اندرونی اختلافات سے پارٹی کمزور ہو رہی ہے‘ دھرنا آئی ایس آئی کے کہنے پر نہیں دیا : چیئرمین پی ٹی آئی

03 اگست 2015

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ+ نیٹ نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ دھرنا آئی ایس آئی کے کہنے پر نہیں دیا، تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام پارٹیاں خوفزدہ ہیں۔ پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتوں کی جانب سے سیاسی اتحاد کی آفرز تھیں، لانگ مارچ کا فیصلہ پہلے سے کر چکے تھے، طاہر القادری نے بعد میں لانگ مارچ کا فیصلہ کیا۔ دھرنے کے دوران ایسا وقت بھی آیا کہ لوگ غائب ہو گئے، پھر واپس آ گئے۔ پارٹی کو باہر نہیں اندر سے خطرہ ہے۔ پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے انہوں نے کہا پارٹی کیلئے کسی نے کتنا کام کیا اس کا فیصلہ میں کروں گا۔ پارٹی کے مسئلے پارٹی کے اندر حل ہونے چاہئیں۔ اس ساری صورتحال کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہو رہا ہے۔ میں نے پارٹی کی رائے کے بغیر کبھی فیصلہ نہیں کیا۔ 19 سال تک اپنے نظریہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کوئی پارٹی 5 دنوں میں دس لاکھ لوگ اکٹھے نہیں کر سکتی، پورا پاکستان تحریک انصاف کی طرف دیکھ رہا ہے۔ الیکشن سے پہلے مسلم لیگ نے آدھی سیٹوں کی پیشکش کی تھی، بے نظیر سے دوستی تھی لیکن کرپشن کے باعث ان کے ساتھ جوائن نہیں کیا۔ پرویز مشرف کہتا تھا عوام کرپٹ لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ تحریک انصاف نے لوگوں میں شعور اجاگر کیا، تمام پارٹیاں تحریک انصاف سے اتحاد کرنا چاہتی تھیں۔ پی ٹی آئی جس سے چاہے اتحاد کر سکتی ہے۔ ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا اس لئے انکوائری کمشن کا مطالبہ کیا تھا۔ الیکشن سے پہلے مسلم لیگ ن نے آدھی سیٹوں کی آفر کی تھی، احتساب کا نعرہ لگانے پر مشرف کا ساتھ دیا۔ پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کرنا غلطی تھی، قوم سے معافی مانگ چکا ہوں۔ پرویز مشرف کا ساتھ اس لئے دیا تھا کہ انہوں نے احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ مجھے آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنا کسی کے کہنے پر نہیں دیا۔ کبھی نظریئے پر کمپرومائز نہیں کیا۔ اگر نظریہ نہ ہوتا تو بڑی دیر پہلے بیٹھ گیا ہوتا۔ 19 سال نظریئے پر کمپرومائز نہیں کیا، اب کیسے کرونگا۔ ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا، اسی لئے انکوائری کمشن کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کوئی فیصلہ مشاورت کے بغیر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی سے تمام پارٹیاں پریشان ہیں۔ سارا پاکستان تحریک انصاف کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آج سٹیٹس کو کو تحریک انصاف سے خطرہ ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے تحریک انصاف کو خطرہ ہے۔ اختلافات کی وجہ سے پارٹی کمزور ہو رہی ہے۔ پارٹی میں کس کی کتنی اہمیت ہے مجھے فیصلہ کرنا ہے، 19 سال سے نظریہ پر قائم ہوں، مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا، مجھے کوئی نہ بتائے نظریہ کیا ہے۔ خواجہ آصف اور چودھری نثار میں بہت سے اختلافات ہیں، کبھی میڈیا میں نہیں آئے ہیں، اپنے کپڑے پبلک میں نہ دھوئیں۔ پارٹی اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں قبضہ مافیا پر بات کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ عمران خان پارٹی کے نظریئے کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا۔ پارٹی کے نظریئے کو عمران سے زیادہ کوئی نہیں سمجھتا۔ پارٹی میں دھڑے بندیوں سے متعلق ابہام دور ہو گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں اختلافات ہو جاتے ہیں، میرے خلاف چلائی گئی مہم آج کے بعد دم توڑ جائے گی۔ پی ٹی آئی آئندہ بلدیاتی الیکشن پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ آئندہ پارٹی الیکشن ہونگے۔ تسنیم نورانی کو ٹاسک دیدیا گیا۔ عمران خان تسنیم نورانی سے دو روز میں ملاقات کرینگے۔ اختلافات کی باتیں میڈیا میں کرنا غلط بات ہے، اختلافات کی باتوں سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا کہ عمران خان کی تقریر کے بعد ہاﺅس اوپن ہو گیا ہے۔ انٹرا پارٹی انتخابات کی بات خوش آئند ہے۔ قبضہ مافیا کی باتوں پر عمران خان کے جواب کا جائزہ لیں گے۔ سوال و جواب کا سیشن اس لئے نہیں کیا کہ اختلافات زیادہ بڑھ جائیں گے۔ شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے سے یقیناً مسائل میں کمی ہو گی۔ عمران کی تقریر سے پارٹی اختلافات کم ہو جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ جہانگےر ترےن کو دس سال پہلے تحرےک انصاف مےں شرکت کی دعوت دی تھی۔ وہ لندن مےں اپنے علاج کے دوران پارٹی اجلاسوں مےں اسوقت بھی آئے جب وہ زندگی موت کی کشمکش مےں تھے۔ مشکل وقت مےں جس نے ساتھ دےا اسے کےسے بھول سکتا ہوں، جہانگےر ترےن جےسے الےکشن جےتنے والے پارٹی مےں نہ ہوں تو پارٹی کےسے چل سکتی ہے۔ جہانگےر ترےن کو سےکرٹری جنرل بنانے سے پہلے شاہ محمود سمےت کئی پارٹی لےڈروں سے مشاورت کی تھی۔ مےں نے 19 سال قبل جس نظرےے کی بنےاد پر تحرےک انصاف بنائی تھی وہی مےرا سےاسی نظرےہ ہے، مجھے ےہ درس نہ دےا جائے کہ کس کا کےا نظرےہ ہے۔ پی ٹی آئی بنانے سے پہلے اےک پارٹی مےں جانے کا سوچا۔ بے نظیر بھٹو سے دوستی تھی مگر انکی جماعت کی حکومت میں کرپشن کی وجہ سے انکے ساتھ نہ گیا پھر ملک بچانے کیلئے اپنی پارٹی بنائی۔ 1997ءکے الےکشن مےں خورشےد قصوری مےرے پاس نواز شرےف کا پےغام لائے کہ 20/25 سےٹےں لے لےں اور مسلم لےگ کے ساتھ چلےں لیکن مےں نے انکار کردےا۔ مےںنے جب تحرےک انصاف بنائی تو اےک مرحلہ اےسا بھی تھا جب کوئی کونسلر کا الےکشن ہار جاتا اور اسے ہم پی ٹی آئی مےں شامل ہونے کی دعوت دےتے تو وہ جواب دےا کرتا کہ مےں اپنے دوستوں سے مشورہ کرکے بتاﺅں گا، اچھی طرح جانتا ہوں مشکل وقت مےں کس نے ساتھ دےا۔ ملک میں کرپشن عروج پر ہے ہم اخلاقی طور پر تباہی کی جانب جارہے ہیں۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر استعفے قبول کر لئے جائیں تو مجھے عوام میں جانے کا موقع مل جائے گا۔ نوازشریف کی عادت ہے وہ کسی اور کے کندھے پر بندوق چلاتے ہیں عوام ان کے ساتھ نہیں۔ جمہوریت کیلئے دھرنا دیا، ہمیں اسمبلی سے نکالنے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ میں سپورٹس مین ہوں امپائر کا فیصلہ قبول ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ فضل الرحمن کی قیمت کشمیر کمیٹی ہے۔ استعفے منظور ہوئے تو خوشی ہو گی عوام سے مینڈیٹ لینے کا موقع ملے گا۔ اس الیکشن میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی ہوئی حکومت تو عوام کے اندر صفر ہے مسلم لیگ ن مینار پاکستان پر ایک جلسہ کر کے دکھا دے۔ افتخار محمد چودھری سیاست میں آ رہے ہیں بڑی چیزیں سامنے آئیں گی۔ پہلے سے طے شدہ معاہدے کے تحت اسمبلیوں میں گئے مجھے الیکشن کمشن سے کئی سوالوں کے جواب چاہئیں، پہلے ہی طے کر رکھا تھا کہ انکوائری کمشن کا فیصلہ قبول کریں گے۔ مسلم لیگ ن پولیس اور گلو بٹوں کے بغیر پنجاب میں الیکشن جیت کر دکھا دے۔ چیف الیکشن کمشنر کو جوڈیشل کمشن کی تحقیقات سے متعلق خط لکھا انگوٹھوں کی شناخت اور نتیجے کا نظام فیل ہونے پر جواب مانگا ہے، الیکشن کمشن کے جواب پر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے الیکشن کمشن نے 413 میں سے 80 فیصد درخواستیں فارغ کر دیں۔ نواز شریف نے وزیر خارجہ نہیں رکھا خود اسے دیکھ رہے ہیں ملک اور فوج کو کیوں بدنام کیا جا رہا ہے تحقیقات کرائیں۔ پہلے جیو کو آگے کیا پھر آصف زرداری کو آگے کیا کیا کوئی فوج 126 دن کا دھرنا کرا سکتی ہے۔ فوج بھی مدد کرے تو مسلم لیگ ن چار دن کا دھرنا نہیں کر سکتی۔ ہمیں ایران سے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کچھ نہیں کرے گا جنرل راحیل شریف سیدھی بات کرنے والے شخص ہیں جسٹس ناصر الملک مجھے ذہین اور ایماندار شخص نظر آتے ہیں۔ میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی ہمیشہ عزت کروں گا۔
عمران انٹرویو