رفیق احمد باجوہ‘‘

03 جنوری 2016

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور کے رہائشی علاقے شادباغ میں رفیق احمد باجوہ مرحوم ایڈووکیٹ کے گھر ملک بھر کے سیاسی رہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا۔ 1977ء کے عام انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا۔ یہ 10 جنوری کی ایک سہ پہر تھی۔ میں LLB کے امتحان سے فارغ ہو کر ہمہ وقت تحریک استقلال کیلئے کام کرتا تھا۔ نہ دن کا پتہ نہ رات کا بس سیاست کا سودا ہی ذہن میں سمایا رہتا۔ ہم کچھ لوگ رفیق باجوہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنیوالوں کا استقبال کرتے جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار نیازی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے جبکہ رفیق باجوہ اس جماعت کے سیکرٹری جنرل تھے۔ پھر ایئرمارشل (ر) اصغر خاں عوامی نیشنل پارٹی کی بیگم نسیم ولی خاں‘ خاکسار لیڈر اشرف خاں‘ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم و صدر سردار عبدالقیوم خاں‘ جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد ایک شیعہ مکتب فکر کے رہنما اور آخر میں مولانا مفتی محمود اجلاس میں شرکت کیلئے آئے۔ پیر صاحب پگارہ شریف اگرچہ لاہور میں موجود تھے مگر ان کی نمائندگی کسی اور نے کی۔ باجوہ صاحب کے گھر کے باہر ہجوم اکٹھا ہو گیا جو یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کیخلاف تمام جماعتیں متحد ہو کر مقابلہ کریں۔ پھر شام کے وقت پروفیسر غفور احمد نے چھت پر آ کر اعلان کیا کہ مارچ میں ہونیوالے قومی انتخابات میں تمام جماعتیں مل کر پیپلز پارٹی کیخلاف انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ساتھ ہی دوسرا اعلان کیا کہ دو دن بعد تمام رہنماؤں کا اعلیٰ سطح کا اجلاس مسلم لیگ ہاؤس ڈیوس روڈ پر ہو گا۔ دو دن کے بعد جب ہم مسلم لیگ ہاؤس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انسانوں کا ایک ہجوم وہاں در آیا ہے۔ اجلاس ہوا اور پروفیسر غفور کی بجائے رفیق باجوہ نمودار ہوئے اور انہوں نے چند فیصلوں کا اعلان کیا کہ تحریک استقلال عوامی نیشنل پارٹی‘ مسلم لیگ‘ جمعیت علماء اسلام‘ جمعیت علماء پاکستان‘ جماعت اسلامی‘ مسلم کانفرنس خاکسار تحریک اور شیعہ الائنس (غالباً یہی نام تھا) پر مشتمل اتحاد تشکیل پا چکا ہے۔ مفتی محمود اسکے سربراہ اور میں رفیق احمد باجوہ اسکے جنرل سیکرٹری ہونگے۔ اس سیاسی اتحاد کا نام ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ ہو گا جسے انگریزی میں (PNA) کہا جائیگا تمام جماعتوں کیلئے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کا فارمولا اگلے اجلاس میں طے کیا جائیگا۔ جو گلبرگ میں چودھری ظہور الٰہی کی رہائش گاہ پر ہو گا تاہم تحریک استقلال اور J.U.P کیلئے 34 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ پھر چودھری ظہور الٰہی کی کوٹھی ’’قومی اتحاد‘‘ کا مرکز بن گئی۔ ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کا پہلا جلسہ کراچی کے نشتر پارک میں ہوا جس کی آڈیو کیسٹ ریکارڈنگ لاہور پہنچی جو ’’چینز لنچ ہوم‘‘ میں حبیب جالب میں اور دیگر کارکنوں نے سنی۔ اس ریکارڈنگ میں کسی مقرر نے بھی ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ دوسرا جلسہ لاہور کے ناصر باغ میں احسان وائیں کی صدارت میں ہوا۔ ناصر باغ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس جلسہ میں ایئر مارشل اصغر خاں اور بیگم نسیم ولی خان کو بہت پذیرائی ملی۔ اب تک نو جماعتوں کے یہ سربراہ ’’نو ستاروں‘‘ کا عوامی لقب اختیار کر چکے تھے۔ یہاں بھی ہمیں ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کا کوئی مطالبہ سننے کو نہیں ملا۔ پھر ایک روز معلوم نہیں کس شہر میں رفیق باجوہ نے ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کا نعرہ بلند کر دیا اور سٹیج پر سے ہی اللہ ہو اللہ کا ورد بھی شروع کر کے اس سوال کی بنیاد رکھی جو سید افضل حیدر نے اپنی حالیہ شائع ہونیوالی کتاب "MRD" میں اٹھایا ہے اور یہی سوال فرخ سہیل گوئیندی نے بھی ’’ترکی ہی ترکی‘‘ میں اٹھایا۔
تاریخ کو درست کرنا میرا کام نہیں ایک کوشش اسلئے کر رہا ہوں کہ میں ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ اور تحریک استقلال کی ہائی کمان کے نزدیک رہا ہوں۔ بہت کچھ جانتا ہوں کئی گفتی اور ناگفتی حقائق ہیں جنہیں ابھی تک خوف فساد خلق کی بنا سامنے نہیں لایا گیا۔ ’’قومی اتحاد‘‘ کی ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف چلنے والی تحریک سراسر سیاسی تحریک تھی اس پر دوران تحریک اصغر خان اور بیگم نسیم ولی خان کا ہی غلبہ رہا۔ عوامی طور پر رفیق باجوہ نے اسے ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کا نام دیکر اپنی تقریروں کو مقبول تو کر لیا مگر یہ ’’اتحاد‘‘ کے کسی منشور وغیرہ کا حصہ نہیں تھا۔ یہ صرف دھاندلی کیخلاف چلائی گئی ایک سیاسی تحریک تھی جسے بعد میں ضیاء الحق نے شب خون مار کر یرغمال بنا لیا اور اپنی پہلی ہی تقریر میں کہا کہ ’’ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف چلنے والی تحریک میں جو اسلامی جذبہ دیکھنے کو ملا وہ قابل تعریف ہے‘‘ اور پھر اسکے بعد ضیاء الحق نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اسلام کے نام پر کیا کیا ظلم و زیادتیاں اس نے ’’ایجاد‘‘ نہ کیں۔ تاریخ اسکی گواہ ہے پروفیسر غفور احمد صاحب نے بھی اپنی کتاب ’’اور مارشل لاء آ گیا‘‘ کے آخری ابواب میں ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے وہ تمام آخری مطالبات تحریر کئے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کئے گئے اور جس پر اتفاق ہو گیا تھا ان مطالبات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کا کوئی مطالبہ شامل نہیں تھا۔اب آخر میں رفیق باجوہ کے انجام کا بھی ذکر کرتا چلوں۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے چیف سیکرٹری پنجاب بریگیڈئر مظفر کے ذریعے انہیں وزیراعظم ہاؤس میں دعوت پر بلایا۔ ذوالفقار علی بھٹو اتنا احمق تو نہیں تھا کہ اتنی بڑی تحریک کو ختم کرنے کیلئے صرف ایک شخص سے ہی مذاکرات کرتا۔ بس رفیق باجوہ کو اوج ثریا سے زمین پر گرانا تھا سو گرا دیا ملاقات کے بعد جونہی یہ خبر عوام تک پہنچی تو غم و غصہ میں آ گئے۔ باجوہ صاحب نے چند دن تو تردید میں گزار دیئے بعد میں ’’اقبال جرم‘‘ کر لیا اس دوران ایک روز میں میاں محمود علی قصوری کے فین روڈ والے بنگلے پر گیا۔ تو مجھ ائرمارشل صاحب نے کہا کہ آپ دروازے پر کھڑے ہو جاؤ اور کسی کو اندر نہ آنے دینا۔ جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی وہاں پہلے سے ہی موجود تھے دونوں نے دوپہر کا کھانا اکٹھے کھایا اور رفیق باجوہ کو ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ اور جمعیت علماء پاکستان دونوں سے فارغ کر دیا۔ رفیق باجوہ نے پھر سیاست کی طرف منہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی سیاستدانوں نے انہیں اپنے پاس بٹھایا ‘ وہ ایسی تنہائی کا شکار ہوئے کہ خدا کی پناہ۔ اور اسی عالم میں ایک دن اپنے فکری اعمال کا جواب مانگنے اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔ جو سب کے فکر و عمل کا حساب خوب رکھتا ہے۔