بھارت ، کشمیر اور مجید نظامی

03 اگست 2015

برطانوی اور ہندوئوں کی غلامی سے نجات کی خاطر بر صغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم اور اقبال کی قیادت میں جو طویل مگر فعال جدوجہد کی وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ اس جدوجہد آزادی کے نتیجے میں بالآخر اگست 1947 کے مہینے میں آزادی کا سورج طلوع ہوا اور دنیا کے نقشے پر مملکتِ خداداد پاکستان کا وجود عمل میں آیا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد اور اس سے پہلے اس تحریک میں بہت سے زعماء نے اہم کردار ادا کیا ۔ اسی پس منظر میں حمید نظامی نے نوائے وقت کی بنیاد رکھی تو مجید نظامی نے اس پودے کی آبیاری میں اپنی تمام عمر صرف کی اور 26 جولائی 2014 کو اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک اس وطنِ عزیز کے دشمنوں کے خلاف شمشیر برہنہ کا کردار ادا کرتے رہے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ دنیا بھر میں اس پاک وطن سے محبت کی ٹھوس علامت بن کر ابھرے ۔ ان کی دوستی اور دشمنی کا یہی معیار تھا ۔کہ جو فرد یا رہنما پاکستان اور کشمیر کے ساتھ مخلص تھا وہ ان کے نزدیک محترم تھا اور اس کے الٹ خیالات کا حامل ان کے نزدیک کسی اہمیت کا حامل نہیں تھا اور یہ معاملہ اتنی پختہ شکل اختیار کر گیا تھا کہ خود بھارت کے موثر ترین سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کے حلقے بھی پاکستانی عوام کی حقیقی سوچ کا مطالعہ کرنے کے لئے ہمیشہ نوائے وقت خصوصاً اس کے ادارتی صفحات کا مطالعہ کرتے تھے۔
پچھلے 68 سالوں میں پاک بھارت تعلقات کی جو نوعیت رہی ہے وہ غالباً کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا نا جائز تسلط ہے ۔ اس کے علاوہ دہلی کے حکمرانوں کی مخصوص ذہنیت ہے جس کی بنا پر انھوں نے پاکستان ، بھارتی مسلمانوں اور کشمیری عوام کی بابت ہمیشہ معاندانہ رویہ اپنائے رکھا اور اس ذہنیت کے مظاہرے آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں ۔ اس کی تازہ مثال چند روز قبل سامنے آئی جب یعقوب میمن کو مسلمہ عدالتی روایات کے بر عکس پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا اور انھوں نے اپنی اکلوتی بیٹی ’’ زبیدہ ‘‘ سے ملنے کی جو آخری خواہش ظاہر کی تھی اسے بھی پورا نہ کیا گیا ۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس کے گھر والوں کو ان پیشگی شرائط کے بعد میت حوالے کی گئی کہ نہ تو مرحوم کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا آخری دیدار کیا جائے گا ، نہ کسی بھی قسم کی تصویر اتاری جائے گی ۔ جلوس کی شکل میں جنازہ نہیں لے جایا جائے گا اور اس کی قبر پر کتبہ بھی نصب نہیں کیا جائے گا ۔
بھارتی حکام کی اس سفاکانہ روش کے باوجود بمبئی کے علاقے ’’ ماہم ‘‘ کے بڑے قبرستان میں اس کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ اس حوالے سے بھارتی حکمرانوں کی غیر انسانی روش پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ بھارتی صوبے ’’ تری پورہ ‘‘ کے گورنر اور BJP کے اہم رہنما ’’ ٹھٹھاک رائے ‘‘ نے اپنے ٹویٹ میں یہ گوہر افشانی کی کہ بھارتی خفیہ اداروں کو میمن کے جنازے میں شمولیت کرنے والے تمام افراد کی بابت گہری جانچ پڑتال کرنی چاہیے کیونکہ ان میں سے بھاری تعداد میں یقینی طور پر دہشتگرد شامل ہوں گے ۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے تمام رہنمائوں نے دہلی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ نو فروری 2013 کو تختہ دار پر چڑھائے جانے والے افضل گرو کی باقیات کو بھی اس کے ورثا کے حوالے کیا جائے ۔ یاد رہے کہ انسانی قدروں کے دعویدار بھارتی حکمرانوں نے افضل گرو کی پھانسی سے پہلے نہ تو اس کے بیوی بچوں اور ورثا کو مطلع کیا تھا اور نہ ہی ان کی آخری ملاقات کروائی گئی تھی اور اسے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہی کسی نامعلوم گوشے میں دفن کر دیا گیا تھا ۔ گویا بہادر شاہ ظفر کے الفاظ میں ’’
پسِ مرگ قبر پہ اے ظفر کوئی فاتحہ بھی کہاں پڑھے
وہ جو ٹوٹی قبر کا تھا نشاں اسے ٹھوکروں سے اڑا دیا
اس تمام پس منظر میں یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ مجید نظامی بھارتی حکمرانوں کی سرشت سے بخوبی آگاہ تھے اسی وجہ سے انھوں نے اس ضمن میں کبھی بھی کسی مصلحت سے کام نہیں لیا کیونکہ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ بعض افراد اور گروہوں کی نفسیات ہی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور دلیل اور منطق کو سامنے والے کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔
غیر جانبدار مبصرین نے بھی کہا ہے کہ یوں تو یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ زیادہ تر لوگ قوت ہی کو سب سے بڑی دلیل قرار دیتے ہیں مگر اس ضمن میں بھارت کی تاریخ پر ایک سرسری سی بھی نگاہ ڈالیں تو بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں کے حکمران طبقات ہمیشہ سے ہی قوت کے کچھ زیادہ ہی پجاری رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے ہر وہ شے جو نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے اس کی پوجا شروع کر دی جاتی ہے ۔ مثلاً آگ ، سانپ اور مختلف درندے وغیرہ ۔ اور اپنی اسی منفی ذہنیت کی وجہ سے صدیوں تک بھارت دوسری اقوام کا غلام رہا ہے ۔
توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے مقتدر طبقات اس ماہِ آزادی میں اس زمینی حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھارت کے ضمن میں اپنی پالیسیوں کو ترتیب دیں گے ۔