سائرہ افضل تارڑ کی کارکردگی اور بیورو کریسی؟

03 اگست 2015

آزادی کے اس مہینے میں ارباب فکرودانش سے التماس ہے کہ پولیو کے مرض سے آزادی کے لئے بھی شعور بیدار کریں۔ فکری، جمہوری اور سیاسی صحت کے لئے بھی ضروری ہے کہ جسمانی صحت کا خیال رکھا جائے۔ ملکی بقا، ترقی اور ترقی یافتہ ملک بننے کے لئے اگلی نسلوں کی صحت اور تعلیم و تربیت کا آج کے دانشور اور لیڈر کو ابھی، ابھی اور اسی وقت خیال رکھنا ہو گا۔ جن اقوام نے تعلیم، صحت اور فراہمی انصاف کو نظرانداز کیا حقیقت میں انہوں نے اپنی بقا کو فراموش کر دیا۔ سائنسی، تجرباتی اور مشاہداتی محاذوں پر لڑنا ماہرین کا کام ہے تاہم نظریاتی، روحانی اور کمیونٹی سینٹرز کو فعال اور آباد رکھنا اہل علم ودانش کا فریضہ ہے اور یہی سیاست دانوں، حکمرانوں اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ سے لے کر انسداد پولیو کی مہم پر گامزن وزیراعظم نوازشریف کی فوکل پرسن سنیٹر عائشہ رضافاروق پولیو فری پاکستان پر شبانہ روز محنت کر رہی ہیں لیکن اس پر توجہ ابھی مزید درکار ہے۔
پچھلے دنوں سائرہ افضل تارڑ سے وزارت صحت کے ترجمان ساجدشاہ اور ایک متحرک آفیسر احمد شاہ کی موجودگی میں لاہور میں ایک ملاقات ہوئی تو میں نے محترمہ کو یاد کرایا کہ آپ نے دو ماہ قبل وعدہ فرمایا تھا کہ ’’فارمیسی کونسل آف پاکستان کا قبلہ جلد درست کر دیں گے بس آپ ایک ماہ بعد دیکھئے گا۔‘‘ راقم نے دو ماہ بعد ملاقات کی جسارت کی۔ بہرکیف حسن ظن قائم ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ سائرہ افضل تارڑ محنتی ہی نہیں بلکہ سیاسی زبان کے بجائے کھری زبان کو رواج بخشتی ہیں لیکن مجھے یہ بھی خدشہ ہے کہ فارمیسی کونسل آف پاکستان سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تک کے لوگ ڈرگ ریگولیشن اتھارٹی آف پاکستان کے لوگوں کی طرح بہت بڑے ’’کاری گر‘‘ ہیں اور یہ سائرہ افضل تارڑ صاحبہ اور ان کے دیانت دار سیکرٹری ایوب شیخ کو چکمہ دے جائیں گے جس طرح پی ایم ڈی سی میں ایک مافیا پنجے گاڑھ چکا ہے اور بیورو کریسی کمال ہنر مندی سے سرگرم عمل ہے اسی طرح پنجاب میں خطرناک ارادوں اور اپنی ہی ذات کی پوجا پرستش کے مرض میں مبتلا بیورو کریسی یونیورسٹیوں کی بچی کھچی زرخیزی کو بھی بنجر بنانے کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ پنجاب ہو یا دیگر صوبے اس بیورو کریسی نے سکولوں اور کالجوں کا جو حال کیا ہے وہی یہ یونیورسٹیوں اور محکمہ تعلیم کے تحت چلنے والے میڈیکل کالجوں کا کریں گے۔ نہ جانے میاں نواز شریف محترم اور میاں شہباز شریف محترم بیورو کریسی کی بلاوجہ اور بلاضرورت ٹپکتی اور ’’لپکتی‘‘ ہوئی رال کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ یہ اوپن سیکرٹ ہے کہ پبلک سیکٹر کے سنگ سنگ پرائیویٹ سیکٹر کی نمو اور نشوونما جو تعلیمی اور میڈیکل سیکٹر میں سرایت کر چکی ہے یہ بیورو کریسی کی صرف کالی بھیڑوں کے دست شفقت اور حبیب خاص سے یہ برداشت نہیں ہو رہیں۔ اب ہر جگہ سلمان فاروقی جیسے وسیع القلب اور بیدار مغز بیورو کریٹس کو حکمران بھی کہاں سے لائیں جس نے گلوبل ویلیج میں معذوروں کے ادارے ہی نہیں موبائل فون اور ڈیجیٹل پی ٹی سی ایل کو ابتدائی دور میں پاکستان میں روشناس کرایا۔ یعنی یہ سب ان دنوں چند ایک ترقی یافتہ ممالک میں متعارف ہوئے تھے۔ 73 کے قریب معذوروں کے ادارے 80 کی دہائی کے آغاز میں بنائے۔ آج ان میں سے کوئی دس بارہ ختم ہی ہوئے ہوں گے ایک بھی نیا نہیں بنا۔ کئی عہدوں پر رہنے والے سلمان فاروقی آج وفاقی محتسب ہیں۔ پچھلے دنوں ان سے ملاقات پر بھی میں نے انہیں کہا کہ ’’کیا جادو کر دیا ہے جناب آپ نے کہ، کوئی کیس ہی التوا میں نہیں؟‘‘ واضح رہے کہ 1983 میں بننے والے وفاقی محتسب کے ادارے میں ابتدائی چار پانچ لوگ تو اعلیٰ عدالتوں کے جسٹس تھے مگر سلمان فاروقی سا کمال نہ کر سکے کسی کو شک ہے تو آج جا کر زندہ مثال دیکھ لے۔ ضیائی، بھٹو، جونیجو، میاں، مشرف اور زرداری سبھی ادوار میں نشیب وفراز دیکھنے کے باوجود یہ شخص کیوں ناقابل تسخیر اور قابل توجہ رہا؟ میں پنجاب کی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ارم بخاری اور ’’عاقبت اندیش‘‘ ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ ان مثالی لوگوں سے سیکھیں آپ پبلک سرونٹ رہیں بادشاہ نہ بنیں، اشخاص سے چن چن کر بدلے لینے کے بجائے قوم کے لئے گن گن کر مثبت کام کریں! دفاع، تعلیم اور صحت تینوں ہی حساس، حساس اور حساس ادارے ہیں نیم حکیم بیورو کریٹس ان اداروں کے لئے مہلک طفیلئے تو ثابت ہو سکتے ہیں لیکن سودمند نہیں۔ جی! وزیر تعلیم پنجاب قبلہ رانا مشہود اس پر ضرور غور کریں!!!
قارئین کرام! میں ’’آزادیٔ پولیو‘‘ میں بیورو کریسی کو اس لئے کھینچ لایا کہ سیاست دان تو سیاست دان ٹھہرے یہاں بہت کچھ بیورو کریسی کے شکنجے میں ہوتا ہے۔ جہاں تک سائرہ افضل تارڑ اور پی ایم ڈی سی کا معاملہ ہے یا وزارت تعلیم و تربیت اور ہائر ایجوکیشن کا مسئلہ یہ بیورو کریسی سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں سائرہ افضل تارڑ سے بلیغ الرحمان اور رانا مشہود (پنجاب ہائر ایجوکیشن و مشتاق غنی (کے پی کے) تک جیسے وزرا اور سیاست دانوں کے اخلاص اور نیت پر شک کرنا مشکل ہے مگر ان سول سرونٹس کے چکمے سے بچنا اور انہیں متحرک کرنا بہرحال وزراء ہی کا کام ہے۔ بیورو کریٹس لاکھ کلاکار سہی مگر فن کار تو سیاست دان بھی ہے۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ کسی نیب شیب یا عوام کا سامنا آخرکار سیاست کار ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ آج اگر فرض کی ادائیگی بروقت ہے تو پھر ’’قضا‘‘ یا ’’قضائے الہی‘‘ کا ڈر کیسا؟
ہاں میں اس بات سے آشنا ہوں کہ وفاقی سیکرٹری صحت ایوب شیخ تو ایک فرض شناس آفیسر ہیں اور پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ پھر بھی یہ مدنظر رکھیں کہ آج موٹروے پر سیاست جو بھی کر رہا ہے لیکن یہ برین چائلڈ بھی سلمان فاروقی جیسے بیورو کریٹ کا ہے جو کبھی ڈپٹی چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بھی رہے۔ وہ یاد آیا کہ پچھلے دنوں ایک کالم کی تندی باد مخالف سے مشیر صحت پنجاب جناب سلمان رفیق ہم سے نالاں ہو گئے حالانکہ ہم تو سیکرٹری صحت پنجاب جواد ملک اور ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز اور خود سلمان رفیق کو عقابی سمجھے تھے۔ بہرحال ہم سندھ والوں، کے پی کے والوں اور بلوچستان والوں سے بھی کہیں گے کہ یہ ہمارے لئے بحیثیت قوم شرمناک بات ہے کہ پولیو خطرات میں ہم افغانستان اور نائیجیریا کی فہرست میں شامل ہیں۔
گو گزشتہ سولہ سترہ مہینوں میں بڑی کامیابی ہوئی لیکن خطرہ ابھی باقی ہے۔ پولیو وائرس ہو، پی ایم ڈی سی ہو کہ فارمیسی کونسل سبھی کے مہلک اثرات سے ملک و قوم کو بچانا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر 1917 میں پولیو کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا 1928 میں روٹری فائونڈیشن زیادہ منظم ہو گئی جس کا کریڈٹ ایگر ایف ڈیڈی کو جاتا ہے۔ خیر اب اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیمیں بہرحال متحرک ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی ہو کہ انسداد پولیو پاکستان ابھی پھنسا ہوا ہے۔ اور اس میں پولیو وائرس کا قصور کم اور ہمارا اپنا زیادہ ہے۔
ویسے تو 1974 میں حفاظتی ٹیکوں یا ویکسین کا آغاز ہو گیا لیکن سرکاری طور پر صحیح اہتمام 1993 میں ہوا۔ 2011 میں صورتحال خطرناک لگی تاہم 2015 میں صرف 7 نئے کیس سامنے آئے۔ خطرات بہرحال شورش زدہ علاقوں میں زیادہ ہیں پھر بھی ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے سیوریج سسٹم میں پولیو وائرس موجود ہیں۔ حکومت نے بطور خاص وزیرستان، سوات، قلعہ سیف اللہ اور فاٹا کے دیگر علاقہ جات کو فوکس کر رکھا ہے۔ راقم کی سنیٹر عائشہ رضا فاروق سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آرمی آفیسرز بالخصوص بریگیڈئر طارق محمود اور بریگیڈئر بشیر کی معاونت قابل قدر اور قابل ستائش ہے ملک جہاں بھی شورش برپا ہے یہ لوگ انسداد پولیو کے لئے سرگرم ٹیموں کے ساتھ ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیو فری پاکستان کے لئے سائرہ افضل تارڑ کا سبھی ادارے محکمہ ساتھ دیں۔ ان کا عزم قابل ستائش ہے۔ ایٹمی طاقت کے حامل ملک کی اس قدر پسماندگی کہ ہم ان تین ممالک میں شامل ہیں جو پولیو کا اکیسویں صدی میں خاتمہ نہیں کر سکے۔ یہ بہرحال جگ ہنسائی ہے۔ سائرہ افضل تارڑ اور عائشہ رضا فاروق سے درخواست ہے کہ وہ وزیراعظم کو مطلع کریں کہ پولیو وائرس سے انشااللہ جلد چھٹکارا ہو جائے گا۔ پی ایم ڈی سی، ڈی آر اے پی، پی سی پی اور ہائر ایجوکیشن کی بیورو کریسی میں گھسے چند مگرمچھوں سے بھی نجات دلا دیں تاکہ تعلیم اور صحت بھی پاکستان میں انیسویں صدی سے نکل کر 21ویں صدی میں داخل ہو سکے!!!