دشمنوں کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا : شہباز شریف

02 جولائی 2009
لاہور (اے پی پی/ ریڈیو مانیٹرنگ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیرصدارت ایوان وزیراعلیٰ میں مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کے اجلاس میں جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی‘ قتل و غارت‘ فساد اور خودکش حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اُسے اسلام و انسانیت کے خلاف قرار دیا گیا اور اُمت اسلامیہ کا بے جا خون بہانے والوں کا فی الفور محاسبہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لئے جدوجہد کرنے والے ملکی اداروں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا اور مولانا سرفراز نعیمی شہید و مولانا حسن جان شہید کی شہادت کے المناک سانحات کے ذمہ داروں کی پرزور مذمت کی گئی۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام نے ہمیشہ ملک میں امن و آشتی‘ بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنا مئوثر کردار ادا کیا ہے‘ ہمارے دشمنوں نے مولانا محمد سرفراز نعیمی اور مولانا حسن جان کو ہم سے چھین کر ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی لیکن علمائے کرام نے مثالی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں انتشار و غیریقینی کی صورتحال پیدا کرنے کی مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا۔ جس سے ملک دشمن عناصر کو مایوسی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امن کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنانا ہے اور اس مقصد کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں مکمل اتحاد و یگانگت پیدا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ بہت جلد ملک بھر سے علمائے کرام کی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں آج کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ کی روشنی میں آگے بڑھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے علمائے کرام و مشائخ عظام کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں مشترکہ اعلامیے پر مبارکباد دی۔ اجلاس میں چیئرمین متحدہ علماء بورڈ و صاحبزادہ فضل کریم‘ مولانا حنیف جالندھری‘ مولانا فضل الرحیم‘ مولانا امجد خان‘ مولانا زاہد راشدی‘ پیر محمد افضل قادری‘ سید محفوظ مشہدی‘ سید محمد صفدر‘ مولانا غلام محمد سیالوی‘ محمود حسین شیخ‘ مولانا محمد شریف ‘ مولانا رشید میاں‘ مولانا عبدالرئوف ربانی‘ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ‘ رانا ثنا اللہ خان‘ صوبائی وزیر حاجی احسان الدین قریشی‘ مشیر راجہ اشفاق سرور‘ خواجہ عمران نذیر اور دیگر اعلیٰ حکام اجلاس میں موجود تھے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کہا کہ ملک آج انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اسے شدت پسندی و انتہا پسندی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر پولیس‘ انتظامیہ اور ہر پاکستان کو اپنا مئوثر کردار ادا کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں امن و امان کے قیام سے بڑھ کر اور کوئی ترجیح نہیں ہو سکتی اور حکومت اس مقصد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لئے خصوصی فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف ایجنسیوں کے مابین قریبی رابطے کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہروں کے داخلی راستوں پر خصوصی چیک پوسٹوں کے قیام اور کلوز سرکٹ ٹی وی کی تنصیب کی بھی ہدایت کی۔ منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سید منور حسن اور لیاقت بلوچ کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہاکہ فوجی آپریشن پر عوامی حمایت مختصر مدت کے لئے ہے یہ آپریشن جلد ختم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و زیادتی کے باعث انتہاپسندی کو فروغ ملا۔ ایوان وزیراعلیٰ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے سوات متاثرین کی امداد کیلئے 55 لاکھ روپے کا چیک پیش کئے جانے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ متاثرین کی امداد میں حصہ لینے والے نیک کام کر رہے ہیں اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی امداد کرنے والوں کو اللہ خود اجر سے نوازے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام متاثرین کی امداد میں جس طرح بڑھ چڑھ کر اور جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پنجاب دیگر صوبوں کا بڑا نہیں بلکہ برابر کا بھائی ہے اور دکھ سکھ کی ہر گھڑی میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔جن افراد نے وزیراعلیٰ کو متاثرین کے لئے چیک پیش کئے ان میں اعظم کلاتھ مارکیٹ کے حافظ عابد علی ‘ ملک نوازش علی ‘ حاجی لیاقت علی نے 25 لاکھ‘ جاوید حبیب گورائیہ نے 10لاکھ ‘ ڈاکٹر آصف و چوہدری عثمان نے 10 لاکھ ‘ فیصل ملک اور میاں دائود افضل نے 5 لاکھ روپے دئیے۔ ممبر صوبائی اسمبلی فرح دیبا اور چیئرمین ٹاسک فورس ایس اے حمید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی اور اپنے علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں اور مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اراکین اسمبلی عوام کے مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دیں۔ ملاقات کرنے والوں میں بلیغ الرحمن‘ رانا اقبال ہرناہ‘ مخدوم علی رضا‘ میاں یاسین سوہل‘ سید ناظم حسین‘ نواز ملک اور شبیر اعوان شامل تھے۔ وزیراعلیٰ مسلم لیگ کے ممبر صوبائی اسمبلی اسد اشرف کے گھر گئے اور ان کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور درجات کی بلندی کے لئے دعا بھی کی۔