برطانیہ میں پہلا پاکستانی ہائی کمشنر

03 اگست 2015

18جولائی کو جب میں مختلف شہروں میں پاکستانی جہاں عیدالفطر کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوئے وہاں برطانیہ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ہمارے ہائی کمشنر سید ابن عباس اور ان کی اہلیہ نے پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی میں ایک ایسی تاریخ رقم کردی جسے ہر عیدالفطر پر اب یاد رکھا جائے گا۔
اس روز انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ کے وسیع وعریض سبزہ زار پر ایک انتہائی پرتکلف دعوت عید کا اہتمام کرڈالا، عید ملن کے حوالہ سے اس BUFFET PARTY میں 5 سو کے قریب پاکستانیوں، دولت مشترکہ اور فارن آفس کے حکام کے علاوہ خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا، خادم اعلیٰ کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ ایک رات قبل لندن پہنچ چکے ہیں مگر افسوس وہ اس پروقار عید ملن پارٹی میں شرکت نہ کر سکے، ان کی مصروفیات بلاشبہ پہلے سے طے ہو چکی ہوں گی مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ چند منٹ کے لئے اس پارٹی میں شرکت کرتے اور بالخصوص ان پاکستانیوں کی دیرینہ خواہش پوری کردیتے جنہیں وزیراعلیٰ کے ہمراہ ”مورت“ اتروانے کے لئے طویل مسافت طے کرنا پڑی تھی۔
سید ابن عباس کا چناﺅ چونکہ وزارت خارجہ کے ذہین اور خارجی اور پر مہارت رکھنے والے اعلیٰ منجھے افسران میں سے کیا گیا ہے اس لئے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے کئی گھنٹوں تک ان کی مسکراہٹیں، اس بات کا غماز تھیں کہ ہم وطنوں کے دل لینے اور انہیں دل دینے.... ان کے مسائل سے آگہی حاصل کرنے.... اور ڈپلومیٹ والز سے ہٹ کر پاکستانیوں برطانوی حکام میں پاکستان کے مورال کو مزید بلند کرنے کے لئے عملی طور پر اقدامات کرنے کے وہ داعی ہیں، میرے یہاں 32 سالہ قیام کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ کئی پاکستانی سفیر یا ہائی کمشنر نے اپنے ہم وطنوں کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر اس طرح کی دعوت عید کا خصوصی اہتمام کیا تھا، ورنہ ماضی میں جن سفرا کی بنیادی ضرورت ان کو حاصل عزت مآب کے ٹائٹل کی پرموشن تک محدود رہی ہے....!
بیشتر سفیروں کی تعیناتی کے پیچھے سیاسی پارٹیوں کا ہاتھ رہا مگر یہ پہلا موقعہ ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی صوابدید پر وزارت خارجہ کے ایک ایسے تجربہ کار اور خارجی امور پر دسترس رکھنے والے سیکرٹری لیول اعلیٰ افسر کو برطانیہ میں بطور ہائی کمشنر تعینات کیا گیا، جو برطانوی ٹریڈلیشن سمیت اپنے ہم وطنوں کے دل جیتنے کا بخوبی ڈھنگ بھی جانتا ہے!
دولت مشترکہ سے پاکستان کی رکنیت سے محرومی اور بعدازاں مشروط بحالی کے عرصہ میں بھی یہاں بڑے بڑے مناظر دیکھنے کو ملے، بیشتر سفرا کا تعلق چونکہ سیاسی بنیادوں پر تھا س لئے جتنا عرصہ وہ یہاں تعینات رہے سرکاری سطح پر تو وہ سفیر تھے مگر پاکستانیوں کی نمائندگی سے زیادہ ان کی توجہ پارٹی عہدیداران اور اراکین کو پرموٹ کرنے پر رہی، سفارتخانہ کے اندر انجمن ہائے ستائش باہمی تشکیل دے کر متعدد سفرا CECIL GEE, HARRODS اور ہاروی نکل سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے، انجمن ستائش باہمی کے جو ارکان منی کیب یا شوفرنگ کرتے کرتے تنگ آ گئے انہیں ان سفرا کی مہربانیوں اور سیاسی شخصیات کی بدولت یورپی سفارتخانوں میں اتاشی اور کئی خصوصی ترتیب دیئے عہدوں پر تعینات کیا جاتا رہا۔ پاکستانی پاسپورٹ، ویزہ کے علاوہ اپنے دیگر مسائل کے فوری حل کے لئے چیختے چلاتے رہے، مگر شنوائی ان کی ہوئی جن کے اپنی سیاسی پارٹیوں میں اثرورسوخ تھے۔ اب ایک طویل مدت بعد سید ابن عباس کا بطور ہائی کمشنر تعینات ہوتا اس لحاظ سے بھی خوش آئند ہے کہ ان کا تعلق جہاں وزارت خارجہ سے ہے وہاں ان کی ٹیم میں تجربہ کار اور عوامی مسائل کا ادراک کرنے والے ذہین افسران بھی موجود ہیں، پریس اتاشی منیر احمد برطانوی میڈیا اور پاکستانی میڈیا دونوں محاذوں پر بڑی خوش اسلوبی سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ میں قائم پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن، پاکستان پریس کلب، انٹرنیشنل جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور کئی دیگر صحافتی تنظیموں کا پریس اتاشی سے براہ راست رابطہ قائم ہے، سید ابن عباس نے گذشتہ دنوں پاکستان آرمی کرکٹ ٹیم کے برطانوی آرمی کرکٹ ٹیم سے میچ بھی کروایا۔ وہ برطانوی اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، خوش لباس اور خوش گفتار بھی ہیں مگر پاکستانیوں کا ایک اہم ترین مسئلہ جس کے بارے میں ان کی تعیناتی کی پہلی پریس کانفرنس میں بھی ان کی توجہ مبذول کروا چکا ہوں تانیوز حل طلب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سفارتخانہ میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوانے، بنک میں رقوم جمع کروانے اور پاسپورٹ کے حوصل کے لئے ننھے بچوں کو پرامز میں لانے والی خواتین اور معذور افراد کے لئے BASEMENT مہیا کی گئی انتہائی غیر معیاری سہولتیں جن میں سیڑھیوں کے ذریعے BASEMENT میں اترنا شامل ہے سید ابن عباس کی فوری توجہ کی مستحق ہےں، ڈس ایبلڈ پاکستانیوں اور کشمیریوں کو ٹائیلٹ کے استعمال کے معاملہ میں بالعموم سخت دشواری کا سامنا ہے، خواہش ہے کہ یہ بیسمنٹ ٹائلٹ بھی اسی طرح تیار کر دیئے جائیں جس طرح جناب سید ابن عباس، ڈپٹی ہائی کمشنر، آرمی، اتاشی اور خود منیر احمد کے زیراستعمال ٹائیلٹ ان کے دفاتر کے مختلف FLOORS پر موجود ہیں، ہائی کمشنر جناب سید ابن عباس نے جس دن یہ مسئلہ حل کردیا میں سمجھوں گا کہ دعوت عید کے بعد انہوں نے پاکستانیوں کے لئے ایک اور تاریخ رقم کردی میں یہ نہیں چاہتا کہ پاکستانی اپنے سفارتخانہ کے بارے میں یہ رونا روتے پھریں کہ مظلوم بھی ہم.... معذور بھی ہم.... مفلس بھی ہم اور مجبور بھی ہم....!!!