اور اب ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘

03 جنوری 2016
اور اب ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘

اگر قارئین کو یاد ہو تو میں نے ایک سے زیادہ بار لکھا ہے کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے لاہور کو پیپلز پارٹی سے چھین کر اپنے نام کرنے کا آغاز لاہور کی دو سڑکوں کی کشادگی سے ہوا تھا۔ پہلے ایک چھوٹی سڑک جو چوبرجی سے سمن آباد کو کاٹتی ہوئی علامہ اقبال ٹائون اور ایک سڑک چوبرجی سے شام نگر کو کاٹتی ہوئی بند روڈ کی طرف گئی۔ اس کے بعد ایک بڑی سڑک پر کام شروع ہوا جو جیل روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ لاہور میں کام تو اور سڑکوں پر بھی ہوا لیکن مذکورہ بالا سڑکوں پر کام شروع ہوا تو میاں شہباز شریف پر بہت زیادہ دبائو بڑھایا گیا۔ اصل میں چوبرجی سے دو اہم آبادیوں کی طرف جانے والی سڑکوں کی کشادگی کی زد میں تجاوزات پر مبنی بہت سے مکانات آتے تھے مگر لاہور میں مشہور ہوگیا کہ ’’میاں صاحب کا حکم ہے، کسی سفارش پر توجہ نہ دی جائے اور عام لوگوں کے لئے راستوں کو کھلا کیا جائے۔‘‘ بس اس شہرت نے لاہور میں ایسی جڑ پکڑی کہ بعد میں میٹرو بس جیسے بڑے منصوبوں کے لئے بھی جب اطراف سے جگہ لینی پڑی تو زیادہ شور نہیں مچا۔ سب کو پتہ تھا کہ عوام کے لئے راستوں کو کشادہ کرنے کے سلسلے میں میاں شہباز شریف کسی کی نہیں سنیں گے۔ اب یہی سوچ شہروں میں میٹروبس کے بعد اورنج لائن ٹرین منصوبوں اور دیہات میں ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ کے نعرے کے ساتھ کارفرما ہے۔ گزشتہ روز کامونکی کے علاقے واہنڈو میں 43 کلومیٹر طویل سڑک کے افتتاح کے موقع پر تو میاں صاحب نے اور بھی بہت سی کھری کھری باتیں کردی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں دیہات سے کھیتوں اور کھیتوں سے منڈیوں تک کے راستوں کو پختہ کرنے کا انقلابی پروگرام شروع ہوچکا ہے اور ان سڑکوںکے کم از کم 20 برس تک ٹوٹنے سے محفوظ بنانے کے لئے ضوابط کا اعلان بھی کیا گیا ہے جن کے تحت ایک مخصوص وزن سے زیادہ کوئی گاڑی سڑکوں پر نہیں آسکے گی۔ اربوں روپے کا بجٹ دیہات کو مثالی بنانے اور اہل دیہات کی زندگی کو بدلنے کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ چاول اور گندم وغیرہ کے کاشتکاروں کے لئے نقد امدادی رقوم کے ساتھ ساتھ کھاد کی سستی خریداری کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔
دوسری باتوں کے علاوہ جمہوریت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مختلف سیاسی طاقتوں کے مابین مقابلے کی فضا قائم رہتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس کا ادراک اس لئے زیادہ ہے کہ وہ اقتدار میں آئی بھی اور اقتدار سے محروم بھی ہوئی۔ اب ایک وقفے کے بعد پھر وہ برسر اقتدار ہے اور اسی لئے اب اس کی پوری ٹیم (جس میں کارکن، بیورو کریٹس اور دانشور شامل ہیں) ہر محاذ پر سرگرم ہے۔ اس بار بلدیاتی انتخابات میں اسے پنجاب میں خاص طور پر بھرپور پذیرائی ملی ہے اور اس کا سبب میاں شہباز شریف کا ’’جگراتا‘‘ اور ہر وقت کی چوکسی ہے۔ شہروں پر تو بہت حد تک اس کی گرفت مضبوط ہے چنانچہ لگتا ہے کہ آئندہ اڑھائی برس کی مدت میں مسلم لیگ ن دیہاتوں میں نظر آنے والی کارکردگی دکھانا چاہتی ہے۔ ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ اور صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبے اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب کا کہنا ہے کہ 2018ء تک پنجاب میں ڈیڑھ سو ارب روپے سے پختہ سڑکوں کا جال بچھ جائے گا تو یہ غلط بھی نہیں۔ دراصل مقابلے کی فضا میں وقت کی ضرورت بھی یہی ہے۔ اگر راولپنڈی میں جو 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ہاتھ میں نہیں رہا تھا اور پھر ایک میٹروبس منصوبے نے نقشہ ایسا بدلا کہ 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں ’’فرزند راولپنڈی‘‘ اپنے کزن کی ایک یوسی سیٹ بچا پائے ہیں تو 2018ء تک دیہات میں عملی کام ہونے سے کتنی بڑی تبدیلی آسکتی ہے، اس کا ابھی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ میاں شہباز شریف نے ایک بار پھر کہا تو ہے کہ وہ دیہات میں سڑکوں کی تعمیر کے معیار اور اس کام میں استعمال ہونے والے میٹریل کا متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ خود بھی جائزہ لیتے رہیں گے مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس کے لئے کتنا وقت نکال سکتے ہیں۔ آنے والے دور میں جزوی طور پر پیپلز پارٹی اور کلی طور پر تحریک انصاف کے ساتھ مسلم لیگ ن کی زبردست سیاسی محاذ آرائی کا امکان ہے۔ لودھراں کے انتخابی نتیجے نے بھی یہی بتایا ہے کہ ’’جگراتا‘‘ کرنے والے مسلم لیگ ن کے پنجاب کے قائد کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیم کو بھی جاگتے رہنا ہوگا۔ تحریک انصاف کے کپتان عمران خان زخمی چیتے کی طرح میدان میں ہیں۔ پاکستان کی جمہوری ہار جیت کا فیصلہ جب پنجاب میں ہونا ہے تو پنجاب کی حکمران جماعت کو اب ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا۔ ترقیاتی کاموں میں دیانت کے ساتھ تیزی، بدعنوان عناصر (خواہ وہ بیورو کریٹس میں ہوں یا سیاسی ٹیم میں) سے چھٹکارا وقت کا تقاضا ہے۔ اب تک مسلم لیگ کی قیادت نے سیاسی پتے صحیح انداز میں کھیلے ہیں۔ اب ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ جیسے اربوں کے منصوبوں کو بھی اس انداز میں مکمل کرنا ہوگا کہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ چوبرجی لاہور کی سڑکوں سے ملنے والی ماضی کی شہرت کو مستقبل میں بحال رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔