نیا سال اور اللہ سے تجارت

03 جنوری 2016
نیا سال اور اللہ سے تجارت

ہم مسلمانوں کا سال عیسوی نہیں ہجری ہے۔ہم ہجری سال کے آغاز سے زیادہ عیسوی سال کے شروع ہونے پر جوش وخروش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسا بجا اوردرست ہے کیونکہ ہمارے معاملات عیسوی سن کیساتھ چلتے ہیں۔ ہم تو جمعہ کے بجائے ہفتہ وار چھٹی بھی مسیحی برادری کیساتھ اتوار کو کرتے ہیں،حکومت کو بجلی بچانے کیلئے کئی اداروں میں دوسری چھٹی کی ضرورت محسوس ہوئی تو نظر یہودیوں کے دن ہفتہ پر پڑی۔ ہم زبانی تو ہجری سال کی قصیدہ گوئی کرتے ہیں عملی دلچسپی کتنی ہے؟ہم میں سے کتنوں کو رواں ماہ، اسکی تاریخ اورسنِ ہجری 1437ھ کا علم ہے۔کتنے ہیں جن کو ہجری سن کے مطابق اپنی تاریخ پیدائش یاد ہے۔ بہر حال ہمارے لئے سنِ ہجری اہم ترین ہے اور سنِ عیسوی کی بھی معروضی حالات میں اہمیت ہے۔سن ہجری کا آغاز ہم دعائوں اور سن عیسوی کا خوشیوں سے کرتے ہیں۔کچھ تو حد سے بھی گزر جاتے ہیں جسکی حمایت نہیں کی جاسکتی۔
اللہ پوری دنیا کیلئے نئے سال کو خوشیوں اور امن کا گہوارہ بنائے۔سال کا آغاز مشرق سے مغرب تک تقریباً چوبیس گھنٹے رنگ ونور کی برسات سے ہوتا رہا۔ مغرب میں دہشتگردی کے خدشے پر نئے سال کی بہت سی تقریبات منسوخ کردی گئیں۔ہم پاکستانی زندہ دل ہیں۔ہمارے ہاں پہلے سے زیادہ جذبہ اور جنون نظر آیا۔ نجی اداروں اور این جی اوز نے پروگرامز اور تقریبات کا اہتمام کیا۔بحریہ ٹاون انتظامیہ نے لاہور اور کراچی میں عظیم الشان آتشبازی کااہتمام کیا۔رات بارہ بجے آتشبازی کیساتھ اور ایفل ٹاور کا افتتاح ہونا تھا۔ آتشبازی کا واقعی دلکش اور دلربا نظارہ تھا۔ ایفل ٹاور ڈیزائن،سائزاوراونچائی میں اصل جیسا ہے۔اسی بحریہ ٹائون میں اہرام مصر کی کئی یادگاریں بنائی گئی ہیں۔مختلف شہروں میں بنائے اور بسائے گئے بحریہ ٹائون رقبے اور تعمیرات کے حوالے سے بذات خود شہر ہیں،ان میں دنیا کے عجائبات تعمیر کرکے ملک ریاض نے ایک ندرت اوردلکشی پیدا کردی ہے۔ اسلام آبادکے بحریہ ٹائون فیز8 میں اونچائی پرمجسمہ ء آزادی (Statue of Liberty) اصل کے عین مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ رات کو ارگرد کے ماحول سے لگتا ہے ستارے زمین پر اتر آئے ہیں۔ اسی فیز میں عمارتوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے جن کو دیکھنے سے لگتا ہے عمارت ایک سائیڈسے زمیں میں دھنس گئی ہے۔اصل میں زمین ہموار کئے بغیر تعمیر کو نادر بنایاگیا ہے جبکہ چھت کا لیول برابرہے۔ایسے گھروں کا بھی ایک سلسلہ ہے جن کے گیٹ اور چار دیواری نہیں ۔پہلی بار دیکھنے میں یہ سب عجیب لگا۔ گزشتہ ماہ دسمبر کے شروع میں ہمارے دوست اکرام الحق علوی کے صاحبزادے شہباز علوی کی شادی تھی۔ بارات اوکاڑہ سے گوجرخان جانی تھی ہم لوگ دوروز قبل اسلام آباد چلے گئے تاکہ آسانی سے گوجر خان آجائیں ، پنڈی میں فیملی فرینڈز سے ملاقات اور اسلام آباد، مری کی کچھ سیاحت بھی ہوجائے۔ہم رات گیارہ بجے پنڈی پی ڈبلیو ڈی کالونی پہنچے ،کھانے کے بعد میزبان عثمان قریشی ہمیں بحریہ ٹائون کے عجائبات دکھانے لے گئے تھے۔
ہم نے سارا سفر ویگن آرکار میں کیا، چھ افراد تھے۔ ایک کو ڈگی میں بٹھایا۔ شادی کے کپڑے گاڑی میں ٹھونسنے کے بعد ہمیں گھسڑ کے بیٹھنا پڑا۔اگلی صبح ہم میجر فاروق نذیر کے مہمان تھے،انہوں نے فوجی گیسٹ ہائوس میں دو کمرے بُک کرائے تھے۔یہاں سامان رکھا ناشتہ کیا اور مری کیلئے نکل گئے۔ڈرائیونگ زیادہ میرے بیٹے طاہر نے کی۔اسکی خواہش تھی کہ دوطرفہ روڈ سے جائیں میرے کہنے پر ایکسپریس وے سے سفر کیا۔اس پر بھی جہاں کھائی آتی میں اس طرف کی آنکھ بند کرلیتا تھا۔ ڈرائیونگ میں طاہر مجھ سے کہیںزیادہ ایکسپرٹ اور کچھ مہم جو بھی ہے۔مری میں کار پارکنگ کے تین سو روپے ادا کئے۔ صرف مال روڈ پر چند منٹ چلے۔ مفلر، چادریں،اپر ،جیکٹیںاور عزیز دوستوں کیلئے لے جانیوالے گفٹ سستے ہیں۔شام کو منال چلے گئے۔یہ کافی اونچائی پر ہے جہاں ڈرائیونگ امتحان سے کم نہیں،زگ زیگ سڑک کہیں چڑھائی کہیں اترائی،کہیں یوٹرن،کہیں ایس اور کہیںچڑھائی اترائی کیساتھ وی ٹرن، منال سے اسلام آباد ایک حسین منظر پیش کرتا ہے، زمین پر کہکشائیں بچھی نظر آتی ہیں۔زیادہ تر لوگ اسی منظر سے محظوظ ہونے کیلئے منال جاتے ہیں۔رات کو بھولتے بھلاتے گیسٹ ہائوس آئے۔جی پی آر ایس آن تھا جس نے کسی اورجگہ کی لوکیشن بتا دی تھی۔اسلام آباد میں centaurus نہ جانے کے بارے میں وہی کہا جائیگاجو لاہور نہ دیکھنے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ سینٹورس مہنگا شاپنگ مال ہے جو ٹائی ٹینک کے مشابہ ہے ۔عملے کایونیفارم ٹائی ٹینک کے عملے جیسا ، اندرونی مناظر بھی کسی شپ کے سے ہیں۔اوپر تین ٹاور ایستادہ ہیں۔انتظامیہ کو جانے ایسی عمارت بنانے کی کیا سوجھی۔ ٹائی ٹینک اپنے پہلے سفر کے دوران ڈوب گیا تھا۔ شاید اللہ تعالیٰ کو اسکے مالک کا تکبر پسند نہیں آیا اس نے کہا تھا کہ میں نے اتنا مضبوط جہاز بنا دیا ہے کہ اسے خدا بھی نہیں ڈبو سکتا۔
ملک ریاض نے بحریہ ٹائونز سے تعمیرات کی دنیا میں نئی جہت اور انقلاب برپا کردیا ۔انکی جائیداد کھربوں کھربوں میں اور انکا شمار ملک کے دس امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ انہوں نے دولت کن ذرائع سے کمائی تاہم وہ اپنے بزنس میں دو نمبریوں کاا عتراف خود کرتے ہیں ’’ میں فائلوں کو نوٹوں کے پہیے لگا دیتا ہوں‘‘ آجکل وہ پہیے جام دکھائی دیتے ہیں۔گزشتہ دنوں میڈیا میں انکی ایک بریگیڈیئر کے سامنے پیشی کی خبر بڑی گرم رہی۔ طلبی پر ملک صاحب نہ آئے تو فوجی جیپ کے ذریعے لائے گئے۔ سٹول پربٹھا کر ڈیڑھ دو گھنٹے انتظار کرایا گیا۔کہا جاتا ہے کہ راولپنڈی میں فوجی شہدا کے لیے مختص زمین بھی بحریہ ٹائون میں شامل کرلی گئی تھی۔بحریہ ٹاون انتظامیہ کی ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے ترقیانی پارٹنر اور ٹھیکیدار کے طور پر ’’ڈی ایچ اے سٹی ‘‘ اور ’’ ڈی ایچ اے ویلی ‘‘ جیسے منصوبوں میں شفافیت بھی سوالیہ نشان ہے۔ملک ریاض کو بریگیڈیئر کے سامنے پیش کیا گیاتو انہوں نے شہدا کی اراضی ، دوسرے منصوبوں کے35ارب اور ٹیکس اِدھر اُدھر کرنے کے 19ارب روپے کی واپسی کیلئے کہا۔بریگیڈیئر کا موڈ دیکھ کر وہ اپنا شہرہ آفاق فقرہ بھی نہ دہرا سکے"اس کو چھوڑو تم اپنا بتاؤ، کیا کرنااور لینا ہے؟" ریٹائرڈ بریگیڈیئراور میجر جنرل تک ملک صاحب کی ملازمت میں ہیں، وہ ایسی ہی مشکلات سے بچنے کیلئے رکھے ہیں جو آج درپیش تھی،مگر حاضر سروس افسر بڑا طاقتور ہوتاہے اور پھر جب آرمی چیف بھی اسکے پیچھے کھڑا ہو۔ملک ریاض نے تین ماہ کا وقت مانگا مگر ایک ماہ کی مہلت ملی۔سنا ہے کہ انہوں نے وعدے کے مطابق 54ارب روپے ادا کردیئے۔ کہا جاتا ہے کہ بحریہ ٹائون انتظامیہ اس ادائیگی پر بحران کا شکار ہوگئی ہے جس سے نکلنے کیلئے لاہور سے لوئر درجے کے تیس فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا ، جن کی تعداد 15سو بتائی جاتی ہے۔
ملک ریاض کہتے ہیں ’’ میں اللہ کے ساتھ تجارت کرتا ہوں‘‘ملازمتیں دینا بھی اللہ سے تجارت کاہی ایک ذریعہ ہے۔فقیر نے امیر سے پوچھا کبھی تم مجھے سو روپیہ دیتے تھے پھر پچاس دینے لگے، اسکے بعد 20پر آگئے، آج دس روپے دیئے ہیں؟ صاحب حیثیت نے کہا میں شادی سے پہلے سو دیتا تھا، شادی کے بعدپچاس،پہلے بچے کی پیدائش پر بیس کردیئے دوسرا بچہ ہواتو دس۔ میرے اخراجات بڑھتے گئے توتیرا حصہ کم ہوتا گیا۔فقیر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے تم اپنا گھر میرے پیسوں سے چلارہے ہو۔ملک ریاض بھی کیااب بحریہ ٹائون نکالے گئے ملازموں کی تنخواہوں سے چلائینگے؟ شاید یہ خسارے کی تجارت ثابت ہو۔