پاکستان میں زلزلے کی پیش گوئی ،محکمہ موسمیات کا مؤقف بھی آگیا

محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ زلزلہ کہاں اور کب آئے گا اس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

تفصیلات کے مطابق نیدر لینڈ کی سولر سسٹم جیومیٹری سروے کی پیشگوئی پر موقف دیتے ہوئے محکمہ موسمیات نے کہا کہ زمین کے اندر 2بڑی پلیٹوں کی سرحدیں پاکستان کے درمیان سے گزرتی ہیں۔

سرحدیں سونمیانی سے پاکستان کے شمالی علاقے تک پھیلی ہوئی ہیں،ان باؤنڈری لائنوں میں کسی بھی مقام پر زلزلہ آ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ1892میں چمن فالٹ پر 9سے 10کی شدت کا زلزلہ آ چکا ہے.1935میں چلتن رینج میں زلزلہ آیا تھا، جس میں کئی ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔عام طور پر 100سال کا عرصہ گزرنے کے بعد باؤنڈری لائنوں میں دوبارہ زلزلے کا امکان ہوتا ہے،

یاد رہے کہ نیدر لینڈ کی سولر سسٹم جیومیٹری سروے نے پاکستان میں آئندہ 48 گھنٹوں میں طاقتور زلزلے کی پیشگوئی  کی ہے.  جس کی شدت 6 یا اُس سے زائد ہو سکتی ہے۔زلزلہ پیما ریسرچ انسٹیٹیوٹ سولر سسٹم جیومیٹری سروے نے چمن فالٹ لائن کو انتہائی طاقتور ممکنہ زلزلہ کا ریجن قرار دیتے ہوئے سطح سمندر کے قریب فضا میں برقی چارج کے اتار چڑھاؤ کی اطلاع دی ہے، جس کی وجہ سے نقشے میں جامنی رنگ والے علاقوں بشمول بلوچستان میں آئندہ چند روز میں طاقتور زلزلہ آ سکتا ہے۔

یہ خبر وائرل ہوتے ہی ہر کوئی اضطراب میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کو ایک خوفناک زلزلے کا سامنا ہے۔

ای پیپر دی نیشن