اندھیر نگری چوپٹ راج

02 جولائی 2009
ملک میں گرمی کس شدت کی پڑ رہی ہے کون نہیں جانتا۔ حکمرانوں کے سوا؟ دن کے ساڑھے تین چار بجے ہوں گے ایک پچاس سال کے قریب کی عمر کے موٹر سائیکل سوار بتا رہے تھے‘ ’’مجھے چالیس کلومیٹر دور جانا ہے پٹرول ختم ہو رہا ہے کہیں سے ملتا نہیں کیا کروں؟‘‘ وہ ایک بند پٹرول پمپ کے پاس لگے ہجوم میں اس شدید گرمی اور دھوپ میں ٹیلی ویژن چینل کے رپورٹر کو اپنی مصیبت بتا اور سنا چکے تو باقی بھی اپنی اپنی داستان سنانے لگے کہ اس گرمی میں وہ کہاں کہاں خوار ہوتے آئے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہی گھر کیسے پہنچیں؟ چینل نے ملک بھر میں اپنے رپورٹروں کے حوالے سے پٹرول کی نایابی سے عوام کے مصائب کی جو تصویر دکھائی کہانی سنائی وہ ایک ہی جیسی تھی پٹرول سب پٹرول پمپ والوں کے پاس تھا رات کو قیمتیں بڑھ جانا تھیں اور پورے ملک کے طول و عرض میں کوئی ایک بھی پٹرول پمپ مالک اپنے ذخیرہ کو اس روز کی مقررہ قیمت پر بیچ نہیں رہا تھا پورے ملک میں عوام ذلیل و خوار ہو رہے تھے اور یوں ملک میں کسی ایک بھی جگہ کسی ایک بھی پٹرول پمپ مالک سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ تمہارے پاس پٹرول موجود ہے جو تم نے پہلے والی سستی قیمت پر خریدا ہوا ہے اسے بیچ کیوں نہیں رہے؟ ایسا تو کسی جنگل میں بھی نہیں ہوتا کہ سب ہی اندھیر اور لوٹ میں شامل ہوں‘ کسی سے پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہو۔ کیوں ایسا کیوں تھا؟ ایسا کیوں ہے؟ پٹرول پمپ مالکان کا تعلق زر اور زور والے طبقے سے ہے نیچے سے لیکر اوپر تک کے منتخب عوامی نمائندے ٹائون کمیٹیوں والے شہری اور ضلع حکومتوں والے صوبوں کی اور وفاق کی حکمرانی والے وزیر مشیر اور ارکان اسمبلی کا تعلق ان سے یا ان کے اپنے طبقہ سے ہے وہ ان میں سے ہیں ان کے عزیز و اقارب ہیں یا ان کے ممنون احسان ہیں وہ کیوں پوچھیں اور کیسے پوچھیں ان سے کہ تم نے یہ دھاندلی کیوں مچا رکھی ہے ہمارے ووٹروں اور عوام کو اس عذاب میں کیوں پھنسایا ہوا ہے؟ ضلعی شہری اور ٹائون حکومتوں کی سرکاری انتظامیہ ہر جگہ اس عذاب کو دیکھ رہی تھی اور ان اعلیٰ و ادنیٰ افسر شاہی میں سے کوئی ایک بھی وہ فرض ادا نہیں کر رہا تھا جس کے لئے وہ قوم سے بھاری تنخواہیں الائونس اور مراعات وصول کرتے ہیں۔ کیوں نہیں کر رہا تھا کوئی بھی اپنا فرض ادا؟ اپنی پوسٹ اور اس کی مراعات بچانے کے لئے وہ پمپ مالکان کے خلاف کوئی اقدام کر کے ان کی شاہی کو ناراض کر سکتا تھا؟ انہیں جنہوں نے اسے وہاں لگایا اور لگوایا ہوا تھا ان کے اپنا فرض ادا کرنے پر وہ مالکان انہیں اس پوسٹ پر سے تبدیل کرا دیتے اس روز ایسا ہر کوئی افسر شاہی عوام کے خرچ پر اس عذاب اور آگ کا تحفظ کر رہا تھا جس میں پورے ملک میں لوگ مبتلا تھے جل رہے تھے۔ صوبوں اور وفاق میں عوام کی منتخب حکومتیں بھی ہیں ہزاروں کی تعداد میں اسمبلیوں کے ارکان ہیں ایک عدد صدر پاکستان بھی ہیں ان کے وزیراعظم اور ایک سو کے قریب وزراء بھی تھے صوبوں میں اعلیٰ قسم کے وزراء اور ان کے مشیروں وزیروں کی دست بستہ ٹیمیں بھی تھیں کیا ان میں سے کسی ایک کو بھی کسی نے بتایا نہیں تھا کہ ان کی رعایا کس عذاب میں مبتلا ہے؟ آخر کیوں نہیں لیا تھا ان ہزاروں میں سے کسی ایک نے بھی عوام کے اس عذاب کا نوٹس؟ کیوں نہیں پوچھا تھا کسی ایک بھی پمپ پٹرول والے سے کہ تم بیچ کیوں نہیں رہے پٹرول؟ کیا ان میں سے کسی ایک کی بھی یہ ذمہ داری نہیں تھی؟ تو کیا اس بات کو مان لیا جائے کہ یہ سب ملی بھگت تھی عوام کا خون چوسنے والے خادم و مخدوم صاحبان کی؟ چلو نہ بھی مانیں تو بھی اس سے اختلاف ممکن ہے کہ یہ سب ایک ہیں حکمرانی والے وزارتوں اور مشاورتوں والے اور پٹرول پمپوں والے… اندھیر نگری چوپٹ راج تو اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے ورنہ کسی تھوڑے سے بھی انسانی معاشرے میں کوئی انسان اتنے لوگوں کے ایسے عذاب سے اتنا بے نیاز تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ ہو سکتا ہے کوئی انسان ایک بھی کسی انسان کے ایسے عذاب سے بے نیاز؟ اگر کسی نے اپنا فرض ادا کیا ہوتا تو ایسا عذاب نازل ہو سکتا تھا پورے ملک کے عوام پر؟ ادھر قیمتوں میں اضافے کی وزیراعظم نے منظوری دی اور ساتھ ہی ہر پٹرول پمپ پر پٹرول عام ہو گیا تھا جو چند منٹ پہلے کہیں بھی نہیں تھا۔ وہ جو خونیں انقلاب سے ڈراتے ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ کون دے رہا ہے ایسے خونی انقلاب کو دعوت؟ کس کے خلاف ہو گا یہ انقلاب؟ ہے کوئی خون چوسوں کے سوا اور بھی جس کا اس انقلاب سے کوئی نقصان ہو گا؟ خویش پروری اور خود غرضی کی حاکمیت والوں کا یہ تو فرض اولیں ہے کہ وہ عوام کے خرچ پر عوام کو فریب دیں لیکن اپنے کو تو فریب نہ دیں۔ یہ فریب کہ ہم سب خیریت سے رہیں گے۔ اس روز کہیں بھی کسی کی حکمرانی کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا اس وسیع و عریض اندھیر نگری میں؎
بنھیا چوراں دی وڈیائی گون دی
ڈاکواں نوں ولی اللہ بنائون دی
عوام دے گل تے چھری چلائون دی
کھلی چھٹی کنوں نئیں؟