بے زمین کسانوں کا ذکر بھی ضروری ٹھہرا ہے

03 اگست 2015

فیس بک پر اوکاڑہ سے تحریک انصاف میں نئے شامل ہونے والے محمد اشرف خاں سوہنا کے پٹرول پمپ کے سامنے گندگی کے ڈھیر کی تصویر دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے پچھلے ہی دنوں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مقامی ٹی ایم او نے یہ ڈھیر وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم سے لگوایا ہے۔ اگر یہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم سے ہوا ہے تو بہت بری بات ہے اگرچہ اس کا امکان بہت کم ہے لیکن اب یہ بات منظر عام پر آنے کے بعد اگر وزیراعلیٰ پنجاب کوئی ایکشن نہیں لیتے تو یہ اور بھی بری بات ہے۔ محمد اشرف سوہنا پیپلزپارٹی کے صاف شفاف کارکنوں میں سے ہیں ایسے لوگ ہی کسی شہر، قبیلے اور سیاسی جماعت کے لئے عزت میں بڑھاوے کا باعث بنتے ہیں۔ جب پیپلزپارٹی بھٹو پارٹی نہ رہی تو کئی نظریاتی کارکنوں نے وہاں سے رخت سفر باندھ لیا عمران خان نے تحریک انصاف میں اشرف سوہنا کی آمد کا پورا نوٹس لیا ہے۔ پرسوں عمران خان نے خود انہیں ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ آپ کو چیئرمین تحریک انصاف کا پولیٹیکل ایڈوائزر برائے لیبر مقرر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے بطور صوبائی وزیر جس طرح مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور حصول کے لئے جدوجہد کی میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میری اس وقت سے خواہش تھی کہ اشرف سوہنا جیسا ورکر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر آئے جو اصل میں مزدوروں اور غریبوں کی پارٹی ہے۔ معاشرے میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک مزدور کے حالات تبدیل نہیں ہوتے۔ پاکستان کا اصل اثاثہ مزدور ہیں میں نے یہ خبر مختلف اخبارات میں سطر سطر پڑھی ہے۔ کسی اخبار میں کسان کا ذکر موجود نہیں۔ اس مرحلے پر یہ بات کرنی بہت ضروری ہے کہ اکیلے مزدور کے ذکر سے بات نہیں بنے گی۔ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ زمین کی ملکیت کا مسئلہ ہے۔ پھر سبھی مسائل اسی ایک مسئلے سے پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے اور حالات میں چھوٹی ملکیت زمین کی افادیت بڑے فارموں سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں موجودہ حد ملکیت میں زیادہ سے زیادہ کمی کرنے کے اور بھی کئی جواز موجود ہیں بڑے زمینداروں نے یہ زمین خریدی نہیں، انہیں زمینیں انگریز کی خدمات کے صلے میں ملی ہیں یا پھر ان کے آباﺅ اجداد اس پر زبردستی قابض ہو گئے تھے اس لئے زمینوں کی حد ملکیت مقرر کرنا کوئی بے انصافی نہیں ہو گی ایک واقعہ سنیں چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ لالہ موسیٰ تحصیل ناظم کے لئے ضمنی الیکشن ہو رہا تھا۔ پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کے باعث گجرات کا ضمنی الیکشن کچھ اور بھی اہم ہو گیا تھا۔ عدلیہ، انتظامیہ اور پولیس کے تینوں ضلعی سربراہ گجرات میں سر جوڑے اسی سلسلے میں بیٹھے تھے۔ چودھری پرویز الٰہی ہر قیمت پر الیکشن جیتنا چاہتے تھے وہ ہر فن میں طاق ہیں۔ انہیں کیا نہیں آتا، آنکھیں دکھانا بھی اور آنکھیں بچھانا بھی، وہ یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں سرکار۔ وہ ”ایماندار“ افسروں کی منت سماجت کرنا اور انہیں میٹھے بولوں کے عوض گھیرنا بھی جانتے ہیں گجرات کے یہ تینوں بڑے گجرات کے چودھری کے حکم یا خواہش کی تکمیل کے لئے حاضر باش تھے۔ پھر رات گئے وہ اٹھ کھڑے ہوئے لالہ موسیٰ کے ضمنی الیکشن کا من پسند نتیجہ حاصل کرنے کے سبھی انتظامات پورے کر لئے گئے تھے۔ اب انہیں صرف ایک ہی اندیشہ تھا کہ کہیں الیکشن میں گجر برادری کی عصبیت کوئی ہاتھ نہ دکھا جائے۔ پھر اگلے روز وہی ہوا جس کا کھٹکا تھا۔ گجر برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹر اپنی برادری کی خاطر قسم‘ ایمان‘ تھانہ‘ کچہری سمیت سرکار کے سبھی دباﺅ جھیل گئے اور ندیم اصغر کائرہ کو الیکشن جتوا دیا گیا۔ اب آپ الیکشن سے ذات برادری کے اثرورسوخ کو نہیں نکال سکتے۔ شکر گڑھ کے چودھری انور عزیز یا ان کا بیٹا دانیال عزیز پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لیکر حلقہ میں آئیں یا ان کے ہاتھ میں (ن) لیگ کا ٹکٹ ہو‘ یہ بات سرے سے ہی بے معنی ہے۔ بامعنی بات صرف اتنی ہے کہ وہ گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے حلقہ میں گجروں کی کثیر تعداد آباد ہے۔ چند روز پہلے کامونکی حلقہ پی پی 100 کا ضمنی انتخاب (ن) لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہوا۔ بصارت اور بصیرت رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ الیکشن دراصل راجپوتوں اور جاٹوں کے درمیان تھا۔ اس الیکشن میں محض سیاسی جماعتوں کے جھنڈے ہی استعمال ہوئے۔ (ن) لیگ کا امیدوار اختر خان راجپوت برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ تحریک انصاف کا ٹکٹ ہولڈر جاٹ چودھری احسان ورک تھا۔ ایک سوال ہے کہ کیا کسی راجپوت نے چودھری احسان ورک کو ووٹ ڈالا؟ اس سلسلہ میں صرف رانا ساجد شوکت کا ہی نام لیا جا سکتا ہے۔ یہ 2013ءکے الیکشن میں کامونکی کے قومی اسمبلی کے حلقہ میں تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اکیلے رانا ساجد شوکت کا ووٹ کیوں؟ حضور! برادری کے امیدوار کے خلاف ووٹ ڈلوانا بہت مشکل ہو گیا ہے بلکہ بعض اوقات تقریباً ناممکن ہے‘ لیکن قابل غور بات یہ کہ 1970ءکے الیکشن میں ایسے حالات نہیں تھے۔ برادریاں اپنا اثر و رسوخ کھو چکی تھیں۔ دراصل اس الیکشن میں پہلی مرتبہ پوری شدت سے زمین کی ملکیت کا مسئلہ سامنے لایاگیا۔ ”جاگیرداری ٹھاہ“ کا نعرہ اسی زمانے کی یادگار ہے۔ اس الیکشن میں پہلی مرتبہ بے زمین کسان‘ مزدور اور غریبوں نے اپنی ذات برادری بھلا کر صرف پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔1985ءکے غیر جماعتی اور ”اسلامی“ انتخاب نے برادری کا مردہ پھر زندہ کر دیا۔ پھر تو وہ چند الیکشنوں کے بعد شیر جوان ہو گیا۔ برادری ازم سیاسی نظریات کی نفی کا نام ہے۔ سیاست کو صحیح ڈگر پر لانے کیلئے انقلابی منشور کی ضرورت ہے۔ تبدیلی محض ٹیکس کلیکشن اور کرپشن کی روک تھام سے ممکن نہیں رہی۔ کچھ اس سے بڑھ کر اقدامات کرنے پڑیں گے۔ معاملہ 1793ءسے شروع کرنا پڑے گا۔ جب بنگال میں پہلی مرتبہ زمین کی مستقل ملکیت کے حقوق بخشے گئے۔ تحریک انصاف کے پرانے نظریاتی کارکن ڈاکٹر شاہد صدیقی خان کا فون تھا۔ کل ایک بجے کپتان صاحب کالم نگاروں سے ملاقات فرمائیں گے۔ پیچھے سے ایک آواز سنائی دی ”چپ رہنا۔ کوئی سوال نہ پوچھنا۔“ ہم نے کیا پوچھنا ہے؟ ہم تو پہلے ہی عشق کی اس منزل پر کھڑے ہیں
کچھ پوچھنا نہیں ہے‘ بتانا بھی نہیں
واقف ہیں نگہ یار تری آگہی سے ہم
تحریک انصاف پارٹی میرا آخری عمر کا عشق ہے۔ پھر بڑھاپے میں بندہ اپنی محبوبہ کی بدچلنی بھی نظرانداز کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ شاعر لاہور شعیب بن عزیز کی سنئے‘ کیا مزیدار بات کہہ رہے ہیں
محبتوں میں اجازت بڑی ضروری ہے
ہوئی نہ گر تو کوئی اور کام کر لیں گے
کسی کے کوچے میں اذن گداگری کیلئے
امیر شہر تجھے بھی سلام کر لیں گے
زمین کی ملکیت‘ اس کی حد اور حدود ہی میں اس ملک کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ یہی ملک میں تبدیلی لانے کا درست راستہ ہے۔ صراط مستقیم۔