باپ کی جاگیر

03 جنوری 2016

مکرمی! پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر طرح کے وسائل سے مالامال کیا ہوا ہے مگر یہ نااہل حکمران وسائل کی تلاش میں تو ناکام رہے مگر لوٹ کھسوٹ کے طریقے ضرور تلات کرتے ہیں۔ مثلاً حکومت نے وزیراعظم کو اسلام آباد میں رہنے کے لئے گھر اور سرکاری امور کو نمٹانے کے سرکاری دفتر اور وافر عملہ مہیا کیا ہوا ہے۔ ان دونوں مقامات کا خرچہ لاکھوں روپے روزانہ کے حساب سے اٹھتا ہے۔ مگر وزیراعظم اکثر اپنے گھر رائیونڈ کا رخ کرتے ہیں تو کئی وزیر اور عملہ ہمراہ ہوتا ہے اور اکثر سرکاری اجلاس بھی لاہور میں آکر کرتے ہیں اس طرح سے ان صاحب نے ایک ملک میں دو دو دارالحکومت بنا رکھے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی سابق مفرور صدر آصف زرداری بھی دبئی میں بیٹھ کر سندھ حکومت چلا رہا ہے، وہیں سے حکم جاری ہوتا ہے اور ’’سونے والی سرکار‘‘ وہاں جاکر اجلاس کرتی ہے اور بھگوڑے وزیر بھی وہاں سے ہی حکم جاری کرتے ہیں۔ کیا یہ ملک کسی کے ’’باپ کی جاگیر‘‘ ہے جو اس طرح حکمران اسے چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ یہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔ (مشتاق احمد آزاد، لاہور)