارے ناتجربہ کاری کی بنا پر حزب التحریر کے سلیپر سیلز کو داعش کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ حال ہی میں یونیورسٹی کے پکڑے گئے دو پروفیسرز بھی حزب التحریر کا نظریہ رکھتے تھے مگر انہیں غلطی سے داعش سے تعلق رکھنے والا قرار دیدیا گیا۔ ذرائع کے مطابق داعش نے افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں جگہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے اسکے ہمدرد اپنے منصوبے میں ناکام ہوگئے۔ بلوچستان میں لشکر جھنگوی کے آپریشنل کمانڈر عثمان سی فاللہ کرد جسے متوقع پر داعش کی صوبائی سربراہی دی جانا تھی گزشتہ سال کوئٹہ میں مارا گیا۔