’’نئیں ریساں شہر لاہور دیاں‘‘

03 جنوری 2016

پاکستان اور خصوصی طور پر پنجاب میں شہر لاہور کی اپنی ایک منفرد حیثیت ہے یہاں پر تاریخی شالا مار باغ، بادشاہی مسجد، نور جہاں کا مقبرہ ، حضرت علامہ اقبال کا مزار اور دریائے راوی میں تعمیر شدہ بارہ دری اور دیگر بہت ہی پرانے اور مشہور مقامات واقع ہیں۔
مجھے ابھی تک یاد ہے کہ جب بھارتی افواج نے 6ستمبر کو پاکستان پر اچانک حملہ کیا تو اُس دن میں باٹا پور کے محاذ پر بی آر بی نہر پر اپنے یونٹ کے ساتھ تھا۔ اُس کڑے وقت میں مجھے اور میرے دیگر رفقاء کو اپنی جان سے زیادہ اس بات کی فکر دامن گیر تھی کہ بھارتی افواج ہمارے پیارے شہر لاہور پر قبضہ نہ کر لیں۔ یہی وجہ تھی کہ گو ہم ابھی تک اپنی خندقیں کھودنے میں مصروف تھے مگر ہر ایک اس بے جگری سے لڑا کہ بھارتی افواج کے دانت کھٹے ہو گئے اور ’’بی آر بی‘‘ نہر سے آگے قدم نہ رکھ سکے۔ اس میں وطن کے دفاع کے علاوہ شہر لاہور سے ہماری والہانہ محبت کا عمل دخل بدرجہ اتم شامل تھا۔ دیگر شہروں کی طرح لاہور کے خدوخال میں وقت کیساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور اسے بھی مسائل کا سامنا ہے جن میں یہاں کے باسیوں کو صاف پانی کی عدم دستیابی شامل ہے۔
موجودہ حکومت کے دورمیں لاہور میں متعدد ترقیاتی کام ہوئے اور جاری ہیں جن میں ٹریفک سگنل فری چوک، سڑکوں کی کشادگی وغیرہ شامل ہیں جن پر اربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں لیکن پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے اہم کام کے ضمن میں قطعی کچھ نہیں کیا گیا۔ 2014ء میں واسا نے شہر کے مختلف مقامات سے 8ہزار سے زیادہ جگہوں سے پانی کے نمونے حاصل کئے اور اُن پر مختلف زاویوں سے تحقیق کی۔ جسکے نتیجے میں 11فی صد نمونے آلودگی کا شکار نکلے۔ جس سے شہر کے تقریباً 10لاکھ افراد متاثر ہو رہے ہیں اور اس کا اطلاق گنجان آباد علاقوں پر بہت زیادہ ہے۔ اسی رپورٹ کیمطابق آلودہ پانی زیادہ اُن علاقوں میں ہے جہاں غریب اور کم آمدنی والے افراد رہائش پذیر ہیں جن میں شہر کے شمالی علاقے اور داتا گنج بخش ٹاون شپ وغیرہ سرفہرست ہیں۔ مثلاً اس ضمن میں نشتر ٹاون المعروف ٹاون شپ وغیرہ میں 44فی صد پانی کے نمونے ایسے نکلے جن میں زہر آلودہ مادے پائے گئے۔ جو نمونے پرانے شہر، راوی ٹائوں کے فرخ آباد، اچھرہ ، علامہ اقبال ٹاون، شملہ پہاڑی ، داتا گنج بخش، مغل پورہ کے علاقے اور عزیز بھٹی ٹائون سے حاصل کئے اُن میں آلودگی کی سطح صحت کیلئے مضر پائی گئی۔ واسا کی اس رپوٹ سے ان شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ لاہور میں زیر زمین پایا جانے والا پانی صحت کے لیے مضر ہے۔ 73 نمونوں میں سے 50فی صد نمونے جو اُن علاقوں سے حاصل کئے جن میں واسا پانی مہیا نہیں کرتا اُن میں بہت زیادہ مقدار میں آلودگی پائی گئی۔ وہاں پر صورتحال یہ ہے کہ پانی صرف 200-300 فٹ کی گہرائی سے حاصل کیا جارہا ہے جبکہ جہاں پر واسا کا عمل دخل ہے وہاں پہ پانی حاصل کرنے کی گہرائی 800-900فٹ تک ہے۔ آلودگی کی ایک بڑی وجہ شہر میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی ہے جو کہ بہت زیادہ مقدار میں زمین سے پانی نکالے جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں جنوب کی طرف پایا جانیوالا پانی جس میں مضر دھات اور دوسرے TOXIC اجزا شامل ہیں شہر کی جانب بہہ کر جا رہا ہے۔ جب یہ پانی اس طرف نہیں آتا تھاتو اونچائی پر واقعے علاقے مثلاً اندرون شہر اور مال روڈ میں پینے والا صاف پانی زیادہ مقدار میں موجود تھا۔ لیکن اب جب کہ جنوبی علاقے سے پانی اس طرف آ رہا تو یہاں بھی صاف پانی نایاب ہو گیا ہے۔شہری علاقے میں لگی ہوئی سینکڑوں فیکٹریاں اپنا آلودہ پانی پمپوں کے ذریعے نکال کر زیر زمین WELLS یعنی کنوئوں میں ڈال رہی ہیں اور یہ عمل پینے کے زیر زمین پانی میں زہریلے مادے ملا رہا ہے۔ جس سے شہر کا زیر زمین پانی پینے کیلئے بہت مضر ہو چکا ہے۔ جہاں تک پنجاب کے ENVIRONMENT PORTECTION DEPARTMENT کا تعلق ہے وہ بے انتہا بد عنوانی کی وجہ سے اس آلودگی کے سدباب میں ناکام ہے۔اس وقت واسا کے 400 سے بھی زیادہ اور سینکڑوں نجی ٹیوب ویل جن کا حکومت کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں تقریباً 3000 کیوبک فٹ پانی فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین سے نکال رہے ہیں جبکہ اس آلودہ پانی کی بھاری مقدار کو کوڑے کرکٹ سمیت دریائے راوی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جس سے آبی حیات بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
قارئین! لاہور کا تاریخی شہر جو کہ پنجاب کا دل ہے اُسکے بارے میں واسا کی 2014 میں شائع کی ہوئی رپوٹ بے انتہا پریشان اور مایوس کن ہے متعلقہ محکمہ 2008 سے لاہور میں زیر زمین کا تجزیہ کر کے حکومت کو ایسی سفارشات پیش کر رہا ہے لیکن خادم اعلیٰ جو دوسرے ترقیاتی کاموں میں بے حد مصروف ہیں انہوں نے اس طرف قطعی کوئی دھیان نہیں دیا۔ شہر لاہور جسکے بارے میں فخر سے یہ گانا گایا جاتا تھا کہ:
نئیں ریساں شہر لاہور دیاں
سن سجناں گلاں غور دیاں
کاش پنجاب حکومت اپنی ترجیحات کو صحیح خطوط پر استوار کرے اور شہر لاہور کو ایسا بنائے جس کی ملک میں کوئی دوسری مثال نہ ملتی ہو اور ہم پھر کہہ سکیں
’’نئیں ریساں شہر لاہور دیاں‘‘