امن کا راستہ کوئی بھی ہو

03 جنوری 2016
امن کا راستہ کوئی بھی ہو

مکرمی! مودی کے ـ " اچانک "پاکستان آنے کے پروگرام نے گویا سفارتی و سماجی حلقوں اور میڈیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ایسے ڈرامائی سین بین القوامی سفارت میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کچھ تنقید نگار اِسے سجن جندل کی سفارت کاری کا نتیجہ بتا کر مشکوک بنا رہے ہیں۔میرا سوال ہے کہ اگر ایسا ہے بھی تو اِس میں کیا حرج ہے؟ 1.5 ارب کی آبادی پر مشتمل غربت، بے روزگاری، پانی، تعلیم اور صحت جیسے کئی مسائل میں گھرا یہ خطہ ہمہ وقت آمادہ ء جنگ رہتا ہے۔ دو ایٹمی قوتوں کی جنگ کا تصور بھی ہولناک ہے۔ اگر وزیرِاعظم کا روباری مراسم بڑھا کر ا من کا دروازہ کھولتے ہیں تو اِس میں بُرائی کیا ہے؟ جب تجارت کا حجم بڑھے گا تو دونوں ملکوں کے لیے کشمیر جیسے مسئلے کا حل نکالنا بھی نا گزیر ہو جائے گا۔ میری ناقدین سے گزارش ہے کہ تجارت کو راستہ دیں۔ امن کو راستہ دیں۔ جنگ بذاتِ خود مسئلہ ہے مسئلے کا حل نہیں۔ (قرۃالعین لاہور)