مشیر خزانہ بمقابلہ چیف جسٹس

02 جولائی 2009
بظاہر لگتا ہے کہ پٹرول دھماکہ عوام کے خلاف ایک اقدام ہے۔ وہ چھپن روپے لٹر پٹرول خرید رہے ہیں تو باسٹھ روپے کا بھی لے لیں گے۔ ان کے ساتھ تو یہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ وہ جب تک برداشت کرتے رہیں گے یہ ظلم ہوتا رہے گا۔ اصل میں یہ اقدام چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف کیا گیا ہے۔ انہوں نے پٹرول کی ناجائز قیمتوں کے خلاف سووموٹو ایکشن لیا تھا۔ ریٹائرڈ جسٹس بھگوان داس کی سربراہی میں کمیٹی بنی جس نے تحقیقات کے بعد یہ تجویز دی کہ پٹرول کی قیمتوں میں بیس روپے لٹر سے زیادہ کمی کی جائے۔ چیف جسٹس نے ایک عدالتی حکم نامے کے ذریعے حکومت کو آگاہ کیا۔ جس کے لئے مشیر خزانہ نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں اس کی بجائے استعفٰی دینا مناسب سمجھوں گا۔ صدر زرداری اور کسی حکمران نے اس پر اظہار خیال بھی مناسب نہ سمجھا۔ اس کے باوجود مشیر خزانہ شوکت ترین نے صرف عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے ایک لٹر پٹرول میں ڈیڑھ روپے سے بھی کم کی کمی کر دی۔ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم تو یہی کچھ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ ہمارا کچھ کر سکتے ہو تو کر لو۔ اور جرأت انکار کی کیفیتوں کو محبوبیت کی منزل تک پہنچانے والے عزت مآب چیف جسٹس نے خاموشی اختیار کی تو کیا یہ اپنے بے اختیار ہونے کا اعتراف تھا؟ لوگ پہلی بار اپنے بہادر اور محبوب چیف جسٹس سے مایوس ہوئے۔ یہ آخری دروازہ ہے۔ اب یہاں بھی دستک تک نہیں دی جا سکتی اب تو دل کا دروازہ بھی بند ہو رہا ہے مگر میرا دل چیف صاحب کے لئے جانثاریوں سے بھرا ہوا ہے وکیلوں اور لوگوں نے دو سال تک ان کے لئے تکلیفیں اٹھائیں۔ وہ انہیں تکلیفیں محسوس نہ ہوئی تھیں۔ اب جو تکلیف انہیں ہوئی ہے اس سے ساری تکلیفیں بیدار ہو گئی ہیں۔ اب پٹرول کی قیمتوں میں چھ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ چیف صاحب کو چڑانے کے لئے کافی نہیں۔ یعنی ابھی پٹرول کی قیمتوں میں اور بھی اضافہ ہو گا اور ہوتا رہے گا۔ اسی دوران چیف صاحب نے بجلی کے نرخوں میں بھی ناجائز اضافے کے خلاف نوٹس لے لیا ہے لفظ ناجائز پر غور کریں اور پھر دیکھیں کہ ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے کیا وہ جائز ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بجلی کی قیمتوں میں بھی بے شمار اضافہ ہو گا۔ وہ جو چیف کے جانثار ہیں اور بے شمار ہیں ابھی تک بے شمار ہیں۔ انہیں کسی سے امید نہ تھی نہ حکمرانوں سے نہ سیاستدانوں سے نہ ایوانوں میں بیٹھنے والے انسانوں سے انہیں جج صاحبان سے بھی پہلے کوئی امید نہ تھی۔ یہ جج ہی تھے جنہوں نے سیاسی جرنیلوں کو آئینی اور قانونی جواز فراہم کیا۔ سیاسی امداد تو ان کو سیاستدانوں نے پہلے ہی دی ہوئی ہوتی ہے۔ مگر اللہ رحمتوں برکتوں اور طاقتوں سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نوازے۔ انہوں نے جرأت انکار کی پہلی اور انوکھی مثال قائم کی۔ لوگوں نے سمجھا کہ اس دلیر شخص کے ذریعے ہمارے دکھوں اور بے عزتیوں کا کوئی مداوا ہو گا۔ انصاف ہو گا اور بے انصافیوں کا زمانہ ختم ہو گا۔ قانون کی طاقت بحال ہو گی اور طاقت کا قانون بلکہ طاقت کی لاقانونیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بھی سیاستدانوں اور حکمرانوں کے وعدوں اور دعوئوں کی طرح کہیں گم ہو گیا ہے۔ ہم بھی گم ہوئے جا رہے ہیں۔
ہم اب بھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عدلیہ کی ساکھ کو راکھ میں ملا دے۔ مگر جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے وہ ہماری اجازت کے بغیر ہو رہا ہے۔ ہمیں آزاد عدلیہ کے غلاموں کا طعنہ دیا جا رہا ہے۔ مگر ہم چیف جسٹس کے منصب کو صدر اور وزیراعظم کے مناصب جیسا نہیں بننے دیں گے۔ ہم تو یہ سننا بھی نہیں چاہتے کہ چیف جسٹس کی بحالی کسی معاہدے کے تحت ہوئی ہے۔ کوئی ہماری جدوجہد کا مذاق اڑائے مگر ہم اپنے محبوب اور بہادر چیف جسٹس کے لئے کوئی ایسی ویسی بات سن نہیں سکتے۔ ہم جو نہیں سُن سکتے نہیں دیکھ سکتے‘ سن بھی رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں۔ صدر زرداری تو چیف صاحب کو بحال نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پھر جنرل کیانی درمیان میں آ گئے۔ نوازشریف کے لانگ مارچ کو شارٹ کٹ بنا دیا گیا۔
عدلیہ کو ایسا نوٹس بھی نہیں لینا چاہئے جس پر عملدرآمد نہ ہو سکے۔ چیف صاحب اس پر غور کریں کہ یہ ایک سوچی سمجھی سکیم ہے۔ اب عدلیہ کی ساکھ خراب نہیں ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس کا وہ حال نہیں ہونا چاہئے جو وزیراعظم کا ہوا ہے۔ پہلے کہا گیا کہ سمری پر وزیراعظم نے دستخط کئے پھر قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ یہ اضافہ خودکار فارمولے کے تحت خود بخود ہو گیا ہے۔ خود بخود کبھی کمی تو نہیں ہوئی ہے۔ شوکت ترین اور مخدوم گیلانی میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ویسے شوکت ترین کو چیف جسٹس چودھری کے مقابلے میں لایا گیا ہے۔ کچھ ایسے سووموٹو ایکشن چیف نے لئے ہیں جو سووموٹو ری ایکشن لگتے ہیں۔ ان کا ذکر کسی اگلے کالم میں ہو گا۔