الطاف نے جو زبان استعمال کی اس نے حکام کو جوابی کارروائی پر مجبور کردیا

03 اگست 2015
الطاف نے جو زبان استعمال کی اس نے حکام کو جوابی کارروائی پر مجبور کردیا

لاہور (سید شعیب الدین سے) نائن زیرو پر چھاپے اور رینجرز کی طرف سے کراچی میں جاری آپریشن کی شدت پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سکیورٹی اداروں، رینجرز اور پاک افواج کے خلاف جو زبان استعمال کی، اس نے پاکستانی حکام کو انتہائی جوابی کارروائی پر مجبور کردیا۔ حکومت برطانوی حکومت کو قانونی ریفرنس بھجوا رہی ہے، وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کراچی میں دہشت گردوں، بھتہ خوروں ، لینڈ مافیا میں شامل اور اور ملوث ایم کیو ایم کے رہنماﺅں، کارکنوں کے خلاف ایکشن مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے جو لہجہ اختیار کیا اس سے قبل کسی وزیر نے اتنے کھلے انداز میں ایم کیو ایم کو نہ تو مخاطب کیا نہ ہی ان کے خلاف باقاعدہ اتنے سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔ انکا یہ کہنا کہ الطاف حسین نے اپنی آخری تقریر میں ساری حدود پار کرلی تھیں اسلئے درست نہیں کہ عسکری ادارے اور خفیہ ایجنسیاں پہلے بھی ان کے غصے کا نشانہ رہی ہیں۔ انہوں نے بھارت یاترا کے دوران یہاں تک کہا تھا کہ برصغیر کی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ہونیوالی پیشرفت کا الطاف حسین کو مکمل ادراک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پھندا ان کے گلے کے گرد تنگ ہورہا ہے۔ وہ اسلئے بھی ڈپریشن کا شکار ہیں کہ وزیر داخلہ چودھری نثار اعلان کرچکے ہیں کہ پاکستان برطانیہ سے تعاون کررہا ہے اور کرتا رہے گا تاکہ عمران فاروق کے قاتل کیفر کردار کو پہنچ سکیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے الطاف حسین کی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور زہر افشانی کی کھلے الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ایم کیو ایم کے رہنماﺅں اور رابطہ کمیٹی کے عہدیداروں کی گرفتاریاں ہوں گی۔ اب کسی رعایت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے سابق فوجی افسروں اور خفیہ ایجنسی کے سربراہوں نے اسی رائے کا اظہار کیا کہ اگر 1992ءکے آپریشن کو ادھورا نہ چھوڑا جاتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ انہوں نے وزیر داخلہ چودھری نثار کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے بجاطور پر الطاف حسین کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت جو ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت میں شریک رہی ہے، اب تک لب بستہ تھی لیکن حالات کے گھمبیر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چودھری نثار کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ فوج اور پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی سے ثابت ہوگیا کہ الطاف دشمن کیلئے کام کررہے ہیں۔ قوم بھارت کو مدد کیلئے پکارنے والے نام نہاد لیڈر کو معاف نہیں کریں گے۔ سابق گورنر سندھ اور سابق وزیر داخلہ جنرل (ر) معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے نہایت غیر ذمہ دارانہ بیان دیا۔ وہ ایسے بات کررہے ہیں جیسے کراچی میں آگ لگ گئی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ الطاف حسین نے مایوسی کی حالت میں جو بیان دیا، یہ بیان زیب نہیں دیتا۔ وزیر داخلہ کی سٹرٹیجی درست ہے، یہ معاملہ برطانیہ سے قانونی طور پر اٹھانے کے خاطر خواہ نتائج نکلیں گے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ الطاف حسین کی اصلیت سامنے آگئی، وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ جس دن ہم نے برطانیہ کو عمران فاروق قتل کیس میں ملوث افراد دےدیئے، اس دن کا خوف الطاف کو ڈرا رہا ہے۔ الطاف حسین امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی پشت پناہی سے بیان دے رہے ہیں۔ ہمیں برطانیہ سے کہنا چاہئے کہ ہمارے خلاف اس کی سرزمین پر بیان دینے والے کو ہمارے حوالے کرے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) ضیا الدین خواجہ نے کہا کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچ رہی ہے۔ وہ جس دباﺅ کا شکار ہیں، اس کے خوف میں آکر جو بیان دے رہے ہیں، اس سے وہ بے نقاب ہورہے ہیں۔ 92ءکا آپریشن روکنا غلطی تھی۔ اس دفعہ یہ غلطی نہیں دہرائی جانی چاہئے۔ الطاف حسین کا بیان درحقیقت دھمکی ہے، ان کو یہ خیال ہے کہ مغربی طاقتیں ان کی حمایت میں آگے آئیں گے۔ وہ آپریشن رکوانا چاہتے ہیں، ان کی حکمت عملی ناکام رہے گی، آپریشن منطقی انجام کو پہنچے گا۔
جوابی کارروائی