شدید اختلافات کے باعث عالم اسلام میں اتحاد ممکن ہی نہیں: مصری سفیر

03 اگست 2015

اسلام آباد (جاوید صدیق) پاکستان میں مصر کے سفیر سعید ہندام نے کہا ہے کہ پاکستان اور مصرکو تجارت بڑھانے کیلئے نئے سمندری روٹس تلاش کرنا ہونگے۔ نہر سویز اور کراچی پورٹ کے درمیان براہ راست رابطہ ہونا چاہئے۔ اس وقت دونوں ملکوں کی تجارت دوبئی کے ذریعے ہو رہی ہے۔ وقت نیوز کے پروگرام ایمبیسی روڈ میں انٹرویو دیتے ہوئے مصر کے سفیر نے جو چند دنوں میں پاکستان میں اپنا عرصہ سفارت مکمل کرنے کے بعد واپس قاہرہ جانے والے ہیں، کہا کہ پاکستان نے ٹیکسٹائل کے شعبے کے سرمایہ کاروں نے مصر میں تین ٹیکسٹائل ملیں قائم کی ہیں جو کامیابی سے چل رہی ہیں، مزید ملیں قائم کرنے کی گنجائش ہے۔ مصری سرمایہ کاروں نے پاکستان میں ٹیلی کام تعمیرات اور سیمنٹ شعبہ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ بحیثیت سفیر انکی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے تو مصری سفیر سے کہا انکے دور میں مصر کے صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دوسرے اعلیٰ حکام نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان کے وزیراعظم نے مصر کا دورہ کیا۔ انہوںنے کہا عرب سپرنگ اب مصر میں جمہوری انداز اختیار کر چکا ہے۔ جمہوری ادارے مستحکم ہو رہے ہیں۔ اخوان المسلمون نے مصر میں تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دی۔ ریاستی اداروں کے خلاف تشدد کیا گیا اگر مصر میں ادارے مضبوط نہ ہوتے تو حالات بہت خراب ہوتے۔ ان سے پوچھا گیا شام عراق، لیبیا اور کئی ملکوں میں آئی ایس نے تشدد آمیز کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ کیا یہ تنظیم مغربی ممالک کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے تو مصری سفیر نے کہا مغربی ممالک پرتشدد کارروایوں کی حمایت نہیں کرتے۔ آئی ایس اور دوسری انتہا پسند تنظیمیں اسلامی نظام قائم کرنے کا نعرہ لگا کر اٹھی ہیں لیکن انہوں نے دہشت گردی اور تشدد کو ہوا دی ہے۔ مصری سفیر نے کہا عالم اسلام میں اختلافات اس قدر شدید ہیں کہ اس میں اتحاد کا خواب کبھی نہیں پورا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ او آئی سی کی جگہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کی طرز پر ایک علاقائی تنظیم قائم کرنے کی ضرورت ہے۔