کینال ویو میں مبینہ مقابلہ ‘ 4 افراد ہلاک ۔۔۔ ڈاکو تھے‘ پولیس کا دعویٰ

02 جولائی 2009
لاہور (نامہ نگار) ہنجر وال کے علاقے کینال ویو ہائوسنگ سکیم میں سی آئی اے صدر ڈویژن پولیس نے مبینہ مقابلے کے دوران چار افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو تھے اور واردات کے دوران پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے جبکہ دو ڈاکو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق چاروں افراد زیر حراست تھے جنہیں کینال ویو سوسائٹی میں لے جا کر ہلاک کرنے کے بعد پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچا دیا گیا۔ پولیس نے نعشیں قبضے میںلیکر پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے بھجوا دی ہیں۔ پولیس کے مطابق سی آئی اے صدر کا سب انسپکٹر بشیر نیازی دیگر پولیس اہلکاروںکے ہمراہ اشتہاری ملزم بابر علی کی گرفتاری کے لئے چوہنگ گیا۔ جب وہ واپس چوک ٹھوکر نیاز بیگ پہنچے تو انہیں وائرلیس پر اطلاع موصول ہوئی کہ اے بلاک کینال ویو میںتحصیل ناظم بورے والا شعیب کے گھر میں مسلح ڈاکو گھسے ہوئے ہیں جنہوں نے فیملی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ جس پر مزید نفری منگوائی گئی فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹہ جاری رہا کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز بند ہوئی تو وہاںچار ملزمان کی نعشیں پڑی تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک اشتہاری مجرم محمد بوٹا عرف بوٹی کے سر کی قیمت حکومت پنجاب نے اڑھائی لاکھ مقرر کر رکھی تھی جبکہ دیگر تین ملزمان میں ڈکیت محمد بشیر ، صبغت اللہ اور معظم الدین شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ زرائع کے مطابق پولیس نے ہتھکڑی لگے چاروںافراد کو گاڑیوں سے نکال کر گھر کے اندر لے جاکر ان چاروں کی ہتھکڑیاں کھول دیں اور چاروں کو گھر سے باہر جانے کا کہا۔ باہر پہلے سے ہی موجود پولیس اہلکاروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کی زد میںآ کر چاروں افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ جس کے بعد پولیس نے مقابلے کی کال چلا دی۔ علاوہ ازیں بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہو نے والے چاروں ملزمان نے کچھ عرصہ قبل کینال ویو سوسائٹی میں ایک گھر میں واردات کے دوران ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا‘ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر محمد پرویز راٹھورنے پولیس ٹیم کے لئے تعریفی اسناد اور نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔