کج انج وی راواں اوکھیاں سن…

03 جنوری 2016

ہیومن ڈویلپمنٹ سے ہم کسی قوم کی اصل ترقی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ وطن عزیز میں عمومی سطح پر ہیومن ڈویلپمنٹ ایک سوالیہ نشان چلا آرہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہیومن ڈویلپمنٹ کیلئے ہیومن ریسورسز میں اضافہ ضروری ہے تاہم ہیومن ریسورسز کا عوام تک پہنچنا بھی ازحد ضروری ہے۔ اسلامیہ کالج کوپر روڈ اپنی شاندار تاریخ اور روایات کے سبب لاہور کے ممتاز کالجز میں سے ایک ہے۔ پروفیسر فرزانہ شاہین کی شب و روز کی محنت اور انتظامی صلاحیتوں نے اس کالج کی علمی سرگرمیوں کو جلا بخشی۔ گزشتہ روز لاہور ڈسٹرکٹ کے لاتعداد کالجز کے پرنسپل صاحبان کا ایک اہم بجٹ اجلاس ڈائریکٹر فنانس جاوید اقبال کی سرپرستی میں اسلامیہ کالج کوپر روڈ لاہور کی پرنسپل پروفیسر فرزانہ شاہین کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ ڈپٹی سیکرٹری بجٹ اینڈ فنانس خالد بشیر‘ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں زاہد حسین‘ پروفیسر رانا ذوالفقار‘ پروفیسر فرح ملہی‘ پروفیسر کوثر شاہ‘ مسز انجم نظامی‘ پروفیسر نائمہ و دیگر نے اس اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ میں اس اجلاس کو اس لئے بے حد کارآمد سمجھتی ہوں کہ اجلاس میں ڈائریکٹر فنانس جاوید اقبال صاحب نے تعلیمی خرچوں کی بات کرکے عام انسان کی ضرورت کی بات کی کیونکہ قومی ترقی کے سوال میں سب سے اہم بات تعلیمی سہولتوں کی ہے۔ ہر قوم کی ترقی کا زینہ تعلیم ہی ہے… ہاں! ڈیمز کی تعمیر‘ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر‘ فارن پالیسی پر عملدرآمد کی کاوش‘ عالمی سطح کا تجارتی لین دین‘ اقوام متحدہ و دولت مشترکہ میں نمائندگی عالمی برادری سے ڈپلومیٹک ریلیشنز‘ مالیاتی اداروں سے بہترین مراسم سرکار کی ترجیحات میں نمبر ون ہوں گے مگر میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گی کہ عوامی بہبود و ریاستی وقار و قومی ترقی کا سب سے زیادہ اہم سوال فروغ تعلیم‘ معیار تعلیم و معاشرے میں تعلیم کا ہے کیونکہ ایک عام آدمی کو اونچے برجوں سے کیا لینا دینا وہ تو صحت و تعلیم و روٹی کے روزمرہ کے مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارے ملک کی 80 فیصد آبادی جن کا مقصد روح و جسم کے رشتے کو برقرار رکھنا ہے‘ بچوں کو تعلیم دلوانا ہے‘ صحت کے مسائل حل کرنا ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ ہر سال جون میں حکومت وقت قومی ضرورتوں کی مختلف مدوں میں میزانیہ ترتیب دیکر قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے۔ اس میزانیے سے ہمیشہ مراد قومی ترقی ہوتا ہے۔ یہ قومی ترقی کہاں ہے؟ ہم قومی ترقی میں عالمی سطح پر پسماندہ کیوں ہیں؟ ہم قومی ترقی کا اصل محرک تاحال کیوں نہیں سمجھ سکے؟ اصل میں قومی ترقی اسی وقت ہو گی جب عوامی بہبود کے امور کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جائیگی اور اصل عوامی فلاح کے امور عوام کو انکے دروازے پر صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں بہم پہنچانا ہے۔ جب ہم صحت و تعلیم کو بنیادی اہمیت تسلیم کریں گے تو ہی ہم اپنے علاقے اپنے ٹاؤن‘ اپنے ضلع اور اپنے حلقے کے لوگوں کو صحت و تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے عملی اقدام کرینگے۔ میرا تعلق چونکہ شعبہ تعلیم میں ایک رہنما کی صورت میں ہے اس لئے میں آج تعلیم پر ہی زیادہ بات کروں گی۔ سب سے پہلے تو ہمیں عوامی بہبود و قومی ترقی کیلئے سالانہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا ہو گا۔ ماضی میں بجٹ کا صرف 3 فیصد یا 4 فیصد مختص کرنا ہماری آبادی کے تناسب سے شعبہ تعلیم کیلئے ناکافی رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ تعلیمی اداروں میں غیر تربیت یافتہ افراد نے اپنی مالی ضروریات کو حقیقی صورت میں نہ سمجھتے ہوئے اور اپنے اداروں کے بجٹس کو اندازوں اور مفروضوں کی نذر کرتے ہوئے بجٹ کی ترتیب و ترکیب و ڈیمانڈز میں سقم پیدا کئے ہیں اور تیسرا اداروں کے بجٹ کا نامناسب و غیر منظم طریق استعمال نے بالآخر تعلیمی بجٹ کے بہترین و شفاف استعمال کے عمل کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔اس وقت پنجاب کی مخصوص صورتحال کے تعلیمی اداروں کو سخت سکیورٹی انتظامات کے احکام تو دے دئیے گئے لیکن ان مہنگے سکیورٹی انتظامات کا بجٹ نہ دیکر اداروں کے دیگر مدوں کے بجٹ کی ترکیب کو خود ہی ڈسٹرب کر دیا گیا… یہی نہیں بلکہ اداروں کے معمول کے تعلیمی اخراجات میں ہم نصابی سرگرمیوں‘ لائبریری کتب‘ سائنسی آلات کیلئے کوئی خاطر خواہ بجٹ دیا ہی نہیں گیا۔ اداروں کی پراپرٹیز کہ جس میں ٹرانسپورٹ‘ فرنیچر و دیگر مشینری کا بجٹ دیا جاتا ہے وہ بھی نہایت خفیف و ناکافی ہے یہ شاید اس لئے کہ ڈی ڈی اوز اپنے اداروں کی بجٹ ترتیب و بجٹ ڈیمانڈ پروسس میں شریک کار نہیں ہوتے اور سارا کام کلیریکل ورک بنا کر رکھ دیا گیا ہے شاید اسی لئے گزشتہ اجلاس میں ڈائریکٹر فنانس نے ڈی ڈی اوز کو بجٹ بنانے میں رہنما کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جوکہ قابل قدر ہدایت ہے اور میرا خیال ہے کہ کلیریکل سٹاف کو بھی اپنے پرنسپل صاحبان کے ساتھ بحیثیت معاون کردار اپنانا چاہئے اور دیانتدارانہ معلومات کا تبادلہ ہونا چاہئے۔ میں نے تعلیمی اداروں کے اندر بجٹ کی تشکیل کے حوالے سے تکنیکی مہارت کے فقدان کے سبب اداروں کے اصل غیر ترقیاتی و ترقیاتی اخراجات کے تخمینے ہی غلط ہوتے دیکھے تو پتہ چلا کہ اس طرح تو ہماری ڈیمانڈس بھی گڑبڑ کا شکار رہی ہیں۔ چنانچہ بجٹ کا حصول ہی نہیں بلکہ بجٹ کا صحیح مصرف بھی گڑبڑ ہوتا رہا ہے۔ ہر نوع کے ایجوکیشن اداروں میں ریسرچ کی اہمیت کو تو اجاگر ہی نہیں کیا گیا تو ریسرچ بجٹ کالجز کی سطح پر کیسے بنتے؟ ریسرچ بجٹ کیسے آتے؟ تعلیمی ترقی کا سامان کیسے بنتا؟ تعلیمی شعبہ رٹا سسٹم پر چلتا رہے گا تو علمی معرفتیں کیسے آئیں گی؟ اصل میں اگر ہمارا فنانس ڈیپارٹمنٹ اور سرکار ہمارے تعلیمی بجٹس میں اضافہ کر بھی دیتے ہیں تو ان بجٹس کے صائب استعمال کا سوال آیا ہے۔ یہاں میں ڈائریکٹر فنانس کی تجویز کی تائید کرنا چاہوں گی کہ ڈی ڈی اوز کیلئے بجٹ بنانے اور بجٹ کے صائب استعمال کے منظم طریق کار اپنانے کیلئے تربیتی ورکشاپس کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کیا جائے تاکہ سربراہان ادارہ بھی کلیریکل کمیونٹی پر بلاجواز کام کا بوجھ کم کرنے کی پوزیشن میں آسکیں۔ میں گورنمنٹ ڈگری کالج رائیونڈ فار گرلز کے گوناں گوں اکیڈمک و انتظامی اندرونی مسائل میں گھرنے کے باوجود علاقے کے منتخب نمائندوں اور شعبہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے اپیل کروں گی کہ یہاں کی بچیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ ہم نصابی و دیگر سرگرمیوں کیلئے آڈیٹوریم کی تعمیر‘ سٹاف کی کمی کی دوری اور سپورٹس کی سہولتوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے میدان میں آئیں۔