قبائلی علاقوں میں 3300 شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے‘ سوا دو ارب ڈالر کا نقصان

02 جولائی 2009
پشاور (مانیٹرنگ نیوز) فاٹا سیکرٹریٹ نے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی اور شدت پسندی کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر مبنی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق قبائلی علاقوں میں سوا دو ارب ڈ الر کا نقصان ہوا ہے۔ 21 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے دیگر شہروں کی نسبت قبائلی علاقوں میں کہیں زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا دہشت گردی کے واقعات میں تین ہزار 300 قبائلی جاں بحق ہوئے ۔ سب سے زیادہ باجوڑ ایجنسی میں 600 قبائلیوں کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا۔ کرم ایجنسی‘ شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی میں پانچ پانچ سو بے گناہ قبائلی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دہشت گردی کے واقعات میں تین ہزار سے زیادہ قبائلی زخمی بھی ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ 103 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ معاشی طور پر قبائلی علاقوں میں 119 ملین ڈالر کا نقصان ہوا‘ سماجی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ایک ہزار 109 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ شدت پسندی کے باعث قبائلی علاقوں میں درختوں‘ جنگلات اور زرعی زمینوں کو ہونے والے نقصان کا اندازہ 188 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اسی طرح سکیورٹی اور آئی ڈی پیز پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ 5 سو 72 ملین ڈالر ہے۔ رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں ہسپتال‘ سکول‘ سڑکیں‘ گرڈ سٹیشنز اور پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی تباہ کر دئیے گئے۔ اسی طرح گھروں‘ دکانوں‘ کارخانوں اور زرعی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شدت پسند جدید اسلحے سے لیس ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں خاصہ داروں کے پاس مزاحمت کے لئے قابل اعتماد اسلحہ نہیں اسی طرح خاصہ دار اور لیوی اہلکاروں کو ماہانہ ساڑھے تین ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ شدت پسندوں کو دس سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ دئیے جاتے ہیں اور یہی تفریق قبائلی علاقوں میں بغاوت کا باعث بنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں کی تعمر و ترقی کیلئے دو ارب ڈالر درکار ہیں۔