دہشت گرد کبوتر کے بعد دہشت گرد تلور

03 اگست 2015

بھارت نے ایک پالتو کبوتر پکڑا، اسے زنجیریں پہنا دیں، کال کوٹھڑی میں بند کر دیا اورڈھنڈورا پیٹا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی وارادت کے لئے کبوتر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ کئی روز تک کبوتر کا فرانزک معائنہ ہوتا رہا، ا س سے کوئی ایٹم بم کیا برآمد ہونا تھا، بے چارے کے پیٹ میں صرف چوہے ناچ رہے تھے۔ لیکن عالمی میڈیا نے پاکستا ن میں ایک اور خفیہ دہشت گرد پرندہ تلاش کر لیا ہے، یہ ایک معصوم سا، بھولا بھالا سا تلور ہے جس کی شہریت بھی پاکستانی نہیں، نہ پاکستان اسے اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتا ہے، یہ سائبیریا کے برفانی ماحول میں پرورش پاتا ہے، جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر جاتا ہے تو گرم علاقوں کی تلاش میں اڑان بھرتا ہے، چاندنی راتوںمیں اس کی ڈاروں کی ڈاریں سینکڑوںمیل کا سفر طے کرتی ہیں، چند ہفتے افغانستان میں سستانے کے بعد یہ چولستان یا بلوچستان کے ریگستانوں میں آن اترتا ہے۔ اس ساری رام کہانی کے باوجود یہ کہیں ثابت نہیںہوتا کہ یہ پرندہ دہشت گرد نہیں ہے، اگر آپ دہشت گردوں کے روٹ پر غور کریں تو وہ بھی یہی ہے جو تلور اختیار کرتا ہے، وہ بھی وسط ایشیا میں پلتے بڑھتے ہیں، افغانستان سے مزید ٹریننگ حاصل کرتے ہیں اور مار دھاڑ کے لئے بلوچستان یا جنوبی پنجاب کو مرکز بنا لیتے ہیں ، جب ان کا جی اکتا جاتا ہے تو واپسی کی راہ لیتے ہیں اور ماسکو یا اورمچی میں ٹھوں ٹھاہ کر کے اپنا شوق پورا کرتے رہتے ہیں۔ لیکن میری بات ابھی شروع نہیں ہوئی، یہ مان لیا کہ پاکستانی کبوتر کی طرح یہ روسی تلور بھی خود دہشت گرد نہیں ہے مگر سی آئی اے یہ نتیجہ ماننے کو تیار نہیں، اس کا پختہ خیال ہے کہ پاکستان میں تلور کے شکار کے لئے جو کیمپ لگائے جاتے ہیں اور ان میں بظاہر عرب شاہزادے قیام کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ کیمپ اسامہ بن لادن کی خفیہ پناہ گاہوں کا کام دیتے رہے، سی آئی اے اس حقیقت کی تہہ تک پہنچ گئی تھی مگر ا س نے اسامہ کو شکاری کیمپو ں میں اسلئے نشانہ بنانے سے گریز کیا کہ ساتھ ہی کوئی سو ڈیڑھ سو عرب شاہزادے اپنے سارے لاﺅ لشکر کے ساتھ ڈھیر ہو جاتے اور دنیا میں ہا ہا کار مچ جاتی، سو امریکہ نے ازراہ کرم احتیاط برتی اور اسامہ کے ایبٹ آباد جانے کا انتظار کیا۔ میں گپ بازکالم نویس نہیں ہوں۔ میں نے کبھی ڈھمکیریاں نہیں چھوڑیں، پہلی عراق جنگ کے دوران نواز شریف نے عرب ممالک میں امن پروازیں کیں تو یہ میری گھڑی ہوئی خبر نہیں تھی کہ وہ دیکھو، صدام کا اسکڈ میزائل اسرائیل کی طرف پرواز کر رہا ہے، نہ میں نے کبھی یہ دعوی کہ عین جنگ کے دوران میں نے افغانستان جا کر اسامہ کا انٹرویو کیا جس میں اس نے دعوی کیا کہ اس کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہے اور وہ امریکہ کو تباہی سے دوچار کر دے گا۔ امریکہ نے کیا تباہ ہونا تھا، اسامہ کے پاس ایک غلیل تک نہ نکلی، اور اسے زندہ یامردہ حالت میں امریکی فوجیوں نے ایبٹ آباد سے ا ٹھا کر بحیرہ عرب کی لہروں کی نذر کر دیا۔ سو میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ حقیقت اور سچ کے قریب قریب رہ کر لکھوں مگر آج کا میرا موضوع واقعی الف لیلوی ہے، افسانہ آزاد کی کوئی کہانی لگتا ہے مگر آپ بھی گوگل پر۔۔ ہوبارہ ٹیرراسٹ۔۔ لکھیں ، سب سے پہلا لنک آپ کو یہ ملے گا اور یہ امریکہ کے انتہائی معتبر اور وقیع خیال کئے جانے والے جریدے فارن پالیسی کا لنک ہے:

Meet the Houbara Bustard: the Rare, Oversized, War-on-Terror Chicken
یہ خبر انتہائی ہوش ربا اور چونکا دینے والی ہے، اور اس میں تلور کی دہشت گردی کا تو سارا کچا چٹھا موجود ہے ہی مگر عرب ا ور امارات کے شاہزادوں کی شہزادگی کی کتھا بھی تفصیل سے موجود ہے جو ا س جریدے کے بقول جنگلی حیاتیات کو بے دردی سے نشانہ بناتے ہیں۔
جریدے کے بقول عرب شہزادوں کا شکار کا شوق صرف اسامہ کے لئے نفع بخش ثابت نہیں ہوا بلکہ امریکہ کے لئے بھی فائدہ مند رہا، وہ اس طرح کہ عرب اور امارات کے شہزادے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جہاز اتارنے کے لئے کئی برسوں سے رن وے بناتے رہے تھے، انہی میں ایک شمسی ایئر بیس کا رن وے بھی تھا جہاں سے امریکی سی ا ٓئی اے نے پاکستان ہی میں ڈرون میزائل مارے تو تلور کا دہشت گردی سے ایک تعلق اور ثابت ہو گیا مگر اس بظاہر معصوم، بھولے بھالے پرندے کی حشر سامانیوں کے خلاف ایف آئی آر یہیں ختم نہیںہو جاتی یمن کا بحران شروع ہوا، عرب دنیا نے پاکستان سے فوجی مدد مانگی، پاکستان کی پارلیمنٹ نے انکار کر دیا، اس پر امارات کے ایک نائب وزیر نے سخت سا بیان دیا۔ بس پھر کیا تھا، امارات اور عرب دنیا کے خلاف ایک طوفان کھڑا ہو گیا، پاکستانی سیاستدانوں اور میڈیا کے بقراطوں نے انہیںبے نقط سنانا شروع کردیں۔ ٹیپ کا بند یہ تھا کہ وہ غول در غول پاکستان آتے ہیں، بے دردی سے تلور کا شکار کرتے ہیںان کے شوق شکار سے یہ پرندہ نایاب ہو گیا ہے اور اگلی کہانی یہ کہ شکار تو محض نام کا ہے، اصل میں وہ صحراﺅں میں عیاشی فرماتے ہیں اس زبانی کلامی دھینگا مشتی میں پاکستان کی عزت سادات خاک میں مل گئی، ہم نے عربوں کو وہ گالیاں دیں اور صلواتیں سنائیں جو عربوں کے وہم و گمان میں نہیں تھیں، ہم نے کہا کہ وہ ہمارے حاجیوں کے صدقے سارے سال کا رزق کماتے ہیں، ہم نے کہا کہ وہ ہماری لیبر فورس پر ستم ڈھاتے ہیں، ہم نے کہا کہ وہ ریگستانوں کے بدو ہیں۔ ہم نے کہا کہ چند ارب ڈالر دے کر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کا ہتھ بندھا غلام ہے اور ان کے اشارہ ابرو پر ناچنے پر مجبور ہے، عربوں کو یہ ذلت تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی، عرب اپنی تہذیب پر، اپنے تمدن پر نازکرتے تھے، وہ عربی زبان کی فصاحت و بلاغت پر اتراتے تھے، وہ علم ، سائنس اور حکمت کا منبع تھے، انہوں نے یورپ کے اندھیروں کو روشن کیا تھا، وہ انبیا کی سرزمین کے وارث تھے مگر ہم پاکستانیوں نے ان کی تنبی اتار کر رکھ دی۔ تلور کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، میڈیا کی یہ جنگ اب عدالتوںمیں ہے، غیر ملکی ڈالروں اور یورو پر پلنے والی این جی اوز ،تلور کے خون کی پیاسی ہیں۔عدالتوں میں رٹوں پر رٹیں دائر کی جا چکی ہیں۔ پاکستان کی محترم اور بڑی سے بڑی عدالتوں کے ہر جج کا اصرار ہے کہ یہ رٹیں اس کے پاس آ جائیں، ایان علی کے بعد تلور کو انصاف دینے کے لئے ہر کوئی بے چین ہے۔ کیوں، آپ خود اندازہ لگائیں۔ مگر یاد رکھئے یہ ساری جنگ تلور کو کیا نقصان پہنچائے گی، ا سکا مقصد بھارت اورا سرائیل کی انگیخت پر پاکستان کو اس کے مخلص تریں، عرب دوستوں سے محروم کرنا ہے۔وہ دوست جو ہر آڑے وقت میں ہمارے کام آئے، اب بھی جو کوئی پاکستانی لوٹ مار سے تھک جاتا ہے، جہاز پکڑتا ہے اور دوبئی کی راہ لیتا ہے، بڑے شہروں کے ایئر پورٹوںکے بعد سیالکوٹ اور ملتان سے بھی دوبئی کی پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔ مگر تلور بے چارہ پھر بھی گردن زدنی ٹھہرا، ا سلئے کہ اسے امریکہ کی سی آئی نے دہشت گرد قراردیا تھا، فارن پالیسی میں چھپی ہوئی رپورٹ ایک مصدقہ فتویٰ ہے ۔

ہتھیار سے تلور تک

بعض شخصیات کو اللہ تعالیٰ مختلف خصوصیات ودیعت کرتا ہے اور انکی ذات مختلف ...