بارشیں‘ سیلاب‘ سندھ کے سینکڑوں دیہات زیرآب‘ ڈی جی خان میں تباہی : مزید 20 ہلاک

03 اگست 2015

لاہور (نامہ نگاران+ خبرنگار+ سپیشل رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں) ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 20 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ این ڈی ایم اے نے 116 ہلاکتوں کی تصدیق کردی۔ نوشہرہ میں بارشوں سے دریا کے کنارے آباد کئی بستیاں زیرآب آگئیں۔ پانی گھروں میں داخل ہوگیا، نوابشاہ میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے کئی دیہات زیرآب آگئے، تونسہ کے مقام پر سیلابی ریلے سے انڈس ہائی وے بہہ جانے کے بعد پنجاب اور سندھ کا خیبرپی کے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ ڈیرہ غازیخان کے علاقے رکن آباد میں گھر کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔ ادھر ٹانک میں بھی کرنٹ لگنے سے خاتون جاں بحق ہوگئی۔ کرک کے علاقے عمرآباد میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ صادق آباد کے قریب حفاظتی بند پر کٹاﺅ شروع ہوگیا ہے۔ کوہ سلیمان پر بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی ہے، سیلاب کے باعث ڈیرہ غازیخان کے قبائلی علاقوں کا زمینی رابطہ کئی روز سے منقطع ہے۔ ڈی جی خان میں نالہ وڈور میں ایک لاکھ 29 ہزار کیوسک کا ریلا آنے سے بستی وڈور ڈوب گئی، فوج نے لوگوں کو نکالا۔ سندھ اور پنجاب میں سیلاب سے کئی بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔ صادق آباد میں بنگلا دلکشا کے مقام پر پانی کے تیز بہاﺅ کی وجہ سے حفاظتی بند پر کٹاﺅ شروع ہوگیا۔ ڈی جی خان کے علاقے میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دریا ئے سندھ میں چشمہ بیراج کے مقا م پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ کشمور کے مقام پر دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں گڈو بیراج میں پانی کی سطح بڑھنے سے کے کے حفاظتی بند، توڑی بند اور ملاپ حفاظتی بند پر پانی کا دباﺅ بڑھ گیا ہے۔ نوابشاہ میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے کئی دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ سکردو، بلتستان ڈویژن میں بارش اور گلیشیر پگھلنے کے باعث دریائے سندھ سمیت سکردو کے تمام دریاﺅں میں پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ میں حکومتی اندازوں سے زیادہ پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے جس کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایمرجنسی وارننگ جاری کردی۔ دریائے سندھ کے سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گھوٹکی کے مزید 50 دیہات زیرآب آگئے۔ چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ مقامی قبرستان میں پانی سے درجنوں قبریں مسمار ہوگئیں۔ چھتیں دیواریں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ میاں چنوں سے نامہ نگار کے مطابق بارش نے تباہی مچا دی، مکان کی چھت گرنے سے کمرے میں سوئے ہوئے باپ بیٹی جاں بحق ہوگئے جبکہ 5 سالہ بچی اور 8 سالہ بیٹا شدید زخمی ہوئے۔ امجد علی 3 سالہ بیٹی حنسا کو اٹھا کر باہر نکلنے کی کوشش میں ہی تھا کہ مکان کی چھت باپ بیٹی پر آگری۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق پرانی سبزی منڈی کے علاقہ کے قر یب شہر سے تقر یباً 100 فٹ سے بلند ٹیلے ڈھکی سے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث محنت کش محمد جمیل کے گھر کی چھت پر آ گرا جس کے نتیجہ میں محمد جمیل، اسکی بیوی فریدہ بی بی، بیٹے احمد جمیل اور بلال جمیل مٹی کے ملبے تلے دب گئے۔ فریدہ بی بی اسکے بیٹے احمد جمیل اور بلال جمیل مو قع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ ساہوکا سے نامہ نگار کے مطابق دیوان صاحب میں مکان کی چھت گرنے سے آمنہ بی بی موقع پر جاں بحق ہوگئی۔ دریائے جہلم کی نزدیکی آبادیوں میں سیلاب کا پانی داخل ہونا شروع ہوگیا، ہزاروں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں۔ فیصل آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا۔ شہری نہانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ بھکر سے نامہ نگار کے مطابق دریائے سندھ میں بھکر کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ملکوال سے نامہ نگار کے مطابق بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ رینالہ خورد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق دریائے راوی کنڈبوڑھ کے مقام پر 6 دوست نہاتے ہوئے ڈوب گئے، چار بچ گئے جبکہ دو لاپتہ ہو گئے۔ دریائے راوی کے مقام کنڈبوڑھ کے مقام پر موضع کوہلہ کے رہائشی حارث، محمد حسن، زیب، عثمان علی، نواز اور بلال اچانک تیز ریلا آنے پر ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے اور چار دوست کنارے تک پہنچ گئے مگر حارث اور محمد حسن کو پانی کا ریلا اپنے ساتھ لے گیا۔ دیپالپور سے نامہ نگار کے مطابق ٹی ایم اے اور نادرا آفس بارش کے پانی سے ڈوب گیا۔ سمبڑیال سے نامہ نگار کے مطابق نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے 18 سالہ نوجوان خالد محمود ڈوب گیا۔ پاک بحریہ کی ریسکیو ٹیموں کی بدین، خیرپور، گھوٹکی، سکھر، پنوں عاقل، لاڑکانہ، رانی پور اور گمبٹ میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے دوران لیہ اور گردونواح سے 15 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور متاثرین میں خوراک کے پیکٹ تقسیم کئے۔ گجرات سے نامہ نگار کے مطابق بارش میں پھسلن کے باعث کار حادثہ کا شکار 24 سالہ نوجوان طارق جاں بحق اور اسکے تین دوست زخمی ہوگئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پاکپتن کے علاقے پرانی سبزی منڈی میں چھت گرنے سے ماں اور 2 بیٹوں کے جاں بحق ہوئے اور میاں چنوں کے علاقے میں چھت گرنے سے باپ بیٹی کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔میانوالی سے نامہ نگار کے مطابق 48 گھنٹوں کی موسلادھار بارش کی وجہ سے میانوالی اور اس کے نواحی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال، گلیاں بازار اور سڑکیں پانی سے بھر گئیں۔ چھتیں اور دیواریں گرنے سے ایک شخص جاں بحق، 12 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کا سلسلہ ایک ہفتہ تک چلتا رہیگا لیکن اگلے دو روز میں اس میں شدت آنے کا امکان ہے تاہم دو روز کے بعد بارشوں کی شدت مےں کمی ہوجائیگی۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات صاحبزاد خان نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ لاہور‘ گوجرانوالہ‘ فیصل آباد سمیت پنجاب کے بعض مقامات پر آئندہ دو روز میں بارشوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا امکان ہے لیکن دو روز کے بعد بارشوں کا سلسلہ تھوڑا تھم جائیگا لیکن یہ سلسلہ ایک ہفتہ تک چلتا رہیگا۔ سیلابی پانی عیسیٰ خیل گرڈ سٹیشن میں بھی داخل ہوگیا۔ ہسپتال کا تمام سامان پانی میں ڈوب گیا۔ این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے ملک بھر میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 2000 سے زائد دیہات کو نقصان پہنچا، سب سے زیادہ اموات 59 خیبر پی کے میں ہوئیں۔ بی بی سی کے مطابق خیبر پی کے میں گزشتہ روز 11 ہلاکتیں ہوئیں۔ آزاد کشمیر کے علاقے نیگوئیں کے مقام پر دو لڑکیاں برساتی نالے میں بہہ گئیں۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مجموعی طورپر جاں بحق افراد کی تعداد 116 ہوگئی، چترال، گلگت اور سکردو میںلینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والی رابطہ سڑکیں بارش کے باعث بحال نہ ہو سکی۔ پانی میں پھنسے لوگوں نے باہر آتے ہی پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ گلگت بلتستان میں دو روز سے جاری گرمی کی شدت کے باعث گلیشیر پگھلنے کا عمل تیز ہوگیا ہے جس سے دریا اور ندی نالوں میں پھر طغیانی آگئی، دریائے کابل کا پانی نوشہرہ میں داخل ہوگیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ قصور سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق دریائے ستلج میں ابھی تک بھارت کی جانب سے پانی کو نہیں چھوڑا گیا مگر بارشوں کی وجہ سے دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس وقت دریا کے تلوار پوسٹ پر پانی کی 4-70 اور کیکر پوسٹ پر 15.40 اور ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام سے پانی کا اخراج 16780 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ باقر کے پوسٹ پر محکمہ اریگیشن کی جانب سے پانی کی گیج 662.40 اور کوٹھی فتح محمد کے مقام پر 8.70 گیج ریکارڈ کی جارہی ہے۔ محکمہ اریگیشن اور فلڈ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق ابھی تک دریائے ستلج میں سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بھارتی پنجاب کے علاقوں میں بارشیں تیز ہوئیں تو ایسی صورت میں بھارت پانی کا بڑا ریلا چھوڑ سکتا ہے۔ بہاولنگر سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق بہاولنگر کی سب تحصیل ڈونگہ بونگہ شہر سے ملحقہ سیم نہر میں بارشوں کے سبب 100 فٹ سے زائد چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد رہائشی محلے، آبادیاں زیر آب آگئیں۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق دریائے ستلج پر تعمیر کئے گئے بابا فرید برج کے ساتھ حفاظتی بند تعمیر نہ ہونے سے پانی نے برج کے ساتھ کٹاﺅ شروع کر دیا۔ سیلابی پانی سے پاکپتن اور منچن آباد کا زمینی راستہ منقطع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ سکردو کے علاقے کھرمنگ ہرغوسل میں آسمانی بجلی گرنے سے پن بجلی گھر تباہ ہوگیا۔ جماعة الدعوة کے رفاہی ادارے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی طرف سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف و ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سکردو، چترال، لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، سکھر، سندھ میں 79 ریلیف و میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد کو کشتیوں کے ذریعے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے رضاکاروں نے ریسکیو کیا۔ متاثرہ علاقوں میڈیکل ٹیموں نے 15 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا ہے۔
سیلاب