متحدہ کے قائد کی ریاست اور فوج کیخلاف پھر قابل اعتراض باتیں‘ الطاف کی تقریر اعلان جنگ ہے‘ معاملہ برطانیہ کیساتھ اٹھائیں گے : نثار

03 اگست 2015
متحدہ کے قائد کی ریاست اور فوج کیخلاف پھر قابل اعتراض باتیں‘ الطاف کی تقریر اعلان جنگ ہے‘ معاملہ برطانیہ کیساتھ اٹھائیں گے : نثار

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ الطاف حسین نے ریاستی اداروں کے سربراہوں کا نام لے کر مرنے کی جو باتیں کی ہیں وہ ملک ، قوم اور ریاست کی توہین ہیں۔ الطاف حسین کو اصل خطرہ پاکستان میں درج مقدمات سے نہیں نہ وہ پہلے 25 سال سے آئے نہ اب آنے کا امکان ہے ان کو اصل خطرہ برطانیہ میں اپنے خلاف جاری دونوں کیسز سے ہے جن میں ان کیخلاف گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ دھرنے کے حوالے سے جتنا علم ہے کتاب لکھ سکتا ہوں لیکن ہماری توجہ پاکستان کے پہاڑ جیسے مسائل پر ہے۔ وہ پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ حکومت نے الطاف حسین کی فوج کیخلاف نفرت انگیز تقریر کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کر لیا۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ گذشتہ رات الطاف حسین کی فوج کیخلاف نفرت انگیز تقریر تمام حدیں پار کر گئی ہے‘ تقریر کیخلاف برطانیہ سے رابطہ کا فیصلہ کیا ہے ‘ قانونی مسودہ کی تیاری شروع کر دی‘ باضابطہ طورپر قانونی ریفرنس آئندہ چند روز میں برطانیہ بھیجیں گے ‘ الطاف حسین کی لائیو تقاریر پر پابندی تو ہے اب ان تقاریر کو مستقل طور پر بند کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ الطاف کی فوج مخالف تقاریر ملک دشمنی کے زمرے میں آتی ہیں۔ الطاف حسین نے نیٹو سے فوج بھیجنے کا مطالبہ اور بھارت سے کراچی میں مہاجروں کی مدد کی اپیل کی‘ کوئی محب وطن پاکستانی بھارت سے مدد طلب نہیں کر سکتا‘ سیاسی شعبدہ بازی بھی کوئی حد ہوتی ہے‘ نیشنل ایکشن پلان وزارت داخلہ نے نہیں تمام سیاسی جماعتو ں نے بنایا‘ منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس مےں پاکستان ‘ برطانوی حکومت اور میٹرو پولیٹن پولیس کے ساتھ عالمی قوانین کے تحت تعاون جاری رکھے گا۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ حکومت کی کوششوں سے دہشت گردی میں کمی آئی۔ ہم اپنی کوششوں اور امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کاکریڈٹ نہیں لینا چاہتے لیکن کراچی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ الطاف حسین کی گزشتہ رات ایک اور تقریر آئی جس میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر قومی سلامتی کے اداروں اور ریاست کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے ہمارے اقتدار سنبھالنے کے 2 ماہ بعد کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد ہم نے مشاورت کی اور فیصلہ یہ کیا گیا کہ فوج کی ملک کی گلی کوچوں میں تشہیر کرنا اچھی بات نہیں۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کیلئے رینجرز کے ذریعے آپریشن ہونا چاہئے جس کے بعد 29 اگست 2013ءکو کراچی آپریشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے سیاست کو ایک طرف رکھ کر کراچی میں امن و امان کے قیام کا فیصلہ کیا حکومت نے کراچی میں صوبائی حکومت کی قیادت میں آپریشن کا فیصلہ کیا تھا اور اس آپریشن کا کپتان بھی وزیر اعلیٰ سندھ کو بنایا گیا۔ رینجرز نے کراچی میں بلاامتیاز کارروائی کی۔ وفاقی حکومت نے پس منظر میں رہ کر کراچی میں قیام امن کیلئے بھرپو رکردار اد اکیا۔ کراچی سمیت ملک بھر میں امن و امان کی بہتری کو آج ہر کوئی تسلیم کرتا ہے۔ آپریشن جرائم پیشہ افراد کیخلاف کیا جا رہا ہے یہ کسی خاص سیاسی جماعت کیخلاف نہیں تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے رینجرز آپریشن کے حوالے سے ایم کیو ایم کا ردعمل شدید ہو گیا۔ کراچی آپریشن میں جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہی کیوں نہ ہو، ایم کیو ایم سمیت کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آپریشن کے دوران اے این پی‘ پیپلز پارٹی‘ شباب ملی اور سنی تحریک کے بھی کئی لوگ پکڑے گئے تاہم ایم کیو ایم کے سوا کسی بھی جماعت نے احتجاج نہیں کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم پر واضح کیا کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کیخلاف نہیں پھر بھی شرپسند عناصر کی گرفتاری پر کیوں احتجاج کیا جا رہا ہے اگر کراچی میں کسی کو غلط گرفتار کیا گیا تو تحقیقات کے بعد چھوڑ بھی دیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ الطاف حسین نے فوج پر الزامات لگائے، کہا کہ پاک فوج نے قائداعظم کو زہر دیا‘ فاطمہ جناح کو قتل کیا‘ ملک کو دولخت کیا‘ ایک لاکھ خواتین کی حرمت پامال کی۔ افواج پاکستان پر طنزیہ نظمیں اور اشعار پڑھے گئے۔ دشمن ملک کو کہا گیا کہ مہاجروں کا قتل روکنے کیلئے مداخلت کی جائے۔ کارکنوں کو کہا گیا کہ نیٹو اور اقوام متحدہ کے دفتروں کے سامنے جا کر احتجاج کر کے مطالبہ کیا جائے کہ نیٹو کی افواج پاکستان آ کر قبضہ کر لیں۔ اہم اداروں کے سربراہان کو قتل کی دھمکیاں اور گالیاں دی گئیں۔ ایسے الفاظ کسی محب وطن پاکستانی یا اردو بولنے والے کے نہیں ہو سکتے۔ یہ پاکستان دشمنوں کی زبان ہے۔ الطاف کیخلاف مقدمات پاک فوج یا رینجرز نے نہیں بلکہ برطانوی حکومت اور میٹرو پولیٹن پولیس نے درج کئے۔ برطانوی قانون کی پوری دنیا معترف ہے۔ الطاف حسین کہیں کا غصہ کہیں اور نکال رہے ہیں اگر پاکستان میں بھی الطاف حسین کیخلاف جتنے مقدمات ہیں ان کو دیکھا جائے وہ بھی عام شہریوں نے درج کروائے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس میں پاکستان برطانوی حکومت اور میٹرو پولیٹن پولیس سے عالمی قوانین کے مطابق تعاون جاری رکھے گا۔ عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین رو رو کر مطالبہ کرتے تھے کہ ملزموں کو گرفتار کیا جائے اب اگر ہم ان کی گرفتاری کیلئے قانون کی مدد کر رہے ہیں تو تب بھی ہم پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ الطاف حسین اب کچھ بھی کہے برطانوی پولیس سے تعاون جاری رہے گا۔ الطاف حسین نے گزشتہ رات جس طرح کی تقریر کی ایسی نفرت انگیز تقریر کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کسی پاکستانی شہری کو ملک کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں ہے۔ الطاف حسین کی نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ برطانیہ کے سامنے رکھا جائیگا۔ ہم الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقاریر کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی آپریشن میں کوئی رکاوٹ آڑے نہیں آنے دیں گے وہاں کے حالات میں مزید بہتری لائیں گے۔ ہمارا مقصد سیاست کرنا نہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی کو میٹرو پولیٹن سٹی کے شایان شان بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں شاہ محمود قریشی سے کہا کہ پی ٹی آئی کے لندن میں ایم کیو ایم کے خلاف مظاہرے مناسب نہیں سیاسی جنگ کو لندن کے بازاروں میں لے جانے سے ملک کی بدنامی ہو گی میری رائے سے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماﺅں نے بھی اتفاق کیا۔ شاہ محمود قریشی نے میری اس تجویز پر مثبت جواب دیا جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ کراچی میں جولائی کے مہینے میں رینجرز کے اقدامات کے بعد ڈرامائی بہتری آئی ہے ٹارگٹ کلنگ میں 50 فیصد ‘ اغواءبرائے تاوان کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا جبکہ بھتہ خوری میں 87 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس شرح کو اور بھی کم سطح پر لانا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ الطاف حسین کے سوا پوری دنیا مانتی ہے کہ کراچی آپریشن کے بعد شہر کے حالات میں بہتری آئی۔ برطانیہ کو بھیجے جانیوالے ریفرنس میں دو معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ الطاف حسین کے لندن آفس سے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ الطاف حسین کی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں۔ تقاریر کا معاملہ حکومت برطانیہ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ ان کی تقریر اعلان جنگ ہے۔ فوج کے خلاف وہ نظمیں پڑھیں گئیں جو دہرا نہیں سکتا۔ ایم کیو ایم کا ہمیشہ سے مﺅقف رہا کہ آپریشن ٹھیک نہیں ہو رہا۔ پاکستان کا برطانیہ میں الطاف حسین کے خلاف کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈیلاس(این این آئی + نوائے وقت رپورٹ) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ بھارت خود ڈرپوک ہے، غیرت ہوتی تو پاکستان کی سر زمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتا۔ وزارت داخلہ نے جن تنظیموں پر پابندی لگائی وہ آج بھی ملک میں سرگرم ہیں، ارکنان اقوام متحدہ، وائٹ ہاﺅس اور نیٹو سے کراچی میں فو ج بھیجنے کا مطالبہ کریں امریکا کے شہر ڈیلاس میں سالانہ کنونشن سے ٹیلی فونک خطاب میں الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کےلئے سب سے بڑاخطرہ دہشت گردی ہے۔ وزارت داخلہ نے جن تنظیموں پر پابندی لگائی وہ آج بھی سرگرم ہیں انہوں نے مہاجر صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بھارت خود بزدل اور ڈرپوک ملک ہے اگر ان میں ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو پاکستان کی سرزمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتے۔ الطاف حسین نے کارکنوں کو ہدایت کہ امریکی اخباروں کو خط لکھیں اور پاکستان کی اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان اقوام متحدہ، وائٹ ہاﺅس اور نیٹو کے سامنے احتجاج کریں اور کراچی میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کریں۔ الطاف حسین نے کہاکہ ان پر منی لانڈرنگ کا الزام غلط ہے۔ یہاں ہمارے اکاﺅنٹ منجمد کردئیے گئے ہیں، بہت مشکل میں گزارا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی تقریر پر پابندی لگادی گئی ہے تاہم آڈیوکےسٹ کے ذریعے ان کی تقریر ساتھیوں تک پہنچائی جائے اور اگر وہ مارے جائیں تو کارکنان تحریک جاری رکھیں اور ماﺅں، بیٹیوں اور بہنوں کو عزت کی زندگی دلائیں۔ الطاف حسین نے پاک فوج کے خلاف الزامات لگائے اور اسے زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ الطاف حسین نے ریاستی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اتوار کے روز رابطہ کمیٹی کے ارکان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں الطاف حسین نے کہا ہے کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔ 21ویں صدی میں جبکہ پوری دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا کے ایک سرے میں ہونے والے واقعہ کی خبر سیکنڈوں میں دنیا کے دوسرے سرے تک پھیل جاتی ہے ان حالات میں حقائق کو دنیا سے چھپایا نہیں جا سکتا اور آج بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی ایم کیو ایم کے مﺅقف کی تائید کر رہے ہیں کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کی آڑ میں ایم کیو ایم جیسی لبرل اور روشن خیال جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
الطاف