مشرقی بھارت اور میانمار میں سیلاب سے ہلاکتیں 140ہو گئیں، لاکھوں افراد متاثر

03 اگست 2015

نئی دہلی/ینگون (اے این این) مشرقی بھارت اور میانمار میں سیلاب سے ہلاکتیں 140 ہو گئیں، لاکھوں متاثر، ڈیڑھ لاکھ روہنگیا مسلمان بھی خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے، ہزاروں کو پناہ گاہوں سے بھی نکال دیا گیا۔ میانمار کے 4 مغربی علاقے آفت زدہ قرار، اگلے دنوں میں مزید بارش اور تباہی کا امکان۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لگاتار شدید بارش کی وجہ سے بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ بھارت کی مختلف ریاستوں اور پڑوسی ملک میانمار میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 140 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں شدید بارش اور مٹی کے تودے گرنے سے 20 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی شدید بارش کی وجہ سے ہلاکتوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ آسام کے شہر گوہاٹی کے جنڈیل ضلع کے ڈپٹی کمشنر رابرٹ ھیتری مایوم نے مٹی کے تودے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق ریاست مغربی بنگال میں شدید بارش سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 تک جا پہنچی۔ تازہ ہلاکتیں مشرقی اور مغربی میدنی پور، نادیا اور کولکتہ میں ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے بعض علاقوں میں آئندہ 24 گھنٹوں تک شدید بارش کا امکان ہے۔ ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے مطابق شدید بارش کی وجہ سے دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ میانمار میں قومی ریڈ کراس کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کی ڈائریکٹر مگ مگ کھن نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک ایک بڑی تباہی کی زد میں ہے اور آنے والے ہفتے میں مزید بارش کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رخائن کے علاقے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں جن میں زیادہ تر روہنگیا مسلمان ہیں۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...