وزیر خزانہ ود ہولڈنگ ٹیکس کا مسئلہ اگلی ہڑتال سے قبل حل کردیں

03 اگست 2015

ود ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف ملک کی تاجر برادری نے گزشتہ روز ہڑتال کی جس کے باعث بڑے شہروں میں کاروبار زندگی معطل رہا۔ اسلام آباد میں متعدد مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں جبکہ لاہور سمیت کئی شہروں میں بعض کاروباری مراکز کھلے رہے تاجروں نے 5اگست کو بھی مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔
بینکوں کے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے کے معاملے پر تاجر برادری سراپا احتجاج ہے حکومت تاجر تنظیموں میں پھوٹ ڈال کر انہیں تقسیم کرنے میں کامیاب تو ہو گئی ہے لیکن دونوں گروپوں کو ہڑتال سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ یکم اگست کو ایک گروپ نے ملک بھر میں ہڑتال کی جس کے باعث بڑے شہروں کی اکثر بڑی مارکیٹیں بند تھیں جبکہ بعض جگہوں پر لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی سامنے آئے اب دوسرا گروپ 5؍اگست کو ہڑتال کرے گا یقینی طور پر اس دن بھی کاروبار پر اثر پڑے گا۔ مکمل کی بجائے اگر جزوی ہڑتال بھی ہوئی تو پہلے ہی آئی ایم ایف کی آکسیجن پر زندہ ہماری معیشت کو شدید جھٹکا لگے گا۔ ٹول ٹیکس اور سولہ فیصد سیلز ٹیکس کیخلاف ٹرانسپورٹرز بھی سراپا احتجاج ہیں۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے بھی تاجروں کی حمایت کر دی ہے۔ ان حالات میں وزیر خزانہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور تاجروں کے مطالبات ترجیحی بنیادوں پر سن کر اس پر کمیٹی بنانے کی بجائے اسے حل کریں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ تاجروں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے کہ چاہے ایک روپیہ بھی ٹیکس نہ دیں بلکہ ریٹرن فائل کریں۔ تاجر برادری اس معاہدے کی پاسداری کرے۔ بقول وزیر خزانہ بنکوں نے غلط پیسے وصول کیے ہیں ان وصول شدہ پیسوں کی واپسی یقینی بنائی جائے اور تاجروں کی مشکلات کا حل نکال کر تمام صاحب حیثیت افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایاجائے۔ وزیر خزانہ نے جس طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے اسی طرح تاجروں کے مسائل بھی حل کریں۔ 3؍اگست کو ایف بی آر اور 4؍اگست کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تاجروںکے ساتھ ملاقات طے کر رکھی ہے۔ ان ملاقاتوں میں اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ 5 اگست کی ہڑتال سے معیشت تباہ ہونے سے بچ جائے۔