پیر ‘ 17 شوال ‘ 1436ھ ‘ 3 ؍ اگست 2015ء

03 اگست 2015

خواجہ سرائوں کا مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ، ٹریفک جام۔ 

حکومت کے تمام تر اعلانات کے باوجود اس تیسری صنف کے لئے ابھی تک زندگی دشوار ہی ہے۔ ملازمتوں میں کوٹہ تو مقرر ہے۔ مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ سفارشی حضرات اپنے بھلے چنگے مرد کو نیم زنانہ قرار دلوا کر خواجہ سرائوں کے کوٹے پر بھرتی کرا دیتے ہیں۔ شاید ان کے نزدیک دوسری یا تیسری صنف کا فرق اہمیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ دفاتر میں ان کی تقرری سے خاصی رونق لگ سکتی ہے کیونکہ جہاں خواتین کام کر رہی ہوں۔ مرد حضرات زبردستی اپنے خوش اخلاق اور مہذب ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں تردد بھی نہیں کرنا پڑے گا اور ماحول خاصہ ریلیکس ہو گا۔ خواتین کے تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دیگر ایسے درجنوں محکمے ہیں جہاں انہیں ملازمت دی جا سکتی ہے۔ تاریخ میں حکمرانوں نے محلات میں ہمیشہ خواجہ سرائوں کو ہی حرم کی نگہداشت اور حفاظت سونپی جاتی تھی۔ ان کی سپاہ بھی ہوتی تھی شاید اسی وجہ سے ان میں لڑنے کی عادت ابھی تک بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ویسے ان کی لڑائی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر ماضی میں ایسا ہوتا تو اب یہ ممکن کیوں نہیں۔
اب ایسا نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے یہ لوگ سڑکوں پر مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اب وہاں ٹریفک تو جام ہونا ہی تھی کیونکہ ان کا مظاہرہ بھی تو عام نہیں ہوتا دوران احتجاج یہ اپنے فن کا مظاہرہ بھی اس انداز میں کرتے ہیں کہ… ؎
جی ٹی روڈ تے بریکیاں لگیاں
نی بلو تیری ٹور ویکھ کے
والا نغمہ یاد آ جاتا ہے جب نیلی، لیلی، ایشوریہ، پائل، ممتاز، ریکھا سڑکوں پر ٹھمکے لگاتیں، سُر بکھراتیں، سڑکوں پر لیٹ کر بریک ڈانس، ناگن ڈانس یا کتھک کرتی نظر آئیں گی تو کون کم بخت نظریں چرا کر گزرے گا۔ مجمع تو خود بخود لگے گا۔
اب حکومت کو ہی شرم آنی چاہئے کہ معاشرے کا یہ بے ضرر طبقہ بھی اس کی لاپروائی کی وجہ سے اپنے حقوق کے حصول کے لئے سڑکوں پر آ گیا ہے۔ کہتے ہیں ان کی دعا یا بددعا جلد اثر کرتی ہے۔ اس لئے اس سے پہلے کہ ان کی آہیں حکمرانوں کے لئے وبال کا باعث بنیں حکمرانوں کو اس جنجال سے جان چھڑا لینی چاہئے۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
پنجاب کے تھانوں میں 6 ماہ میں کیمرے لگائے جائیں۔ ایس ایچ او خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ
عدالت کے اس حکم کے بعد دیکھنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حکم کی تعمیل میں کتنا وقت لیتے ہیں۔ کیونکہ حکم جاری کرنا اور بات، حکم پر عمل درآمد کرنا اور بات ہے۔ یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اتنے خودسر ہو چکے ہیں کہ انہوں نے قانون کو بھی موم کی ناک بنا لیا ہے۔ اب عدالت نے تھانوں میں خفیہ کیمرے لگانے کا حکم تو دیا ہے مگر یہ کیمرے لگائے کہاں جائیں گے محرر کے کمرے میں یا ایس ایچ او کے کمرہ خاص میں جہاں یہ بادشاہ سلامت آرام کرتے ہیں۔ انہی میں بیٹھ کر تمام معاملات طے کرتے ہیں۔ یہ کمرے آرام دہ بیڈ اے سی اور باتھ روم کے علاوہ کچن سے بھی مزین ہوتے ہیں۔ جہاں باہر گرمی ہو یا سردی، عام سپاہی سے لے کر حوالدار تک کی گالیاں کھاتے، جھڑکیاں سنتے عوام کی آواز نہیں پہنچتی۔ قانون اگر اندھا ہے تو قانون پر عمل کرانے والے یہ لوگ اندھے ہونے کے ساتھ بہرے بھی ہیں۔
تھانوں کے اندر انہی اندھے اور بہرے لوگوں کی حکمرانی قائم ہے۔ سب ایس ایچ او ایک جیسے نہیں ان سے اچھے بھی ہیں مگر ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاتی ہے۔
رشوت اور سفارش پر تعینات ہونے والے ان ایس ایچ اوز کے لئے اور تھانے ان کے لئے کاروباری مراکز بن گئے ہیں جہاں سے وہ روزانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کرکے اٹھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امن و امان کی صورتحال اتنی بدتر نہ ہوتی یوں سرعام قانون کو جرائم کے قدموں تلے روندا نہ جاتا۔ اگر قانون کی عمل داری یقینی بنانی ہے تو تھانوں میں کیمروں کی تنصیب اپنی جگہ درست مگر تھانے والوں کو پہلے قانون کا پابند بنانا ہو گا۔
…٭…٭…٭…٭ …٭…
صدر ممنون کے صاحبزادے تلہ گنگ کے قریب لاوا میں ریس جیتنے والے بیل کو دیکھنے پہنچ گئے۔
ہمارے ملک میں بیل دوڑ، گھڑ دوڑ، اونٹ ریس، گدھوں کی ریس اور کتوں کی ریس عام ہے۔ اب کہیں یہ ریسیں منعقد کرانے والوں میں صدر کے صاحبزادے کو اپنی اپنی ریسوں میں بلوانے کی ریس نہ شروع ہو جائے کیونکہ اعلیٰ شخصیت کے گھر والوں سے تعلقات بنانے کی رسم ہمارے ملک کی سیاست میں بہت پرانی ہے۔ انہی تعلقات کی آڑ میں یہ شاطر اپنا الو بھی سیدھا کرتے ہیں۔
گوہر ایوب سے لے کر ارسلان افتخار تک بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں اب ابن ممنون سلیمان حسین کو بھی ریسوں میں یونہی نہیں بلوایا جاتا یہاں بھی صاحبان ریس اپنے معاملات اور اعلی شخصیات سے تعلقات میں ہم آہنگی پیدا کرکے بہت سے فوائد سمیٹتے پھریں گے۔ جس کی حوصلہ افزائی نہیں حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔
ہمیں اس سیاسی یا مالی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمیں تو صرف یہ شکوہ کرنا ہے کہ بیل دوڑ تو اعلی طبقے کی تفریح طبع کے لئے منعقد ہوتی ہو گی۔ اگر سلیمان صاحب کو ریس جیلنے والے جانوروں سے اتنی ہی دلچسپی ہے اور وہ ایسے مقابلوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کراچی میں جو ان کا اپنا آبائی شہر ہے۔ وہاں منعقد ہونے والی ’’گدھا ریس‘ کا کبھی خیال کیوں نہیں آیا جو کراچی کے غریب باسیوں کی ایک اہم تفریح بھی ہے۔ کراچی میں ہزاروں گدھا گاڑی چلانے والے اس ریس میں دلچسپی رکھتے ہیں باقاعدہ مقابلے ہوتے ہیں چھوٹی موٹی شرطیں بھی لگتی ہیں۔ جسے ہم عرف عام میں جوا بھی کہتے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ باقی ریسوں میں کیا کھلے عام جوا نہیں کھیلا جاتا۔ اگر سلیمان حسین کبھی گدھا ریس دیکھنے بھی چلے جائیں اور جیتنے والے گدھے کو بھی انعام دیں تو ان غریبوں کی بستی میں جشن کا سماں ہو گا۔ ریس تو ریس ہوتی ہے۔ چاہے گدھے کی ہو یاگھوڑے کی اونٹ کی ہو یا بیل کی ورنہ دبئی میں اونٹوں کی ریس بھی ہوتی ہے امید ہے آئندہ وہ کراچی کی گدھا ریس کو بھی شرف قبولیت بخشیں گے۔
…٭…٭…٭…٭…٭…

پیغام عید۔ 18 اگست 1947ئ

ہمیں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے اپنا سب کچھ محض ...