چاغی : جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں القاعدہ کا سربراہ عمر لطیف مقابلے میں ہلاک‘ بیوی دو بچے حراست میں لے لئے گئے : بھائی فرار

03 اگست 2015

کوئٹہ+ تربت+ قلات (بیورو رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان کے پاک افغان سرحدی علاقے چاغی میں حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کی جس کے دوران مقابلے میں بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں القاعدہ کی سربراہی کرنے والا کمانڈرعمر لطیف عرف لقمان ہلاک ہوگیا جبکہ اسکی بیوی کو دو بچوں سمیت حراست میں لے لیا گیا جو پنجاب اور بلوچستان میں القاعدہ خواتین ونگ کی سربراہی کرتی تھیں جس کی بہن اور بہنوئی لاہور جیل میں قید ہےں جبکہ مارے جانےوالے کمانڈر کا بھائی موقع سے فرار ہوگیا۔ مارے جانے والے کمانڈر، حراست میں اور فرار ہونے والوں کی گرفتاری پر حکومت پنجاب نے لاکھوں روپے کا انعام مقررکر رکھا تھا یہ بات صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز احمد بگٹی نے سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) اکبر حسین درانی کے ہمراہ اپنے دفترمیں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ میر سرفرازبگٹی نے بتایاکہ آپریشن ضرب عضب کی بھرپور کامیابی کے نتےجے میں شمالی وزیرستان میں القاعدہ برصغیرکی آماجگاہیں تباہ کردی گئیں جس کے بعد القاعدہ کی قیادت نے کوشش کی کہ وہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چاغی میں آماجگاہیں قائم کرکے یہاں سے تخریبی کارروائیوں کے ذرےعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کرے۔ گزشتہ روز پاکستانی خفیہ اداروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے القاعدہ کے مطلوب دہشت گرد عمرلطیف عرف لقمان عرف محمد جوکہ دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں جن میں گوجرانوالہ،گجرات اور لاہور میں ملوث رہا ہے اور پنجاب حکومت نے اس کے سرکی قیمت 20لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی القاعدہ نے مذکورہ دہشت گردکے ذمے کوئٹہ اور افغانستان میں لاجسٹک اور سفری سہولیات کی فراہمی کا ہدف دیا تھا۔ وزیرداخلہ نے بتایاکہ عمرلطیف القاعدہ کمانڈر نے مذکورہ ٹاسک کو مدنظررکھتے ہوئے اپنا نیٹ ورک بلوچستان میں قائم کرنے کی شروعات کیں اور اپنی کارروائیوں کو پوشیدہ رکھنے کےلئے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گزشتہ تقریباً10 ماہ قبل افغانستان کے صوبہ نمروز سے بلوچستان منتقل ہوا اور پاک افغان کے سرحدی علاقے چاغی میں اپنی ابتدائی سرگرمیاں شروع کیں ملزم نے اپنے چھوٹے بھائی بلال لطیف عرف یاسر کے ذمے جنوبی پنجاب میں اغواءبرائے تاوان، قتل وغارت، پاک فوج ، پولیس کے عہدہ داروں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری لگارکھی تھی جبکہ خود تمام معاملات کی نگرانی کرتا تھا بلال لطیف نے اندرون پنجاب ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے اس کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کی عمرلطیف کی زوجہ طیبہ عرف فریحہ باجی بھی القاعدہ وومن ونگ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کی سربراہی کر رہی تھیں جو اہداف کے حصول کےلئے ریکی کے امور سرانجام دیتی تھی اور اس کے سر کی قیمت 5لاکھ روپے مقرر تھی ان بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر خفیہ اداروں نے عمرلطیف کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا سراغ لگانے کےلئے دن رات محنت کرکے گزشتہ روز چاغی کے علاقے میں مذکورہ کمپاﺅنڈ کو تلاش کرلیا اور اس کا محاصرہ کرکے کارروائی کی جس پر مطلوب دہشت گرد نے اپنی بیوی اور دو بچوںکو بطور ڈھال استعمال کیا لیکن فورسز نے مہارت کے ساتھ خاتون اور بچوں کوبچا لیا جبکہ کارروائی کے دوران مطلوب ملزم عمرلطیف ہلاک ہوگیا۔ سکیورٹی فورسز نے ملزم کی بیوی اور القاعدہ کی رہنما طیبہ بی بی عرف فریحہ باجی کو حراست میں جبکہ بچوں کو تحویل میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا جبکہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کا بھائی بلال افغانستان کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اس موقع پر سرفراز بگٹی نے بتایاکہ عمرلطیف کےخلاف گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی سمیت مختلف دفعات پرمشتمل 6مقدمات جبکہ عمرلطیف اور بلال لطیف مختلف پولیس تھانوں، پاک فوج کے کیمپ، اقلیتوں کی عبادت گاہوں ،پولیس ،ملکی حساس تنصیبات ، اعلیٰ شخصیات کے اغواءبرائے تاوان کی کارروائیوں سمیت ریلوے چوکی تھانہ گوجرانوالہ بم دھماکہ، پولیس ریسٹ ہاﺅس بم دھماکہ، ڈی آئی جی آفس گوجرانوالہ بم دھماکہ، سبزی منڈی بم دھماکہ، سی آئی اے پیپلزکالونی گوجرانوالہ بم دھماکہ اور پنجاب میں اعلیٰ شخصیات کے اغواءبرائے تاوان میں ملوث رہے ہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کے بعد پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد کوچھپنے کی جگہ نہیں ملے گی وہ ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہوں یا پھر مارے جائےنگے، بلوچستان کو دہشت گرد اپنی محفوظ پناہ گاہ بنانا چاہتے تھے جس کو سیکورٹی فورسز کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیںگی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مارا جانے والا دہشت گرد اور دیگر ساتھی لاہورکے رہائشی ہےں سرفراز بگٹی نے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ برطانوی شہریت رکھنے والادہشت گرد ہے جو وہاں پر بیٹھ کر پاک فوج اور پاکستان کےخلاف زبان درازی کررہا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اگر اسے تنقیدی سیاست کا اتناہی شوق ہے تو وہ برطانیہ کے بجائے پاکستان آکر بات کرےں۔ ادھر بلوچستان کے ضلع تربت سے دو افراد کی نعشیں ملی ہیں۔ جنہیں گولیاں مارکر قتل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نامعلوم افراد کی نعشیں تربت کے علاقے چاہ سر سے ایک مکان سے ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ پولیس نے نعشوں کو شناخت اور دیگر کارروائی کےلئے ڈسٹرکٹ ہسپتال تربت منتقل کردیا گیا۔ ادھر فرنٹیئر کور بلوچستان اور حساس اداروں نے قلات میں سرچ آپریشن کے دوران کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوںکو گرفتار کر لیا ہے ۔ تینوں کا تعلق بلوچستان کی کالعدم تنظیم بی ایل اے سے ہے جبکہ جعفر آباد میں ایف سی نے کارروائی کرتے ہوئے 2دہشت گردوں کو گرفتار کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ اتوار کے روز قلات کے نواحی علاقے منگوچر میں ایف سی اور حساس اداروں نے سرچ آپریشن کیا اور اس دوران خفیہ مقام پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے وقت ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔ ادھر سندھ اور بلوچستان میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ سندھ، بلوچستان کے قریبی ضلع جعفر آباد گنداخہ کے علاقے میں ایف سی کی کارروائی میں بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا جبکہ دو دہشت گرد گرفتار کر لئے گئے۔ گوٹھ فیض محمد میں کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ دہشت گردوں کی مزید تفتیش کے لئے نامعلم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، دہشت گردوں سے 8راکٹ لانچر، 4ایل ایم جی، 5بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ ادھر آواران کے علاقے مشکے میں ایف سی کے سرچ آپریشن کے دوران دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ترجمان ایف سی کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔ ادھر خضدار کی تحصیل نال کے علاقے گریشہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر کوئٹہ میں بھی ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد سندھ کے علاقے سکھر میں بم دھماکے اور دیگر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔
القاعدہ سربراہ ہلاک