کھیت کھلیان اور کسان

گلوبل ویلج    
مطلوب احمد وڑائچ
matloobwarraich@yahoo.com

کسان کی روزی بھی ہوائی روزی بن کر رہ گئی ہے۔ اپنی محنت اور کاوش سے کسان بمپرفصلیں پیداکرتا ہے۔ ایک کسان کی کھیتی باڑی سے دس دس خاندان پلتے ہیں۔ گا?ں کے ہنرمندوں ،ترکھان،لوہار، موچی اور مولوی تک کی نظریں فصلوں کی پکائی پر ہوتی ہیں۔ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اور پٹواری کا چولہا اپنی تنخواہوں سے زیادہ ’’چھوٹ‘‘ کے پیسوں پر چلتا ہے۔ کسان کی روزی ہوائی روزی یوں بن گئی، قدرتی آفات کبھی سیلاب کی صورت میں، کبھی بارش ،اندھیری، ڑالہ باری اور طوفان کی صورت فصلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ میرے دوست ساتھ والے علاقے میں زمینداری کرتے ہیں۔ اس نے 50ایکڑ ٹھیکے پر زمین لی۔ جس پر گندم بیجی۔ پہلے بارش ہوئی اس سے فصل کو نقصان پہنچا، پھر چند روز بعد کٹائی سے صرف تین روز قبل قیامت خیز ڑالہ باری ہوئی جس نے فصل کو تہس نہس کر دیا۔ 6ہزار روپیہ فی کٹائی پھر گہائی۔ 5ایکڑ سے 70من گندم نکلی۔ ریٹ4ہزار بھی ہو تو 2لاکھ 80ہزار بنتے ہیں۔ ویسے ریٹ38سو روپے ہے۔ اس کے صرف تین لاکھ روپے بنتے ہیں۔ تھریشر یا پارویسٹر کا کرایہ الگ سے ہے۔ زمیندار نے مالیہ دینا ہے۔ فصل کو کھاد بھی لگائی، پانی بھی لگایا۔ اسے کتنا نقصان ہوا۔ یہ صرف اس کسان کا نقصان ہے ’’ہنر مندوں‘‘ کو دانے پھر بھی دینے ہیں۔ ایسے خسارے کو دیکھا تو باقی کسانوں نے گندم کو آگ لگا دی۔
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
کسان کے مقابلے میں سرمایہ دار کتنا خوشحال ہے۔ہمارے وطن میں سرمایہ دار ، کارخانے دار اور فیکٹری مالکان کو اس قدر تحفظ اور سہولیات میسر ہیں کہ پاکستان کی منڈی سرمایہ داروں کی جنت کہلاتی ہے۔ کھاد ، زرعی ادویات اور فرٹیلائزر ایکویپمنٹ بنانے والے اداروں کو کھاد بیج اور دیگر بنانے والی کمپنیوں کو درآمد کئیے جانے والے سامان پر سبسڈی ملتی ہے اور کاروبار کی وسعت کے لئے بنکوں سے قرضہ کی سہولیات بھی بہت زیادہ ہیں اور خدا نہ کرے اگر کسی بزنس مین کا بزنس یا پراجیکٹ فیل ہو جائے تو بنک کو اپنا سرمایہ ریکور کرنے کے لئیے کچھ نہیں ملتا ، کیوں کہ متعلقہ سرمایہ دار اپنا سرمائے کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی ملک سے باہر منتقل کر چکا ہوتا ہے۔قرض ہڑپ کرنے میں قرض دار کا پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔پیشہ ور سرمایہ کاروں کو بینک سے قرض کی اپلیکیشن کے ساتھ ہی بینک والے کاروبار کی تباہی کا فارم بھی تھما دیتے ہیں جس پر قرضہ معاف کیا جانا ہوتا ہے۔ اس طرح پاکستان کے بنکوں اور معیشت پر خاصے منفی اثرات پڑتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ معیشت ڈوب جاتی ہے ، جبکہ جب کسان زرعی قرضہ کے لئیے اپلائی کرتا ہے تو اسے زر ضمانت کے لئیے اپنی زمین کو ضمانتا گروی رکھنا پڑتی ہیں اور زمین تو کسی اوپن مارکیٹ یا ہنڈی کے ذریعے باہر شفٹ نہیں ہو سکتی اور کسی ایسی ناگہانی صورتحال کی صورت میں بنک قرض خواہ کی زمین پلیج کر لیتے ہیں اور بنک کا سرمایہ مکمل ڈوبنے سے بچ جاتا ہے۔ 
مطلب یہ ہوا کہ کسان کو دیا ہوا قرضہ نہ صرف محفوظ ہوتا ہے بلکہ قابل واپسی کے بھی چانسز زیادہ ہیں۔دوسری طرف سرمایہ دار کو تو ملکی قرضے کا پیسہ لیکر فیکٹری چلانے ، مال تیار کرنے یا اسے سٹوریج کرنے اور پھر اسے اندرون ملک یا بیرون ممالک بیچنے کی مکمل آزادی ہے جبکہ کسانوں کو ٹیوب ویل کے لئیے نہ بجلی نہ کھاد ،نہ زرعی ادویات پر کسی قسم کی سبسڈی ملتی ہے، نہ فصل کے تیار ہونے تک آسمانی آفات اور زمینی حقائق کے مطابق فصل کو پانی ملنے یا آگ لگنے جیسی دوسری صورت حال پر کوئی انشورنس کلیم نہیں ہوتا اور نہ ہی آسانی سے کوئی بیمہ پالیسی ملتی ہے اور جب فصل تیار ہو جائے تو پھر بار دانے یعنی سرکاری بوریوں کے لئیے جو کھجل خرابی بھگتنے کو ملتی ہے اس کی تلافی اور مداوا اور الفاظ میں بھی ممکن نہیں پھر کسان کے لئیے حکم ہے کہ وہ گندم چاول کی ایک مختص مقدار ہی یعنی پچیس من فی خاندان رکھنے کی اجازت ہے وائیلیشن پر چھاپے پڑتے اور قرقی کا خطرہ ہوتا ہے ، جبکہ اس کے مقابلے میں سرمایہ دار کو مال تیار کر کے بیرون ممالک برآمدات کے لئیے نہ صرف سہولیات مہیا کی جاتی ہیں بلکہ برآمدات پر حکومت کی جانب سے ایک دفعہ پھر ری بیٹ کے نام پر اچھی خاصی رقوم واپس مل جاتی ہیں۔
 یہی وجہ ہے سرمایہ دار جاگیر داروں کے بچے ہاروڈ اور آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں میں پڑھتے اور عیاشیاں کرتے ہیں جبکہ چھوٹے زمین داروں اور کسانوں کے بچے اپنی زمین پر اْگی فصل کے لئیے ،پانی کے حصول کے لئیے محکمہ انہار کے پرچے اور شریکوں سے فصل کے لئیے لڑائیوں میں الجھ کر قتل و غارت اور مقدمات میں پھنسے ہوتے ہیں۔ ان مقدمات میں الجھ کر پوری زندگی کچہریوں اور عدالتوں کے دھکے کھاتے پھرتے ہیں جس کی وجہ سے کسان اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ صدیوں سے چل رہا ہے، اور پھر ہماری ثقافت کہ ’’ کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا ‘‘ اور رہی سہی کسر کسان کی ٹریڈرز اور آڑھتی نکال دیتے ہیں یعنی فصل اگاتا ، قرضے لیتا ، جھگڑے ، پانی ، بجلی سے جو کسان تھوڑا بہت بچ جاتا ہے اسے آڑھتی کا ترازو زندہ درگور کر دیتا ہے اور اکثر اوقات تو کسان نے اپنے اخراجات اور واجبات ادا کرنے کے لئیے آڑھتی سے اگلے کئی کئی فصلوں کے سیزنوں کی رقم ایڈوانس میں وصول کر لی ہوتیں ہیں۔ یوں سیٹھ اور ساہوکار ہر قدم پہ غریب کسان کا استحصال کرتا نظر آتا ہے۔
قارئین!میں خود ایک کسان کا بیٹا ہوں اور یہ ساری تصویر جو میں نے اوپر بیان کی ہے، یہ سب کچھ زندگی بھر میری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا ہے۔میرا پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کو مشورہ ہے کہ ملک کی ایگریکلچر کے گروتھ کے لیے واضح منصوبہ بندی اور پالیسیاں بنائی جائیں۔کم ازکم جس کھیت میں کسان ضابطے کے مطابق کاشت کرے اس کھیت کو بیمہ پالیسی دینا حکومت کا فرض ہے۔قارئین! روس اور یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر پر یہ واضح کر دیا ہے کہ انسان کا مستقبل مشینوں یا ڈیجیٹل ترقی پر منحصر نہیں بلکہ کھیت اور کھلیان سے جڑا ہے۔