دھاندلی ، دھرنا اور اسمبلی رکنیت

03 اگست 2015

الیکشن 2013ءسے قبل ملتان کے دو مخدوم تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ ان میں ایک مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے نہ صرف پانچ سال صدر رہے بلکہ مشرف دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد قومی اُفق پر تسلیم شدہ عوامی باغی لیڈر تھے۔ دوسرے پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین اور وزارت خارجہ جیسا اہم منصب چھوڑ کر سیاست میں بلند مرتبہ پر فائز ہونے والے مخدوم شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی تحریک انصاف کو چار چاند لگائے جس کے بعد لاہور سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں پی ٹی آئی کے شاندار جلسوں نے ایک جانب ان کی سیاست میں ہنگامہ خیزی پھیلائی دوسری طرف پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی قوت بن کر اُبھرتی نظر آرہی تھی۔
بعد ازاں مئی 2013ءکی انتخابی مہم میں بھی تحریک انصاف بھرپور طریقے سے عوامی رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ 11 مئی 2013ءکے انتخاب میں صوبہ سرحد اور پنجاب میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکی۔ مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قیام کے بعد اس کی قیادت نے سابقہ تجربوں کے برعکس رویہ اختیار کرتے ہوئے تینوں صوبوں میں دھونس دھاندلی کا رویہ ترک کر کے جمہوری اصولوں کے مطابق چاروں صوبوں کی اکثریتی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا۔ جس کے نتیجے میں صوبہ سرحد میں پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت تشکیل دی مگر الیکشن کے نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہارکرتے رہے۔ پہلے پہل عمران خان نے چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا جس میں ان کا اپنا حلقہ این اے 122 لاہور شامل تھا۔
جس پر حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لاپروائی اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ عمران سے کہا گیا کہ وہ رائج طریقہ اختیار کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کریں۔ میاں نواز شریف کے مشیران حالات کا ادراک نہ کر سکے اور عمران اپنی ضد پر قائم رہے۔ تکرار کا سلسلہ بڑھتا بڑھتا پورے ملک کے انتخابات میں منظم دھاندلی تک جا پہنچا۔ دونوں جانب سے جذباتی ردعمل دیکھنے میں آیا جس کے باعث جارحانہ تحریک نے جنم لیا۔
تحقیقات کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضد اور حکومت کے منفی فکر کے نتیجے میں عمران خان اور مولانا طاہرالقادری کی قیادت میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے ایک عجیب و غریب قسم کا دھرنا دیکھنے کو ملا جسے تمام چینل نے 126 دن مسلسل دکھاتے رہے۔ 14 اگست 2014ءکو شروع ہونے والا دھرنا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اس دوران حکومت کے بقول چین کے صدر کا اہم ترین اقتصادی راہ داری کے حوالے سے پیکج پر مبنی دورہ ملتوی کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں دھرنے میں کبھی سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان سُنا گیا تو کبھی غیر ملکی زرمبادلے کو ہنڈی کے ذریعے بھیجنے کا احمقانہ مشورہ عوام کو دیا گیا۔
دھرنے کے دوران ہی تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی اپنی نئی جماعت سے خفا ہو گئے۔ جاتے جاتے جہاں جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف پر بے شمار الزامات تھوپے وہاں انہیں بھی باغی سے داغی کا خطاب ملا۔ جاوید ہاشمی نے پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اندر کی باتیں عیاں کی۔ انہوں نے جرنیل کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے جنرل پاشا کا نام لے کر انہیں سارے ڈرامے کا مصنف قرار دیا پھر ہاشمی صاحب نے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کے حوالے سے بھی انکشافات کئے کہ وہ عدالتی حکم کے ذریعے مدد کریں گے۔
گو وہ سب کچھ قوم نے دیکھا جو دونوں جانب سے نامناسب بھی تھا اور بچگانہ بھی۔ بہرحال 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے ملٹری سکول کے دہشت گردی کے دلخراش حادثہ پر تحریک انصاف نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دراصل تحریک انصاف کا احتجاج طویل سخت گیر جدوجہد کا مقصد مستقبل میں جمہوری اداروں کی مضبوطی ، آئندہ انتخابی نظام کو آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانا تھا۔ تاہم اس کے جواب میں حکومت نے یکم اپریل کو جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دیا۔ دونوں جماعتوں نے کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا عہد کیا۔ پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کمیشن کو قائل کرنے میں ناکام رہے لہٰذا کمیشن نے ان کے اقدامات کو مسترد کر دیا جس پر وزیراعظم نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ہُوا اسے فراموش کرتے ہیں۔
مسائل دھرنوں میں نہیں ایوانوں میں حل ہونے چاہیں مگر ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن نے مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی رکنیت کو چیلنج کر کے ایوان کو پھر بحران کی نظر کر دیا۔ انہیں عوامی مسائل سے کوئی غرض ہے نہ قومی مفاد عزیز ہےں۔ افراق و تفریق کے ایجنڈے پر گامزن لوگ وطن عزیز کو آگے بڑھتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ ان کی حرکات بظاہر حکومتی خوشنودی اور خوشامد نظر آتی ہے مگر نتائج چغلی کھاتے ہیں کہ حکومت کے راستے میں گڑھا کھودا جا رہا ہے۔ قارئین کرام! جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اس حوالے سے خوش آئند ہے کہ تحقیقات نتیجہ خیز ہوئیں ورنہ ہماری تاریخ ایسے بے شمار سانحات سے لبریز ہے جس کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر کبھی نہیں آئی۔ لیاقت علی خان کی شہادت ہو، محترمہ مادر ملت اور حسین شہید سہروردی کی اموات، اگرتلہ سازش کیس ہو یا سقوط ڈھاکہ کی حمودالرحمن رپورٹ، جنرل ضیاءکا قتل ہو یا بےنظیر کی ہلاکت کبھی کوئی مجرم ثابت ہوا نہ باعزت بُری ہوا۔
اس کمیشن کی رپورٹ کا فائدہ یہ ہے کہ آئندہ الیکشن کمیشن اگلے الیکشن کو غیر جانبدار اور شفاف بنانے کےلئے بہتر کارکردگی دکھائے گا۔ پی ٹی آئی کی جدوجہد سے جمہوریت مضبوط اور عدلیہ پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ میں کسی کی فتح یا شکست کے پہلو کو دیکھنا کم ظرفی اور کج فہمی ہے۔ ہماری جمہوری تاریخ میں یہ ایک روشن باب کا اضافہ ہے۔
جدوجہد کرنے والوں کےلئے ڈھارس ہی نہیں بلکہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورٹ مطالبہ کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لائیں۔ ملک میں مفاداتی سیاست سے گریز کرتے ہوئے نظریاتی سیاست کو مضبوط کیا جائے۔ رپورٹ کا تقاضا ہے آئندہ منظم دھاندلی کی شکایت ہو سکے نہ انتظامی بے ضابطگیوں کی گنجائش رہے۔ الیکشن کمیشن ایسی فضا بنا سکے جس میں عام آدمی الیکشن لڑنے کا تصور کر سکے۔
٭....٭....٭....٭....٭