پی ٹی آئی کے استعفے موثر ہوچکے، انہیں منظور کرنے کیلئے کہا جائے: جسٹس (ر) وجیہہ

03 اگست 2015

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ میرے ذاتی خیال میں پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے موثر ہوچکے ہیں، اعلان کرنا چاہئے کہ ہمارے استعفے منظور کئے جائیں۔ ہم ضمنی انتخاب لڑ کردوبارہ واپس آئیں گے، جب دیکھا کہ ہمارے آرڈر ہی آرڈر ہیں اور ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا تو ٹربیونل نے لیگل ٹرم کے تحت خودکو (سسپنڈ) کرلیا لیکن جب چاہیں اسے دوبارہ بحال کر کے معاملات اٹھا سکتے ہیں، ہمارے آرڈر پر عملدرآمد نہیں بھی ہوتا لیکن جب پارٹی میں شفاف اور براہ راست انتخابات ہونگے تو ٹربیونل کی طرف سے فارغ کئے گئے افراد کا نام و نشان نظر نہیں آئیگا، آنے والی باڈی بھی ہمارے آرڈر ماننے کی پابند ہوگی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان با اصول آدمی ہیں، وہ جھوٹ بھولنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیتے ہوئے لوگوں کے ذریعے ہی آگے جایا سکتا ہے اسلئے وہ مکس لوگوں کے ذریعے آگے آنا چاہتے ہیں۔ انکی سوچ تھی اورغالباً اب بھی ہے کہ جب پارٹی کامیاب ہوجائیگی تو ایسے لوگوںکو فارغ کردیا جائیگا لیکن میں انکی اس بات سے متفق نہیں ۔ پی ٹی آئی کی بنیاد ایک وژن تھا اور آئیڈیالوجی تھی جو عمران خان نے پارٹی کو دی جس کا پورے ملک میں پرچار کیا۔ جب 30 اکتوبر 2011ء کو جلسہ کیا گیا تو کیا یہ جیتنے والے لوگ اس وقت ساتھ تھے۔ میرے خیال میں پارٹی میں کسی حد تک لوٹا ازم آ گیا ہے۔ میرے علم میں یہ باتیں آئیں کہ کچھ لوگ اپنی سیاسی پارٹی بنانا چاہتے تھے لیکن کسی نے انہیں اشارہ دیا کہ کیوں اتنے لمبے جھنجھٹ میں پڑتے ہو، نئی سیاسی جماعت بنانا جوئے شیر لانے کی مترادف ہے اسکی کیا ضرورت ہے پی ٹی آئی بنی بنائی پارٹی ہے وہاں جائو اور لیڈری سنبھالو ۔ پارٹی ٹربیونل جہانگیر خان ترین، پرویز خٹک، نادر لغاری اور عبدالعلیم خان کو فارغ کرچکا ہے۔ عمران خان نے حالیہ ملاقات میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہوتے ہی پارٹی انتخابات کرا دیئے جائیں گے جبکہ پارٹی کے 70 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر وں کی لسٹوں کو بھی دو ماہ میں اپ ڈیٹ کیا جائیگا پارٹی میں براہ راست الیکشن ہوں گے ۔ مجھے عمران خان نے کہا کہ اگر ان لوگوں کو فارغ کردونگا تو پارٹی کس طرح چلے گی جس پر میں نے انہیں کہا کہ آپ کے پاس 70لاکھ لوگ ہیں آپکو سات لوگ نظر نہیں آتے جو ان کی جگہ عہدوںں پر کام کرسکیں ۔ عمران خان نے موقف اپنایا کہ احتساب تو بلا امتیاز ہونا چاہیے، پارٹی میں بڑے بڑے چور بیٹھے ہوئے ہیںآپ نے صرف انہیں فارغ کر دیا ہے جس پر میں نے کہا کہ اس طرح تو ہر چور اور ڈاکو عدالت سے کہے گا کہ ہزاروں، لاکھوں چور گھوم پھر رہے ہیں پہلے انہیں پکڑیں۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب ہم ان آرڈر پر سیاسی طور پر عملدرآمد کرائیں گے۔ فرض کرلیں ہمارے آرڈر پر عملدرآمد نہیں بھی ہوتا لیکن اب جب پارٹی میں براہ راست شفاف انتخابات ہوں گے تو ٹربیونل کی طرف سے فارغ ہونے والوں کانام و نشان نہیں رہیگا یہ منتخب ہو کر نہیں آئیں گے۔ دریں اثنا جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری کی نئی سیاسی جماعت میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا ۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری کے کچھ قر یبی لوگوں نے وجیہہ الدین سے رابطہ کر کے انکو افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ملکر سیاست کر نے کا مشورہ دیا مگر جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے انکارکر دیا ہے جب اس سلسلے میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ میں تحر یک انصاف میں ہوں افتخار محمد چودھری کے ساتھ ملکر سیاست نہیں کرونگا۔