ملکی وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم

02 جولائی 2009
مکرمی! وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ اعلان موقع کی مناسبت سے بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ اگر حکومت کے دستیاب وسائل کو عوام پر خرچ نہ کیا تو اس ملک میں خونیں انقلاب آسکتا ہے۔ بے شک یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ میں ایسے درجنوں واقعات ملتے ہیں انقلاب فرانس ہو یا انقلاب روس یہ تو ہمارے جدید دور کی تاریخ ہیں۔اور پھر خود ہمارے اپنے وطن پاکستان میں دیکھ لیں اس وقت جو بدامنی و بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم ہے جس کی وجہ سے طبقاتی کشمکش عروج پر پہنچ چکی ہے۔ بدامنی‘ لوٹ مار‘ قتل و غارت گری یہ سب اس کشمکش کے بتدریج مراحل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس غبار کو غصہ کو نفرت کو نکالنے کیلئے حکومت کے خلاف کہیں مذہب کا نام لیا جا رہا ہے کہیں سیاسی مخالفت کہا جا رہا ہے اور کہیں بھوک و ننگ سے تنگ آمد بجنگ آمد کی حالت طاری ہے۔اگر ہماری سابقہ حکومتوں نے ملکی و حکومتی وسائل جو وافر مقدار میں دستیاب ہیں ایمانداری سے ملک کے عوام پر خرچے ہوتے تو آج ملک کے سولہ کروڑ عوام کی تقدیر بدل چکی ہوتی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ آخر کب تک مجبور اور بے بس عوام اپنے جسم و جان کے رشتے کو بچانے کیلئے بے بسی میں ہاتھ پائوں چلاتے رہیں گے۔ کیا صرف مراعات یافتہ طبقوں کیلئے دنیا کی ہر آسائش ہے‘ کمزور اور بے مایہ عوام کا کوئی ولی وارث نہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ انتظار کریں اس وقت کا جب یہ مانگنے والے ہاتھ اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے ارباب اختیار اور مراعات یافتہ افراد کے گریبان پکڑ کر کھینچ لیں گے اور پھر اس وقت ایران اور فرانس کی طرح شاید پاکستان کے گلی کوچوں میں بھی جا بجا ’’گلوٹین‘‘ اور ’’پھانسی کے پھنڈے‘‘ نصب ہوں گے جہاں ’’نرم ہاتھ والوں‘‘ اور ’’بڑی توند والوں‘‘ کے سر اور جسم کے درمیان کا رشتہ منقطع ہوتا نظر آئے گا۔جی این بٹ ‘ لاہور 0300-4938902

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...