حرام اشیا کی فروخت پر ایک سال قید، 10 لاکھ جرمانہ،68 سال بعد حلال اتھارٹی بل تیار

03 اگست 2015

اسلام آباد (آن لائن) حکومت کو 68 سال بعد ہلال، حرام کی تمیز کا بالآخر خیال آ ہی گیا۔ حلال اتھارٹی بل تیار کر لیا گیا۔ حرام اشیاء کی فروخت پر ایک سال قید 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ مسودہ قائمہ کمیٹی کے پاس ہے جس کی منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ بل کی تیاری اور منظوری کے بعد پاکستان بھر میں بیرون ملک سے آنے والی سینکڑوں کھانے پینے کی اشیاء حرام قرار دی جا سکتی ہیں۔ اتھارٹی 16 رکنی بورڈ آف گورنرز پر مشتمل ہو گی۔ جس کا سربراہ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ہو گا۔ بورڈ میں وزارت مذہبی امور سمیت دیگر متعلقہ وزارتوں اور صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اتھارٹی کے معاملات چلانے کے لئے تین رکنی مجلس عاملہ بھی قائم کی جائے گی۔ اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل ہی ان کا چیف ایگزیکٹو ہو گا۔ اتھارٹی درآمدات ، برآمدات بارے پالیسیوں، حکمت عملی، منصوبوں اور پروگراموں کو ترقی دے گی۔