نواز اردگان ملاقات میں دہشتگردی کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق، داعش پھیلنے اور طاقت پکڑنے لگی----- پاکستان میں دہشتگردوں کی بیرون ملک سے آکسیجن بند کرنا ہو گی

03 اگست 2015
نواز اردگان ملاقات میں دہشتگردی کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق، داعش پھیلنے اور طاقت پکڑنے لگی----- پاکستان میں دہشتگردوں کی بیرون ملک سے آکسیجن بند کرنا ہو گی

وزیراعظم نوازشریف اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔ جس میں دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ، عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں موجود تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان خطے میں امن و استحکام خصوصاً افغانستان میں جاری مفاہمتی عمل پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان اور ترکی نے دولت اسلامیہ (داعش) اور اس جیسی دوسری عسکریت پسند تنظیموں سے لاحق ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے انسداد دہشت گردی پر مبنی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ۔
پاکستان نے امریکہ کی قیادت میں لڑی جانیوالی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد جب مناسب سمجھا پاکستان کی سر زمین اور وسائل استعمال کرتے ہوئے افغانستان پر یلغار کی اور اپنے مقاصد حاصل کرلئے تو افغانستان سے کوچ کر گیا۔ امریکہ اور اتحادیوں کی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان جہاں سو ارب سے زائد کے معاشی نقصان سے دو چار ہوا، وہیں بدترین دہشتگردی کی لپیٹ میں آیا۔ پانچ ہزار سے زائد فوجیوں سمیت 60 ہزار پاکستانی اس دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ امریکہ اس خطے سے کامران لوٹا یا مایوس اور ناکام ہوا اس پر دو آرا ہو سکتی ہیں۔ مگر پاکستان میں دہشتگردی کا الائو امریکہ کی جنگ کے باعث ہی بھڑکا ہے جس کو بجھانے میں امریکہ نہ صرف اپنا کردار ادا نہیں کر رہا بلکہ بعض معاملات میں اس کا کردار مشکوک اور اس کا پاکستان کو اپنا دوست اور فرنٹ لائن اتحادی قرار دینا بھی ایک سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔
پاکستان میں دہشتگردی ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ حکومتیں دہشتگردوں سے خائف اور بے گناہ پاکستانیوں کو بموں سے اڑانے، دفاعی تنصیبات تباہ کرنے اور فوجیوں کے سرکاٹ کر فٹبال کھیلنے والوں سے مذاکرات کر رہی تھیں اور مذاکرات ہی کو دہشتگردی کے خاتمے کا حل قرار دیا جا رہا تھا۔ بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنما ان کی برملا حمایت کرتے تھے، اس سے دہشتگردوں کے حوصلے کیوں نہ بڑھتے۔ بالآخر فوجی قیادت نے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا، سیاسی قیادت نے ساتھ دیا اور آج دہشتگرد ضرب عضب آپریشن میں مارے جا رہے۔ کئی فرار ہو کر افغانستان چلے گئے کچھ پاکستان میں روپوش ہو گئے اور اپنے سہولت کاروں کے تعاون سے جہاں موقع ملتا ہے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔
ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لئے سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے۔ دہشتگرد، ان کے سہولت کار اور حامی اگر پاکستان ہی تک محدود ہوتے تو اب تک دہشتگردوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا یا وہ خاتمے کے قریب ہوتے مگر پاکستان میں جاری دہشتگردی کے ڈانڈے بیرون ممالک سے بھی ملتے ہیں، بھارت سمیت کئی ممالک دہشتگردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ان میں بظاہر ہمارے کچھ بہی خواہ مسلمان ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں دہشتگرد عناصر اپنے باطل نظریات کو دین قرار دیکر ریاست کو انہی نظریات پر چلانا چاہتے ہیں۔ جو ایسے نظریات کی مخالفت کرتا ہے وہ ان کے نزدیک قابل گردن زدنی ہے۔ دہشتگردوں نے سینکڑوں علماء کو اپنے نظریات سے اختلافات پر قتل کر دیا۔ حکومتیں ان کے مطالبات کو پذیرائی نہیں دے رہی تھیں تو ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ دہشتگرد گروپ کے باطل نظریات نے پاکستان کے باہر جنم لیا اور پاکستان میں داخل ہو کر تباہی مچا دی۔ ایسے نظریات کی آبیاری القاعدہ نے کی۔ جسے کئی ممالک کے شدت پسند گروپوں نے قبول کیا اور اب داعش کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ ان نظریات کو فروغ دے رہی ہے۔ داعش تمام مسلم ممالک پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ اور منصوبے بنا رہی ہے۔ اس نے عراق اور شام کو تو تاراج کر کے رکھ دیا ہے سعودی عرب میں دہشتگردی کرا کے اپنی موجودگی ظاہر کر دی۔ 20 جولائی کو بغداد میں کار بم حملے میں 120 افراد مارے گئے اور 130 زخمی ہو گئے اس واقعہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ کراچی میں صفورا گوٹھ سانحہ میں بھی داعش کا کردار سامنے آیا۔ گزشتہ روز داعش نے لیبیا میں چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں 7 فوجی ہلاک ہوئے اور 15 کو اغواء کر لیا گیا۔ عراق اور شام کے بعد داعش یمن اور افغانستان میں بھی اپنے قدم جما رہی ہے۔ ضرب عضب کی کاری ضرب پر ٹی ٹی پی کمزور اور منتشر ہوئی تو اس کے ایک مفرور دھڑے نے افغانستان میں داعش میں شمولیت اختیار کر لی۔ داعش ہر گزرتے دن کے ساتھ طاقتور ہو رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان اور داعش ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈرون حملے میں داعش کے افغانستان میں امیر حافظ سعید اورکزئی سمیت 30 شدت پسند مارے گئے۔ طالبان کے ساتھ جھڑپ میں بھی داعش کے دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغانستان سے آج کل داعش پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنیوالوں کی حمایت اور پشت پناہی کر رہی ہے۔ پاکستان سے فرار ہونیوالے طالبان ملا فضل اللہ کی سربراہی میں سوات آپریشن کے بعد بھی ایسا کر رہے ہیں۔ فضل اللہ گروپ کو افغان انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل ہے جس نے حکیم اللہ محسود کے ایک ساتھی لطیف اللہ محسود کو تو امریکہ کے حوالے کر دیا مگر فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کیا نہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کی۔ 16 دسمبر 2014ء کے سانحہ پشاور کے بعد فوجی قیادت کے پے در پے دوروں کے بعد اشرف غنی انتظامیہ نے پاکستان سے فرار ہو کر آنیوالے دہشتگردوں کے خلاف دو آپریشن ضرور کئے۔
مگر اس کے بعد نہ صرف خاموشی چھا گئی بلکہ اشرف غنی پاکستان پر 14 سال سے افغانستان پر جارحیت کے الزام لگائے گئے۔ ان کے خیالات اور پالیسیوں میں تبدیلی بھارت کے دورے کے بعد آئی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے مطابق بھارت بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشتگردی کرا رہا ہے۔ فوجی ترجمان نے تو خبردار کیا تھا کہ وہ ضرب عضب آپریشن کو ناکام بنانے کے لئے دہشتگردوں کی مدد سے باز رہے۔
پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شدید مالی و جانی نقصان اٹھایا اس جنگ میںبھارت الگ تھلگ رہا مگر امریکہ دفاعی، تجارتی اور سفارتی معاملات میں بھارت پر نوازشات کر رہا ہے۔ افغان انتظامیہ آج بھی امریکہ کی مرضی کے بغیر کوئی پالیسی نہیں بنا سکتی۔ کیسے مان لیا جائے کہ افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں داخل ہو کر امریکہ کی منشاء مرضی کے خلاف کارروائی کر جاتے ہیں۔ افغان حکومت نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیوں روک دیا؟ فضل اللہ کو انجام تک پہنچایا نہ پاکستان کے حوالے کیا۔ بھارت کو افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت سے کیوں باز نہیں رکھا جاتا ہے۔ بلاشبہ پرامن اور مضبوط افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ جہاں طالبان اور افغان حکومت ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ اب داعش بھی یہاں گھس آئی ہے۔ جس کی دونوں سے مدبھیڑ ہے۔ افغانستان میں داعش کا مضبوط ہونا افغانستان امن عمل کے لئے مزید خطرہ ہے۔
پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے پاکستان نے قطر میں ہونیوالے افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کی حمایت کی اور گزشتہ ماہ مری میں افغان انتظامیہ اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا۔ ان مذاکرات سے افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوتی نظر آئی تھی مگر ملا عمر کے جاں نشیں ملا اختر منصور نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ گویا افغان حکومت سے ہماری سیاسی و عسکری قیادت جن لوگوں سے مذاکرات کراتی رہی وہ طالبان کے نمائندہ نہیں تھے۔ ملا اختر منصور گروپ کو بھی انتشار کا سامنا ہے مگر اس گروپ کو نظر انداز کر کے طالبان سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں نہ افغانستان کا امن یقینی بن سکتا ہے۔
پاکستان میں دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لئے ان کی بیرون ممالک سے پشت پناہی، مدد اور تعاون کو رکوانا ضروری ہے۔ اس کے لئے امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنے پر قائل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ داعش کو نکیل ڈالنے کے لئے اس کی کارروائیوں سے متاثر سعودی عرب، لیبیا، عرب ممالک اور ترکی کا اتحاد بھی ناگزیر اور وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اسے نظر انداز کیا گیا تو ہر ملک شام اور عراق کی تصویر بنا نظر آئیگا۔