منگلہ پاور ہائوس کا فالٹ دور کرنے میں ایک مہینہ لگ سکتا ہے : واپڈا رپورٹ

02 جولائی 2009
منگلا/ اسلام آباد/ لاہور (نامہ نگار+ نیوز ایجنسیاں+ ریڈیو نیوز) واپڈا اور پیپکو کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق منگلا پاور ہائوس کا فالٹ واپڈا انجینئرز اور اعلیٰ انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے اور 1100میگاواٹ کی مکمل پیداوار حاصل کرنے کیلئے 25سے 30روز لگ سکتے ہیں جبکہ کیبلز کی دوبارہ تنصیب پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ آئے گا۔ ذرائع کے مطابق منگلا پاور ہائوس بند ہونے کی وجہ سے ملک میں بجلی کے شاٹ فال میں 1100میگاواٹ مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ 1100میگاواٹ بجلی کی کمی سے روزانہ واپڈا کو تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ منگلا پاور ہائوس قائم ہونے کے بعد یہ پہلا بڑا حادثہ پیش آیا ہے۔ ادھر چیئرمین واپڈا شکیل درانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام گذشتہ روز منگلا پہنچ گئے جبکہ واپڈا ترجمان کے مطابق منگلا سے بجلی کی بحالی کیلئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں۔ دریں اثناء اے پی پی کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے ترجمان نے کہا ہے کہ بجلی کی طلب میں اضافہ کی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال بڑھ کر 3010میگاواٹ ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں منگلا ڈیم سے بجلی کی سپلائی میں تعطل سے پیدا شدہ بحران ختم کرنے کیلئے وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے قلیل المدتی اقدامات کی سفارش کرے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ واپڈا نے بتایا ہے کہ منگلا پاور ہائوس سے آئندہ چار یا پانچ روز میں بجلی بحال ہو جائیگی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شیڈول کے بغیر بالکل لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ ادھر اے پی پی کے مطابق چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کہا ہے کہ ایک ہفتے بعد لوڈشیڈنگ میں بتدریج کمی ہونا شروع ہو جائے گی جبکہ واپڈا نے تاجروں کے کاروباری مسائل کے باعث شام 5 بجے سے لیکر رات 9بجے تک لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آن لائن کے مطابق خصوصی گفتگو میں چیئرمین واپڈا نے کہا کہ منگلا پاور ہائوس سے آئندہ ہفتے بجلی بحال کر دی جائیگی۔ علاوہ ازیں جی این آئی کے مطابق لاہور میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے نیپرا نے لیسکو حکام سے 7روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ آن لائن کے مطابق ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت چیمہ نے کہا کہ 3700میگاواٹ تک خسارے کا سامنا ہے۔ آن لائن کے مطابق گرمی میں شدت کے باعث پہاڑوں پر برف تیزی سے پگھلنے لگی جس سے نہ صرف دریائوں میں پانی کے بہائو میں تیزی آ گئی ہے بلکہ تربیلا اور منگلا ڈیم بھی بھرنے لگے‘ تربیلا ڈیم میں 44فٹ اور منگلا ڈیم کے بھرنے میں 55فٹ پانی کی گنجائش رہ گئی۔