چوہدری غفور کی 8 ‘ بشریٰ گردیزی کی ایک روز کیلئے رکنیت معطل ‘ ایوان میں داخلہ بند

02 جولائی 2009
لاہور (خبر نگار + نیوز رپورٹر + سپیشل رپورٹر + اے پی پی) سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان نے 29 جون کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ہونیوالے جھگڑے کو نمٹاتے ہوئے رولنگ دیتے ہوئے وزیر برائے جیلخانہ جات اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چودھری عبدالغفور کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کا 8 دن اور مسلم لیگ (ق) کی خاتون رکن سیدہ بشریٰ نواز گردیزی کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کا ایک دن کیلئے ایوان میں داخلہ بند کرتے ہوئے انہیں کارروائی میں حصہ لینے سے روک دیا۔ قبل ازیں اس معاملے کو نمٹانے کیلئے پنجاب اسمبلی میں صبح 9 بجے مذاکرات کا آغاز ہوا جس میں اپوزیشن کی طرف سے چودھری ظہیرالدین اور مونس الٰہی نے حصہ لیا جبکہ حکومت کی طرف سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی سربراہی میں کمیٹی نے حصہ لیا۔ بعد ازاں گیارہ بجکر 15 منٹ پر اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے کہا کہ وہ 29 جون کو ایوان میں ہونیوالے افسوسناک واقعہ کے بارے میں رولنگ دینا چاہتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ ایوان میں جو واقعہ ہوا وہ بے حد افسوسناک ہے۔ مگر اس حوالے سے کوئی ضابطہ اخلاق بھی نہیں لیکن اسمبلی کے وقار اور پارلیمانی روایات کو بحال رکھنے کیلئے تمام پارٹیوں کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی ڈپٹی سپیکر کی سربراہی میں قائم کی جاتی ہے جو اس حوالے سے ضابطہ اخلاق طے کرے گی۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کی دفعہ 210 کے تحت سیدہ بشریٰ نواز گردیزی کو ایک دن (یکم جولائی) اور چودھری عبدالغفور کو 8 دن کیلئے کارروائی میں حصہ لینے سے روکا جاتا ہے۔ دونوں ارکان یا ان کے نمائندے ایوان میں واپسی پر معذرت بھی کریں گے۔ سپیکر کی طرف سے سزا کے اس اعلان کے فوراً بعد ڈپٹی سپیکر کی سربراہی میں وزراء ندیم کامران‘ تنویر کائرہ اور کامران مائیکل اپوزیشن کو ایوان میں لیکر آئے۔ رانا ثنااللہ نے سپیکر کے فیصلے کو سراہتے ہوئے ان کو اپنے اور حکومت کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ اس فیصلے کو سراہتے ہیں۔ قواعد کے تحت کام ہونے چاہئیں۔ پورا ایوان تعاون کرے گا۔ قائد حزب اختلاف چودھری ظہیرالدین نے کہا کہ سپیکر کا فیصلہ قابل ستائش ہے جسے اس ایوان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ 29 جون کے واقعہ کو کسی نے بھی نہیں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کریں گے۔ بشریٰ گردیزی کی طرف سے معذرت چاہتا ہوں۔ سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ وہ سپیکر کے فیصلے سے مکمل اتفاق اور اس کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چودھری عبدالغفور کے بھی شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 29 جون کے ناخوشگوار واقعہ پر شرمندہ ہیں اور چودھری عبدالغفور کی طرف سے معذرت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔ کچھ افراد ساری بساط لپیٹنا چاہتے ہیں ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہو گا۔ جو ہو چکا اسے دل سے نکال دینا چاہئے۔ دریں اثنا پنجاب اسمبلی میں سینئر وزیر راجہ ریاض اور اپوزیشن رکن محسن لغاری نے بھی ایک دوسرے سے معافی مانگ لی اور ایک دوسرے کو معاف کر دیا۔ سپیکر رانا محمد اقبال خان کی طرف سے وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور اور اپوزیشن رکن سیدہ بشریٰ نواز گردیزی کو سزا سنائے جانے کے بعد سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے شکرگذار ہیں اور محسن لغاری سے معذرت خواہ ہیں۔ مگر اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ خیال رکھیں کہ جیسے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی ان کے لیڈر ہیں۔ ویسے ہی آصف علی زرداری ہمارے لیڈر اور پاکستان کے صدر ہیں۔ ان کا نام نہ صرف پورا لیا جائے بلکہ احترام سے لیا جائے۔ ان سے متعلق بات کرنے سے پہلے تصدیق بھی کر لی جائے۔ محسن لغاری نے راجہ ریاض کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی ان کے اور ان کے خاندان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ اسے معاف کرتے ہیں۔ جس نے معافی نہیں بھی مانگی وہ اسے بھی معاف کرتے ہیں۔ ریڈیو نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری عبدالغفور کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والا فیصلہ انہیں وفاق کی طرف سے ایک نوٹس ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی سے محبت کرتے ہیں 29 جون کا واقعہ عقل کی نہیں پارٹی سے محبت کی بات تھی۔ (ق) لیگ فارورڈ بلاک کے رکن اسمبلی عطا مانیکا کی طرف سے راجہ ریاض کو پیپلز پارٹی کا سینئر مجاور کہنے پر پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور عطا مانیکا کے خلاف لوٹے لوٹے اور غلام کے نعرے لگائے۔ اجلاس میں مسودہ قانون واہ یونیورسٹی مسودہ 2009ء (مسودہ قانون نمبر 12 بابت 2009ئ) اور مسودہ قانون جنرل پراویڈنٹ انویسٹمنٹ فنڈ پنجاب مسودہ 2009ء متفقہ طور پر منظور کر لئے گئے۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر بیت المال احسان الدین قریشی اور وزیر سماجی بہبود کامران مائیکل کو ارکان کے سوالوں کے جواب دینے پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اجلاس میں ڈاکٹر اسد اشرف کے والد کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی اور اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔ سپیشل رپورٹر کے مطابق پنجاب اسمبلی حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر واہ کینٹ یونیورسٹی کا بل اور جنرل پراویڈنٹ انوسٹمنٹ فنڈز کا بل منظور کر لیا ہے۔