امریکی سفارتخانے نے سپریم کورٹ کے صدر علی احمد کرد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا

02 جولائی 2009 (11:10)
نیویارک (طیبہ ضیاءسے) امریکی سفارتخانے کی جانب سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور وکلاءتحریک کے روح رواں علی احمد کرد کو ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا (APPNA) کی جانب سے علی احمد کرد کو مہمان خصوصی کے طور پر سالانہ سہ روزہ تقریب میں مدعو کیا گیا تھا جو آج سے کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں شروع ہورہی ہے۔ پاکستان میں آزاد عدلیہ کی جدوجہد کی علامت علی احمد کرد کو مہمان خصوصی کے طور پر 3 اور 4 جولائی کو اس سہ روزہ تقریب میں خطاب کی بھی دعوت دی گئی تھی تاہم امریکی سفارتخانے کی جانب سے ویزا نہ دئیے جانے کے باعث سپریم کورٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔ اسلام آباد میں امریکی قونصیلٹ جنرل کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے کلیئرنس ملنے تک علی احمد کرد کو امریکی وزا جاری نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی حلقوں اور پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا (APPNA) کی جانب سے علی احمد کرد کو ویزا جاری نہ کئے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کی تحریک کے سرخیل کو ویزا نہ دیکر نہ صرف پاکستانی بلکہ پوری پاکستانی قوم کی تضحیک کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ علی احمد کرد ایڈووکیٹ کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے سابق ترجمان اطہر من اللہ ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر جاوید ہاشمی بھی \\\"اپنا\\\" کے سالانہ اجتماع میں مدعو ہیں۔ جاوید ہاشمی سان فرانسسکو پہنچ چکے ہیں جبکہ اطہر من اللہ ایڈووکیٹ تقریب میں شرکت کیلئے امریکہ چلے گئے ہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق علی احمد کرد نے کہا ہے کہ امریکی قونصل خانے نے ویزا اور پاسپورٹ واپس نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ امریکہ نہیں جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ عملہ ویزا اور پاسپورٹ واپس دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔