بجلی کے بل…

02 جولائی 2009
مکرمی! پاکستان بھر میں جاری بجلی کے بحران سے ملک و قوم کا ہر بڑا اور چھوٹا سخت بے زار اور آخری حد تک پریشان ہے۔ ہر جگہ مہینہ کے تیس دن کی بجائے پندرہ دن بجلی آتی ہے۔ باقی پندرہ دن لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور بعض مقامات پر تو یہ لوڈ شیڈنگ مہینہ میں 18 دن یا بیس دن تک ہے۔ مگر اسکے باوجود بجلی کے بل چار سے پانچ گنا زیادہ رقم کے آ رہے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے دوران بھی میٹر چلائے رکھنے کی کیا ٹیکنالوجی ہے جو ہمارے ملک میں لیسکو اور واپڈا کے حکام نے ایجاد کی ہے۔ لیسکو کے جاری کردہ بلوں پر گزشتہ ایک سال کے ادا شدہ بلوں کی تفصیل بھی موجود ہوتی ہے۔ جبکہ لوڈ شیڈنگ نہیں تھی۔ مگر تازہ ترین بلوں پر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس قدر طویل اور بھاری لوڈ شیڈنگ کے باوجود میٹر کی ریڈنگ اتنی تیز کیسے ہو جاتی ہے؟ اسکے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جس ملک سے واپڈا بجلی کے میٹر برآمد کرتا ہے اس ملک کے مینو فیکچررز سے کہا گیا ہے کہ واپڈا کے میٹر 30 فیصد تیز رفتار ہونے چاہئیں اور جب میٹر فکس کیا جاتا ہے تو اسے مزید دس فیصد تیز کر دیا جاتا ہے۔ عوام دن میں بارہ سے چودہ گھنٹے بجلی کے بغیر رو دھو کر گزر کرتے ہیں مگر بجلی کا بل پندرہ دن کی بجلی کی بجائے ساٹھ دن کا دیا جاتا ہے۔
موجودہ ’’منتخب عوامی حکمرانوں‘‘ کا مشن کیا ہے؟ عوام کو ایسا پریشان کیوں کیا جا رہا ہے؟ اور حکمران پارٹی کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر سب سر جھکا کر ساتھ دے رہے ہیں۔ عوام کو ذبح کیا جا رہا ہے اور عوام کے نمائندے اس پر احتجاج کرنے کی بجائے عوام کے ہاتھ پاؤں باندھنے میں حکمرانوں کی مدد کر رہے ہیں… آخر کیوں؟
اس ساری صورتحال کا واحد علاج یہ ہے کہ پاکستان کے شہری‘ حکمرانوں اور انکے معاونین کے خلاف شدید احتجاج کریں۔ کراچی کے بجلی کے صارفین کی طرح پنجاب کے عوام بھی باہمی یک جہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ یہی واحد طریقہ رہ گیا ہے جس سے بے حس حکمرانوں اور انکے ساتھیوں کو شرم دلائی جا سکتی ہے۔ بجلی کے تمام صارفین کو اپنے اپنے علاقہ میں اپنے آپ کو متحد و منظم کرنا چاہئے۔ واپڈا اور لیسکو حکام عوام نہیں انسانیت دشمنی کے آخری درجہ پر فائز ہو گئے ہیں اب اس کا علاج عوام کو خود کرنا چاہئے۔ (پرویز حمید … سمن آباد لاہور 0333-4311015)