مظفر نگر مسلم کش فسادات کی فلم دکھانے پر انتہا پسند ہندو طلبہ کا نئی دہلی کے کالج میں حملہ، توڑ پھوڑ

03 اگست 2015

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) نئی دہلی کے کروڑی مل یونیورسٹی کالج میں مظفر نگر مسلم کش فسادات کی دستاویزی فلم دکھانے پر انتہا پسند ہندو طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے تقریب پر حملہ کر کے فلم کی نمائش رکوا دی اور توڑ پھوڑ، مار پیٹ کی۔ پولیس نے کالج منتظمین کی شکایت پر کارروائی شروع کر دی۔ ”مظفر نگر باقی ہے“ کے نام سے یہ فلم ناکل سنگھ ساہی نے ڈائریکٹ کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ انتہاپسند ہندو گروپوں نے کس طرح مظفر نگر میں چن چن کر مسلمانوں کا قتل کیا اور ان کے گھر جلائے۔ حکمران جماعت بی جے پی کی ذیلی طلبہ تنظیم ”اخل بھارتیہ ودھیارتی پریشد“ کے مشتعل کارکن ڈنڈے اور دیگر ہتھیار لے کر فلم کے ہال میں گھس آئے اور شرکاءکو مار پیٹ کر بھگا دیا حملہ آور نعرے لگا رہے تھے کہ ہندو مخالف فلم کو جلا ڈالیں گے۔
انتہا پسند ہندو طلبہ