مغلپورہ: تلخ کلامی کے بعد ایس ایچ او کی وردی پھاڑنے والے پر دہشتگردی کا مقدمہ

03 جنوری 2016

لاہور (سٹاف رپورٹر) مغلپورہ کے علاقہ میں حراست میں لینے کے دوران پولیس اہلکاروں سے مزاحمت کرنے والا ملزم جیل پہنچ گیا۔ ملزم بھرے بازار میں ایس ایچ او ملک شہباز اور اہلکاروں سے توتکار کرتا رہا۔ پولیس ملزم کو تھانے لے گئی اور مزاحمت پر ’’خاطر تواضع‘‘ کے بعد مقدمہ درج کرلیا جس میں ایس ایچ او کی وردی پھاڑنے پر دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ملزم سے کلاشنکوف بھی برآمد کرلی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزم کیخلاف 24 سے 25 مقدمات درج ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ گنج بازار بھینسوں والے ڈیرے کے قریب 26 دسمبر کو گشت پر موجود ایس ایچ او ملک شہباز نے مبینہ طور پر بدنام زمانہ منشیات فروش خرم بٹ کو روکا اور تلاشی کے بعد حراست میں لینے کی کوشش کی۔ اسی دوران خرم بٹ اور ایس ایچ او ملک شہباز کے درمیان تلخ کلامی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ملزم خرم بٹ کو تھانہ مغلپورہ لایا گیا اور اسکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ علاوہ ازیں ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے 6 تھانوں کے ایس ایچ اوز کے تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایس ایچ او مغلپورہ ملک شہباز کو تبدیل کر کے انسپکٹر ظہیر الدین کو ایس ایچ او باغبانپورہ سے ایس ایچ او مـغلپورہ، سب انسپکٹر احمد نواز کو پولیس لائنز سے ایس ایچ او راوی روڈ، سب انسپکٹر اعجاز رسول کو ایس ایچ او راوی روڈ سے ایس ایچ او باغبانپورہ، سب انسپکٹر عدنان مسعود کو پولیس لائنز سے ایس ایچ او نصیر آباد، سب انسپکٹر شکیل خورشید کو تھانہ ریس کورس سے ایس ایچ او مصطفی آباد اور انسپکٹر اختر حسین کو ایس ایچ او لوہاری گیٹ تعینات کر دیا۔