پاک ترک دوستی کے تقاضے

03 جنوری 2016
پاک ترک دوستی کے تقاضے

چین اور ترکی‘ پاکستان کے دو ایسے مخلص دوست ملک ہیں جنہوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ڈٹ کر ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی ہر قسم کی اقتصادی‘ معاشی اور بوقت ضرورت دفاعی مدد کی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کے بیشتر ترقیاتی منصوبوں کیلئے سب سے زیادہ سرمایہ کاری اور خدمات انہیں دو دوست ممالک سے آرہی ہیں۔آج سے ایک ڈیڑھ عشرہ پہلے تک ترکی یورپی یونین میں شمولیت کیلئے بیتاب نظر آتا تھا۔ یورپی یونین دراصل ’’کرسچین یونین‘‘ ہے۔ یونین کے تمام قواعد و ضوابط اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے باوجود ترکی کو صرف ’’مسلمان‘‘ ملک ہونے کی وجہ سے یونین میں داخلہ نہ مل سکا لیکن گزشتہ چند سالوں میں ترکی کی معاشی ترقی‘ سیاسی استحکام اور سیاحت کے فروغ نے بیشتر یونین ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یورپی یونین کے کئی ممالک کی حالت تو بھیک منگوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے اور برطانیہ جیسا ملک یونین سے جان چھڑانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔
عراق پر جارحیت سے قبل امریکہ نے ترکی کو اربوں ڈالر کی پیشکش کی تھی کہ وہ اسے راہداری کی سہولت دے دے۔ لیکن ترکی کی قومی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ برادر ہمسایہ اسلامی ملک کی بربادی میں حصہ دار بنے اور ترکی پارلیمنٹ نے صاف انکار کر دیا تھا حالانکہ اس وقت ترکی کی اقتصادی اور معاشی حالت کافی پتلی تھی۔ اس وقت سے امریکن انتظامیہ ترکی سے سخت ناراض ہے اور اپنی حکومت کی شہ پر امریکن پریس نے ترکی کو سان پر لگایا ہوا ہے۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ امریکہ کا میڈیا اور پریس آزاد ہے‘ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ بھارت اور امریکہ کا میڈیا اپنی حکومتوں کے اشاروں پر چلتا ہے۔ وہ اپنے ملک کی پالیسی‘ مفادات اور تقاضوں کیخلاف ہرگز نہیں چلتا۔ یہ صرف پاکستان کا میڈیا ہے جو مادر پدر آزاد ہے جو ملکی پالیسیوں‘ مفادات اور تقاضوں کے برعکس ہر وقت نئے نئے خود ساختہ سکینڈل‘ عورتوں کی آبرو ریزی کی داستانیں اچھالتا‘ چوروں‘ اچکوں‘ رشوت خوروں اور سمگلروں کو ہیرو بنا کر پیش کرتا اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا چہرہ داغدار کرتا ہے۔ میری اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد دراصل ایک امریکن شہری کالم نویس کے اس کالم کا محاسبہ کرنا تھا جو ’’نوائے وقت‘‘ کی 21 دسمبر 2015ء کی اشاعت میں ’’مکتوب امریکہ‘‘ کے عنوان کے تحت شائع ہوا اور جس میں ترکی کے اندرونی معاملات اور حکمرانوں کی کرپشن کی داستاں کو ایک پاکستانی موقر اخبار میں اچھال کر دانستہ یا نادانستہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی بندوق کسی ترک صحافی کے کندھے پر رکھ کر چلائی ہے۔
فرماتی ہیں۔ ’’ایک ترک صحافی نے بتایا کہ ترک حکومت نیشلزم کا ڈرامہ کر رہی ہے۔ جبکہ حکومت کی اندرونی کرپشن اور آمرانہ رویہ نیشلزم کے برعکس ہے۔ ہمارے سلطان سادگی اور مذہبی اقدار کے قائل تھے اور ہماری حکومت عیش و عشرت اور بدعنوانی کو فروغ دے رہی ہے۔ ہمارے ترک میزبانوں نے ہمیں استنبول میں صدر طیب اردغان کا ایک محل اور مسجد بھی دکھائی۔ انکے بیٹے کی عیاشی اور کرپشن کے قصے بھی بتائے۔ اسکے علاوہ ترک حکومت کا اندر کھاتے داعش کیساتھ کے تشویشناک معاملات سے پردہ بھی اٹھایا۔ روس کی مخالفت اور ترک حکومت کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی پر بھی بات کی۔‘‘مزے کی بات ہے کہ نہ محترمہ نے اس ترک صحافی کا حدود اربعہ بیان کیا ہے جس کے منہ سے انہوں نے ’’کرپشن اور آمرانہ رویہ‘‘ کی بات اگلوائی ہے اور نہ ہی اپنے ’’میزبانوں‘‘ کا کوئی ذکر خیر کرنا گوارا کیا ہے۔
مزید گوہر فشانی فرماتی ہیں۔ ’’ترک حکومت اعلیٰ تعلیم کیخلاف ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ترکوں میں شعور بیدار ہو گیا تو جمہوریت کی آڑ میں آمرانہ سوچ کی سیاست ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیگی۔ ترک حکومت ’’خدمت تحریک‘‘ اپنے مدمقابل تصور کرتی ہے۔ ترکوں کی اکثریت خاص طور پر اسلامی سوچ کی حامل ترک قوم دینی سکالر محمد فتح اللہ گولن کی خدمات کی قائل ہے‘ جو ’’خدمت موومنٹ‘‘ کے بانی ہیں اور امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ترک حکومت خدمت موومنٹ کے تعلیمی و صحافتی اداروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا کوئی ٹھوس الزام ثابت نہیں کرسکی‘ لہٰذا دہشت گردی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ’’محبت اور امن‘‘ داعی رومیؒ کے پیروکاروں کیخلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا۔ ترکی کو تعلیمی میدان میں ترقی کی جانب گامزن کرنیوالی ’’حزمت یا خدمت موومنٹ‘‘ وہ زندہ ثبوت ہے کہ جس کی تعلیمی خدمات کو ہم نے امریکہ سے تُرکی تک اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا علمی و عملی مشاہدہ و مطالہ کیا۔ اگر ’’حزمت موومنٹ‘‘ المعروف ’’گولن تحریک‘‘ میں دہشتگردی کا شائبہ بھی ہوتا تو کیا امریکی حکومت تحریک کے بانی محمد فتح اﷲ گولن کو اپنے ملک میں پناہ دیتی‘‘
’’ترک حکومت کی بوکھلاہٹ کا ایک ثبوت ’’زمان میڈیا‘‘ پر پابندی ہے۔ ترکی میں اس وقت سرکاری یا بکاؤ میڈیا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اپوزیشن کا مقبول میڈیا زمان کے چینلز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ہم نے استنبول میں زمان اخبار اور جرنلسٹ اینڈ رائٹر فاؤنڈیشن کے مراکز کا بھی دورہ کیا۔ گولن یا حزمت تحریک کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ حکومت نے ان کی ترقیاتی منصوبوں کیخلاف کریک ڈاؤن سے عوام کے دل کی آواز پابندی لگا دی ہے۔ صحافیوں کیخلاف پکڑ دھکڑ کا افسوسناک سلسلہ جاری ہے۔ ترکی میں فریڈم آف سپیچ کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کی الیکشن میں کرپشن کا استعمال کیا گیا۔ ’’درجنوں صحافی حق گوئی کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔‘‘ پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو ’’گولن موومنٹ‘‘ کے بارے میں جانتے ہیں؟ پھر یہ سارے معاملات ترکی کے اندرونی سیاسی معاملات ہیں۔ اُنہیں پاکستان میں موضوع سخن بنانا دوسرے دوست ملک کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کے متراف ہے‘ اور دانستہ یا نادانستہ دونوں ملکوں کے انتہائی برادرانہ اور مخلصانہ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے۔ امریکہ جس کو سیاسی پناہ دیتا ہے اُسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال بھی کرتا ہے۔