اتوار ‘ 21 ذی الحج 1439 ھ ‘ 2 ستمبر 2018ء

Sep 02, 2018

وزیراعظم ہاﺅس کی 33لگژری گاڑیاں نیلام کرنےکا اشتہار جاری

حکومتی کام کاج حکومت کرنے والے جانیں عوام کو اس بارے میں زیادہ سوجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ویسے بھی اس بارے میں کچھ کہنے سے پہلے چھوٹا منہ بڑی بات والی مثال یاد آ جاتی ہے ۔ حکومت نے وزیراعظم ہاﺅس کی 33 قیمتی چمچماتی گاڑیاں نیلام کرنے کا جو حکم دیا ہے وہ سر آنکھوں پر ۔ مگر آج کل جو مال حرام کمانے اور ملکی خزانہ لوٹ کر یا ٹیکس میں ڈنڈی مار کر مال کمانے والوں کی شامت آئی ہوئی ہے اس کے بعد کوئی بھی ان مہنگی گاڑیوں کو مناسب دام پر خریدنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ کیوں کہ خطرہ لگا رہے گا کہ اس سے بھی ذرائع آمدن کا ریکارڈ نہ مانگ لیاجائے ۔ اس لئے ان قیمتی گاڑیوں کو اونے پونے داموں میں فروخت کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ انہیں کرائے پر چلایا جائے ۔ویسے بھی رینٹ اے کار کا روبار آج کل عروج پر ہے ۔ نجی کمپنیوں کی طرف سے فون پر ٹرانسپورٹ کی فراہمی منافع بخش جاری ہے تو پھر کاہے کو ایسی خوبصورت لگژری گاڑیوں کو فروخت کرکے ان کی مٹی پلید کرنی۔ حکومت ان عالی شان کاروں کو کرائے پر دینے کی سکیم شروع کرکے دیکھے کیسے ہر طرف سے ان کی بکنگ کا طوفان آئے گا۔جس سے ملکی خزانے کو مستقل آمدنی بھی میسر ہوگی۔ لوگ بھی شادی بیاہ کے موقع پر خاص طورپر یاسیرو سیاحت کیلئے یہ گاڑیاں ہنسی خوشی بک کرانے میں فخر محسوس کریں گے ویسے بھی سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ذبح کرنے سے بہتر ہے کہ اس سے روز ایک انڈے حاصل کیا جائے ۔سب سے بہتر کام یہ ہے کہ تمام گورنر ہاﺅسز ، وزیر اعلیٰ ہاﺅسز ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس کو ان قیمتی گاڑیوں کے بوجھ سے نجات دلائی جائے ۔ اوران گاڑیوں کو کماﺅ پوت بنا کر فائدہ اٹھا یا جا ئے۔

٭....٭....٭

آنکھ مارنا کسی مذہب کی توہین نہیں ، بھارتی سپریم کورٹ

آنکھ مارنے سے کسی شخص کو نقصان تو نہیں ہوتا۔ مگر اسے ایک معیوب حرکت ضرور تصور کیا جاتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں تو اس چشمک کے باعث ہاتھا پائی کی نوبت آ جاتی ہے۔ سر پھٹول تک بات جا پہنچتی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے یہ فیصلہ کہ آنکھ مارنے سے کسی مذہب کی توہین ہوتی کچھ زیادہ ہی فراخدلانہ لگتا ہے۔ کیونکہ بھارت میں ہندو، مسلم سکھ عیسائی سب لوگ آباد ہیں اگر ان مختلف مذاہب کے لڑکے کسی بھی دوسرے مذہب کی لڑکی کو آنکھ ماریں گے تو لامحالہ فساد کا خطرہ بہت بڑھ جائے گا اور ایسا اکثر ہوتا بھی رہتا ہے۔ جہاں مسکرا کر دیکھنے پر فساد برپا ہوتا ہو وہاں ”آنکھ مارو دل کو اڑا دونہ پٹاخ کر کے“ والی حالت نجانے کیا گل کھلائے گی۔ آنکھ مارنا ایک عامیانہ حرکت سمجھی جاتی ہے۔ دوران گفتگو آنکھ مارنا ہمیشہ منفی اشارہ قرار پاتا ہے۔ البتہ دوست احباب میں ہنستے مسکراتے جملے بازی کے دوران آنکھ مارنے کا مطلب بات مذاق یا شرارت میں وزن پیدا کرنا ہوتا ہے۔ شرارتی لونڈے سڑکوں پر ہمیشہ اپنی اسی نا معقول حرکت کی وجہ سے پٹتے بھی ہیں مگر کیا مجال ہے جو باز آئیں۔ عاشق اور معشوق کے درمیان آنکھوں میں اشارے یا نظر بازی یا آنکھوں ہی آنکھوں میں حال دل بیان کرنا اردو شاعری سے لے کر افسانوں اور ڈراموں تک میں عام ہے۔ مگر یہاں بھی آنکھ مارنے کی اجازت نہیں ملتی۔ اب بھارتی عدالت کے نزدیک اس سے کسی مذہب کی توہین نہیں ہوتی مگر یاد رہے کہ بھارت جیسے ملک میں اس طرح مذہبی فسادات کا خطرہ ضرور بڑھ جاتا ہے۔

پنجاب سمیت ملک کے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ جاری

باقی شہروں کا رونادھونا اپنی جگہ صوبائی دارالحکومت لاہور کو بھی لوڈشیڈنگ کا بھوت کچھ اس طرح چمٹا ہوا ہے کہ لوگوں کو بیٹھے بٹھائے زرداری صاحب کا دور حکومت یاد آنے لگا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئی حکومت آنے کے بعد اس لوڈشیڈنگ نامی بلا کو قابو میں کرنے کے جتن کرتی ۔ مگر ایسا تو نہ ہوا البتہ بجلی بل کی قیمت میں 36پیسے فی یونٹ اضافہ کرکے نہایت خاموشی سے غریب صارفین کے سروں پہ بجلی گرا دی ہے اب ظاہر ہے رقم معمولی ہے کسی کو اسکی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔جن کو ہوئی انہوں نے کان بند کرلئے۔ اب روٹی پانی کے چکر میں صبح تا شام پھنسے پاکستانیوں کی اکثریت میں سے کتنے لوگ ہیں جو اخبار پڑھتے ہیں یا ٹی وی دیکھتے ہیں اس لئے کسی کو اس اضافہ کا پتہ بھی نہ چلا۔اب جس وقت 2ہزار وپے ماہانہ بل ادا کرنے والوں کو اچانک نیا بل 24سو روپے آئے گا تو شاید اس وقت ان کی چیخیں نکلیں گی کہ ہائیں یہ کیا ہوگیا پھر اس بجلی بل میں اضافہ کے بعد بھی جب لوگوں کو لوڈشیڈنگ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا تو ظاہر ہے وہ بھڑکیں گے ۔ اس وقت پشاور سے لے کر اوکاڑہ تک کوئٹہ سے لے کر کراچی تک کئی شہروں میں لوگ اس آتی جاتی بجلی کی زیادتیوں کے خلاف اپنا غصہ سڑکوں پر ٹائر جلا کر نکالتے نظر آ رہے ہیں حکمران ان کی داد رسی کریں اور بجلی کی آنیاں جانیاں ختم کرکے گرمی کے ستائے لوگوں کو کچھ دیر سکون کا سانس لینے دیں۔ ورنہ کہیں لوگ ٹرکوں کے پیچھے کسی کی تصویر لگا کر نیچے”تیرے جانے کے بعد تیر ی یاد آئی “ والا گھسا پٹا شعر نہ لکھنے لگ جائیں۔

٭....٭....٭

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے عورتوں کے زیور بیچ کر سڑک کی تعمیر کا نوٹس لے لیا

خدا کرے یہ نوٹس صرف یاددہانی کانوٹس نہ ہو بلکہ حقیقی معنوں میں نوٹس ثابت ہو اور ایسے لوگوں کی گوشمالی کا باعث بنے جو عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس کے ساتھ کیا ہی اچھا ہو کہ اب ان لوگوں کو ان کے بیچے گئے زیورات کی قیمت واپس کی جائے جنہوں نے اس کار خیر میں حصہ لیابدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر خبر کی اشاعت کے بعد فوری نوٹس لیا جاتا ہے رپورٹ طلب کی جاتی ہے پھر تحقیقاتی کمیٹی بنا کر اس نوٹس کا اختتامیہ کر دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ آج تک کسی کمیٹی نے رتی بھر کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا تاہم خوش آئند بات یہ ہے وزیراعظم آزاد کشمیر نے اب اس نومولود سڑک کی دیکھ بھال اور بہبودی کی ذمہ داری خود سنبھال لی ہے جس کے بعد امید ہے علاقے کے عوام کو مزید کسی دقت کا سامنا نہیں ہوگا علاوہ ازیں انہوں نے آزاد کشمیر کے دور دراز دشوار گزار علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے لئے خزانے میں موجود کروڑوں روپے کی رقم کو بہتر انداز میں استعمال کا بھی حکم دیا ہے اب پتہ چلا کہ ....

اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتاہے

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

کا معاملہ کیا ہوتاہے یہ خبرنوائے وقت میں چھپی اور اس کا ذکر سرراہے میں ہوا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے فوری ایکشن لیا۔ اسی طرح اگر عوام ہمیشہ بیدار اور چوکس رہیں اور میڈیا ان کی ترجمانی کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہر جگہ ان کی سنی جائے گی اور 70سالوں سے بگڑے ہوئے معاشرے میں اصلاح کی صورت بھی پیدا ہوگی۔

٭....٭....٭

مزیدخبریں