پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن قطر میں کرانے کا فیصلہ

03 اگست 2015

لاہور(سپورٹس ڈیسک )متحدہ عرب امارات سے معاملات طے نہ ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن قطر میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔قطر اولمپک ایسوسی ایشن کو اس سلسلے میں باقاعدہ پرپوزل بھیجا چکا ہے جس میں انہیں ملک میں موجود واحد کرکٹ سٹیڈیم کو اپ گریڈ کرنے کا کہا گیا ہے۔ممکنہ طور پر آئندہ سال فروری میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ کا انعقاد قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوگا۔پی سی بی نے اپنی فرنچائز لیگ کا انعقاد ابتدائی طور پر متحدہ امارات میں کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی جو 2009 سے پاکستان کا متبادل ہوم گراو¿نڈ بنا ہوا ہے اور پاکستان نے اپنی تقریباً تمام سیریز اسی سرزمین پر کھیلی ہیں۔تاہم جب پی سی بی نے گراو¿نڈز کے سلسلے میں انگلش کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا تو ان علم میں آیا کہ گراو¿نڈز پہلے سے ہی ریٹائر عالمی کھلاڑیوں کیلئے مجوزہ ماسٹرز چیمپیئنز لیگ(ایم سی ایل) کیلئے فروری میں بک کیے جا چکے ہیں۔ایم سی ایل نے اس لیگ کا اعلان رواں سال تین جون کو برج ال عرب پر منعقدہ تقریب میں کیا تھا جس میں برائن لارا، وسیم اکرم اور ایڈم گلکرسٹ نے شرکت کی تھی۔امارات میں گراو¿نڈ کے مکمل انتظام کی ذمہ دار ای سی بی کے پاس ہے جس نے ماسٹرز لیگ سے پہلے سے معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو تین سٹیڈیم دینے سے انکار کردیا تھا۔ایم سی ایل کے چیئرمین نے نجی حیثیت میں دونوں لیگ کے فروری میں انعقاد کی اپنی سی کوشش کی لیکن تاریخوں کے ٹکراو¿ کے سبب وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ پاکستان طویل المدتی بنیادوں پر اپنے انڈر19، ویمن اور اے ٹیم کے میچوں کے انعقاد کیلئے دوحا کا بطور میزبان انتخاب کر سکتا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کا اپنی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے انعقاد کا منصوبہ پانچ سال قبل منظر عام پر آیا لیکن اس سلسلے میں معاملات کبھی بھی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے۔2013 میں انتظامی مسائل کے سبب لیگ کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنا پڑا جبکہ 2014 میں جب بورڈ نے لیگ کے انعقاد کا فیصلہ کیا تو فرنچائز کیلئے دی گئی بولیوں نے بورڈ کو ایک مرتبہ پھر پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کو ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔جنوری 2013 میں سابق چیئرمین ذکا اشرف کے دور میں پی ایس ایل کا ڈھانچہ منظر نظر عام پر لایا گیا تھا جس کے تحت پی سی بی 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کرتا۔لیگ کا نیا ڈھانچہ ڈرافٹ سسٹم پر مبنی ہے جس کے مطابق تمام بہترین کھلاڑیوں کوبرابری کی بنیاد پر پانچ فرنچائز ٹیموں میں تقسیم کیا جائے گا۔