پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیاری باتیں!!!!!

 حضرت زینب بنت جحش سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم اپنی نیند سے یہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے لا الہ الا اللہ عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آپہنچا یاجوج ماجوج کی آڑ آج اتنی کھل گئی ہے اور سفیان راوی نے اپنے ہاتھ سے دس کا عدد کا حلقہ بنایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے اس حال میں کہ نیک لوگ ہم میں موجود ہوں گے آپ نے فرمایا جب فسق وفجور کی کثرت ہوجائے گی۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم گھبرائے اس حال میں نکلے کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آچکا ہے آج یاجوج ماجوج کی آڑ اتنی کھل چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے اپنے انگوٹھے اور اس کے ساتھ ملی ہوئی انگلی کا حلقہ بنا کر بتایا، فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم اپنے اندر موجود نیک لوگوں کے باوجود بھی ہلاک ہوجائیں گے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا ہاں جب فسق وفجور کی کثرت ہو جائے گی۔ 
حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان کے ہمراہ ام المومنین ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں سوال کیا جسے ابن زبیر کی خلافت کے دوران دھنسایا گیا تھا تو سیدہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا پھر اس کی طرف لشکر بھیجا جائے گا وہ جب ہموار زمین میں پہنچے گا تو انہیں دھنسا دیا جائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جس کو زبرد ستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو اس کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا ابوجعفر نے کہا بیداءسے (میدان) مدینہ مراد ہے۔ 
حضرت ام المومنین سیدہ حفصہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا اس گھر (بیت اللہ) والوں سے لڑنے کے ارادہ سے ایک لشکر چڑھائی کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ہموار میدان میں ہوں گے تو ان کے درمیانی لشکر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے آگے والے پیچھے والوں کو پکاریں گے پھر انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا اور سوائے ایک آدمی کے جو بھاگ کر ان کے بارے میں اطلاع دے گا کوئی بھی باقی نہ رہے گا ایک آدمی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں تیری اس بات پر کہ تو نے حفصہ ؓ پر جھوٹ نہیں باندھا اور حفصہؓ پر بھی میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم پر جھوٹ نہیں باندھا۔
 سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے نیند میں اپنے ہاتھ پاو¿ں کو ہلایا تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے اپنی نیند میں وہ عمل کیا جو پہلے نہ فرمایا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا تعجب ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ کا ارادہ کریں گے قریش کے ایک آدمی کو پکڑنے کے لئے جس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوگی یہاں تک کہ جب وہ ایک ہموار میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول راستے میں تو سب لوگ جمع ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا ہاں ان میں با اختیار مجبور اور مسافر بھی ہوں گے جو ایک ہی دفعہ ہلاک ہوجائیں گے اور مختلف طریقوں سے نکلیں گے اور انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ پر چڑھے پھر ارشاد فرمایا کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرات گرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے (ظاہر) ہوں گے ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے افضل ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جو آدمی گردن اٹھا کر انہیں دیکھے گا تو وہ اسے ہلاک کردیں گے اور جسے ان میں کوئی پناہ کی جگہ مل جائے تو چاہئے کہ وہ پناہ لے لے۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نمازوں میں سے ایک نماز ایسی ہے جس سے وہ نماز قضاء ہوجائے تو ایسا ہے گویا کہ اس کا گھر اور مال سب لوٹ لیا گیا ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا فتنے ہوں گے تو ان میں سونے والا بیدار رہنے والے سے بہتر ہوگا اور بیدار کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا پس جس آدمی کو کوئی پناہ کی جگہ یا حفاظت کی جگہ مل جائے تو اسے چاہئے کہ وہ پناہ حاصل کرے۔ حضرت عثمان بن الشحام سے روایت ہے کہ میں اور فرقد سنجی مسلم بن ابوبکر کی طرف چلے اور وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے کہا کیا آپ نے اپنے باپ سے فتنوں کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے ابوبکر کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ فرمایا عنقریب فتنے برپا ہوں گے آگاہ رہو پھر فتنے ہوں گے ان میں بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا ان کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہو گا آگاہ رہو جب یہ نازل ہوں یا واقع ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ ہی لگا رہے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین سے ہی چمٹا رہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کے پاس نہ اونٹ ہوں اور نہ بکریاں نہ ہی زمین آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار پتھر کے ساتھ رگڑ کر کند اور ناکارہ کر دے پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کرے اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کیا فرماتے ہیں کہ اگر مجھے ناپسندیدگی اور ناگواری کے باوجود ان دونوں صفوں میں سے ایک صف یا ایک گروپ میں کھڑا کردیا جائے پھر کوئی آدمی اپنی تلوار سے مجھے مار دے یا کوئی تیر میری طرف آجائے جو مجھے قتل کر ڈالے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا وہ آدمی اپنے گناہ اور تیرے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخ والوں میں سے ہو گا۔ حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے کہ میں اس آدمی (حضرت علی) کے ارادہ سے گھر سے روانہ ہوا ابوبکر مجھ سے ملے تو کہنے لگے اے احنف کہاں کا ارادہ ہے میں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے چچا زاد یعنی حضرت علیؓ کی نصرت کا ارادہ کرتا ہوں تو ابوبکر نے مجھے کہا اے احنف واپس لوٹ جا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم سے سنا ہے کہ جب دو مسلمان باہم ایک دوسرے سے اپنی تلواروں سے لڑائی جنگ کریں گے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے میں نے عرض کیا یا آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم سے عرض کیا گیا کہ یہ تو قاتل ہے مگر مقتول کا کیا قصور ہے آپ نے فرمایا کیونکہ اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے ایک دوسرے کے مقابلہ کریں تو قاتل اور مقتول (دونوں) جہنم میں جائیں گے۔ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ھرج کی کثرت ہوجائے صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم ھرج کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا قتل قتل (یعنی خونریزی کی کثرت)۔ حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لئے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک، عنقریب میری امت کی سلطنت و حکومت پہنچ جائے گی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے دعا مانگی کہ وہ انہیں عام قحط سالی میں ہلاک نہ کرے اور اپنے علاوہ ان پر کوئی ایسا دشمن بھی مسلط نہ کرے جو ان سب کی جانوں کی ہلاکت کو مباح جائز سمجھے اور میرے رب نے فرمایا اے محمد جب میں کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور بیشک میں نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی امت کے لئے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں عام قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ ان پر ایسا کوئی دشمن مسلط کروں گا جو ان سب کی جانوں کو مباح و جائز سمجھ کر ہلاک کر دے اگرچہ ان کے خلاف زمین کے چاروں اطراف سے لوگ جمع ہوجائیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو خود ہی قیدی بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے محفوظ فرمائے اپنی رحمتوں میں رکھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی سنتوں پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

ای پیپر دی نیشن