مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی گھر گھر تلاشی، خواتین پر وحشیانہ تشدد: جھڑپوں میں بیسیوں زخمی، گرفتار، کٹھ پتلی وزیر کے قافلے پر پتھرائو

03 اگست 2015

سری نگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے گھر گھر تلاشی کارروائیاں ، خواتین پر تشدد ، چادراور چاردیواری کا تقدس بری طرح پامال کیا ، فوجی اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں بیسیوں افراد زخمی، متعدد نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز پولیس نے ٹنگمرگ کے کارہامہ نامی گائوں کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کارروائی کی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس اور فورسز اہلکار چن چن کر بعض رہائشی مکانوں میں داخل ہوئے اور نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا آغاز کیا۔ تاہم فورسز نے 8 نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ صبح ہوتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد وسن کے مقام پر سرینگر گلمرگ شاہراہ پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ مظاہرین زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے سرینگر گلمرگ شاہراہ پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے مقبوضہ کشمیر میں سابق بھارتی فوجیوں اور ان کے بچوں کو مستقل طور پر بسانے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر بین الاقوامی سطح کا ایک تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے لہٰذا سابق فوجیوں کو کشمیر میں بسانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ حریت (گ) کے ترجمان نے ایک بیان میںکہا کہ جموں کشمیر اترپردیش، مدھیہ پردیش یا بہار طرز کی کوئی ریاست نہیں ہے بلکہ اس کا سٹیٹس بالکل الگ اور مختلف ہے۔مقبوضہ کشمر میں قانون و انصاف اور پارلیمانی امور کے کٹھ پتلی وزیر سید بشارت بخاری کے قافلے کو ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن میں لوگوں نے پتھرائو کا نشانہ بنایا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کٹھ پتلی وزیر کا قافلہ سرینگر سے بارہمولہ جا رہا تھا کہ پٹن ڈگری کالج کے قریب اس پر پتھرائو کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پتھرائو سے کٹھ پتلی وزیر کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا جبکہ قافلے میں شامل متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ گئے۔ بھارت کے دارالحکومت دہلی کے ہوائی اڈے پر انتظامیہ نے ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے ترکی جانے والے چار کشمیری سکالرز کو بورڈنگ جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔