دریائے فرات کے کنارے کتا مرنے کا ذمہ دار خلیفہ‘ یہاں قیدی ہلاک ہو تو کون ذمہ دار ہے : چیف جسٹس

02 جولائی 2009
اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت + ثناء نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ صوبے کی عدالتوں کے قریب بخشی خانے تعمیر کئے جائیں اور قیدیوں کے لئے پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ریمارکس دئیے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی مر جائے تو اس کے ذمہ دار حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اور اگر یہاں کوئی قیدی مر جائے تو کون ذمہ دار ہے؟ حضرت عمرؓ کی طرح گلیوں میں گھوم کر لوگوں کی تکالیف دور کرنا گڈ گورننس ہے اور اب گڈ گورننس حکومت نے قائم کرنی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ ریمارکس منڈی بہائو الدین کی تحصیل ملکوال میں بخشی خانہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کو پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دیئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم قیدیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ عدالت کو وہاں سے شفٹ کیا جانا چاہئے، جہاں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں۔ اس دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ایسے علاقوں میں عدالتیں بنا دی جاتی ہیں جہاں انفراسٹرکچر ہی نہیں ہوتا اور وہاں جانے کے لئے وکلاء اور قیدیوں سمیت دوسرے شہریوں کو بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے اپنی رپورٹ کے ذریعے آگاہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کو بخشی خانہ نہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے جس پر عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ملکوال میں بخشی خانہ نہیں ہے چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود چیف سیکرٹری پنجاب کو لکھیں اور عدالت عظمیٰ کے آرڈر کی کاپی بھی انہیں فراہم کی جائے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صرف ملکوال نہیں حسن ابدال سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بخشی خانے نہیں ہیں جہاں جوڈیشل افسران، وکلاء اور قیدیوں کے لئے بخشی خانہ اور پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کے لیے بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے چیف سیکرٹری سے اس حوالے سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر تے ہوئے ازخود نوٹس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔ ادھر راجن پور کے شہری پیراں دتہ کی درخواست پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرے، اگر پولیس عوام کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کرے گی تو عوام کے لئے مشکل پیدا ہو جائے گی، ہم پولیس کو مفلوج نہیں کرنا چاہتے، پولیس اگر عدالتوں کے حکم پر عمل نہیں کرے گی تو نظام کیسے چلے گا؟ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عدالتوں سے بڑے افسر ہیں۔ آپ کو عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا اور آپ نے حکم کی تعمیل نہیں کی‘ چیف جسٹس نے سیشن کورٹ کو ہدایت کی کہ پیراں دتہ کے خلاف چالان کئے گئے دونوں مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہوئے 6 ہفتوں کے اندر مقدمات نمٹائے اور فیصلہ عدالت عظمیٰ میں بھیجا جائے۔ مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور چودھری اعجاز احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔